فکری انحراف: اسباب وعلاج
امام ابن بطہ اپنی کتاب الابانة الكبرى (451) میں اہل بدعت کے ساتھ مجالست اور انکی مخالطت کے برے اثرات کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ” میں نے بہت سے افراد کو دیکھا جو اہل بدعت کو گالیاں دیتے تھے اور انہیں برا بھلا کہتے تھے، یہاں تک کہ وہ ان سے مناظرے اور گفتگو کے نام پر ان کی مجلسوں میں شریک ہونے لگے اور کچھ عرصے بعد ان کے شبہات کے جال میں پھنس کر ان کے ہم مشرب ہوگئے، اسلئے ہم بعض صحابہ کرام کو دیکھتے ہیں کہ وہ اہل بدعت کی باتوں کو سننا بھی گوارہ نہیں کرتے تھے، جيسا کہ امام لالکائی نے ابن عمر ابن مسعود اور ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہم سے اپنی کتاب شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة (188 189) ، میں نقل فرمایا ہے۔
کیا مسلم حکمرانوں کے خلاف (خروج) بغاوت مختلف فیہ مسئلہ ہے؟
سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اور کہا: اللہ کے نبیﷺ! آپ کیسے دیکھتے ہیں کہ اگر ہم پر ایسے لوگ حکمران بنیں جو ہم سے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں اور ہمارے حق ہمیں نہ دیں تو اس صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے اس سے اعراض فرمایا، اس نے دوبارہ سوال کیا، آپ نے پھر اعراض فرمایا، پھر جب اس نے دوسری یا تیسری بار سوال کیا تو اس کو اشعث بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ نے کھینچ لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سنو اور اطاعت کرو کیونکہ جو ذمہ داری ان کو دی گئی اس کا بار ان پر ہے اور جو ذمہ داری تمہیں دی گئی ہے، اس کا بوجھ تم پر ہے۔‘‘
کیا مسلم حکمرانوں کے خلاف (خروج) بغاوت مختلف فیہ مسئلہ ہے؟
صحابہ کرام نے نبی اکرم ﷺ کا لایا ہوا خالص دین مکمل امانت داری کے ساتھ امت تک پہنچایا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت تمام عقائد اسلام کا حقیقی چہرہ اور قرآن و حدیث کی درست تعبیر ہے، جس میں نصوص کتاب و سنت کا التزام اور انحراف سے نجات ہے۔
ان کے بالمقابل اہل بدعت ہیں، جنہوں نے کتاب و سنت پر اپنی ناقص وکج فہم عقل کو فوقیت دی اور دلائل سے روگردانی کرتے ہوئے دین میں نت نئی بدعات ایجاد کی، باطل تاویل وتحریف کا سہارا لے کر مختلف اقسام کی بدعات کو وجود بخشا۔
ان کے باطل افکار کی تردید کے لئے اللہ رب العالمین نے اس امت میں ایسے علما کو پیدا کیا جنہوں نے تمام منحرفانہ افکار کی خوب خوب خبر لی ہے، اور امت کو ان کے فتنوں سے باخبر کیا ہے۔
سلف صالحین کی کتابیں انحراف سے بچاؤ اور جادہ حق کی صحیح راہنما ہیں، اہل بدعت کے خلاف کاٹ دار تلوار اور برق آسمانی کے مثل ہیں۔ انہوں نے اہل سنت کے عقائد کی بھی توضیح کی ہے اور اہل بدعت کے فاسد عقائد کی تردید بھی، اہل حق کی نشانیاں بھی بتائی ہیں اور منحرفین کا پردہ بھی فاش کیا۔ وللہ الحمد والمنہ۔
حاکم کے خلاف خروج کا مسئلہ ان اہم مسائل میں سے ایک ہے جسے سلف صالحین نے اہل سنت کے خصوصی اعتقاد میں ذکر کیا ہے، اور جسے اہل سنت و اہل بدعت کے درمیان حد فاصل بھی بتایا ہے۔
اہل بدعت کی ہم نشینی اختیار نہ کرو
علامہ عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ ایک حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اے مسلمانوں! اہل بدعت کی ہم نشینی اختیار نہ کرو، اور نہ ہی ان سے گفتگو کرو، بدعتی اہانت و رسوائی کے حقدار ہیں.لوگوں کو بدعی…
دعوت الی اللہ کا طریقہ کار.
خلاصہ یہ کہ دعوت کا اسلوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم والا اور سلف صالحین والا ہونا چاہیے، دعوت الی اللہ کو امیر و غریب کے درمیان تقسیم نہ کیا جائے کہ امیروں کو دعوت دینے کا انداز الگ ہوتا ہے اور غریبوں کو دعوت دینے کا الگ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کو بھی اسلام کی دعوت دی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی معرفت انہیں توحید کا پیغام بھیجا، لیکن کسی بھی صحابی کو یہ نہیں کہا کہ بادشاہ کے پاس دعوت لے کر جانے کیلئے بادشاہ کے مزاج کے مطابق ڈریسنگ کرلو، ان لائف اسٹائل کے مطابق انٹری مارنا، اور جس طرح وہ دعوت الی اللہ کو سمجھنا چاہیں ویسے سمجھانا، بلکہ سیدھا سیدھا توحید کی دعوت.
ایسا نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور سلف صالحین کے زمانے میں امیروں کو دعوت نہیں دی گئی، سب کو یکساں دعوت دی گئی.



