# Salafi Manhaj > فہم کتاب وسنت کا واحد راستہ ## Posts - [مرد اور عورت کے سجدے میں فرق کا مسئلہ](https://salafimanhaj.info/2454/): کچھ عرصہ قبل مفتی طارق مسعود صاحب کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں موصوف نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ خواتین کے سجدہ کا طریقہ مردوں سے مختلف ہے. - [مساجد میں عصری تعلیم کے مراکز قائم کرنے کا حکم](https://salafimanhaj.info/2451/) - [سلفی علما اور منہج سلف کے  چند اہم مسائل پر](https://salafimanhaj.info/2445/) - [](https://salafimanhaj.info/2434/) - [صدقہ  فطر   کے احکام ومسائل اور چند  شبہات  کا  ازالہ](https://salafimanhaj.info/2428/) - [دو ماہی منہج سلف](https://salafimanhaj.info/2421/) - [سبّ صحابہ، معانی، مفہوم اور حکم](https://salafimanhaj.info/2351/) - [مولانا عبد اللطیف مدنی صاحب اڈوپی اور جامعہ دار السلام عمرآباد کا دفاع](https://salafimanhaj.info/2340/): چونکہ انسان خطا و نسیان اور غفلت و تساہل کا مرکب ہے، اس لئے کبھی فہم میں، تطبیق میں یا بیان میں غلطی و لغزش ہو جاتی ہے، ایسی صورت میں ایک مسلمان بالخصوص اہل حدیث ہونے کے ناطے یہ واجب ہوتا ہے کہ اس غلطی اور لغزش کی تردید کی جائے، صحیح بات سامنے رکھی جائے، اور سامنے والے کو بھی چاہیے کہ حق کو حق پیرائے میں قبول کریں، بے جا تاویل کرکے حق کو بدنما نہ بنائیں، کیونکہ الرجوع الی الحق خیر من التمادی فی الباطل. - [ماہنامہ منہج  سلف](https://salafimanhaj.info/2335/) - [صدقہ  فطر   کے احکام ومسائل اور چند  شبہات  کا  ازالہ](https://salafimanhaj.info/2330/) - [کلمۂ توحید ’’لا الہ الا اللہ‘‘: معنی، نام، شروط اور فضائل](https://salafimanhaj.info/2320/) - [’’اہل بدعت‘‘ کی اصطلاح:  مفہوم اور ضابطہ](https://salafimanhaj.info/2298/) - [کیا "شرح اصول اعتقاد اہل السنہ" امام لالکائی کی کتاب  نہیں   ہے؟](https://salafimanhaj.info/2283/): جیسے: یحیی بن ابی الخیر سالم العمرانی (ت: ٥٥٨ھ) نے اپنی کتاب "الانتصار فی الرد علی المعتزلۃ القدریۃ الاشرار" ([2]) میں، ابن الجوزی رحمہ اللہ (ت: ٥٩٥ھ) نے اپنی کتاب "المنتظم فی تاریخ الملوک والامم ([3]) میں، بلکہ انہوں نے اس کتاب کو اسناد کے ساتھ روایت بھی کیا ہے، عبد الغنی المقدسی رحمہ اللہ (ت: ٦٠٠ھ)، نے اپنی کتاب "عقیدۃ المقدسی" ([4]) میں، ابن نقطہ رحمہ اللہ (ت: ٦٢٩ھ) نے اپنی کتاب "التقیید لمعرفۃ السنن والمسانید" ([5]) میں، اور انہوں نے ذکر کیا ہے کہ امام لالکائی کی اس کتاب کو محمد عبد القادر الرُّھاوی، اور عبد الغنی بن عبد الواحد المقدسی نے حافظ ابو طاہر السِّلفی سے اسناد کے ساتھ سنا ہے، ابن ابی شامہ رحمہ اللہ (ت: ٦٦٥ھ) نے اپنی کتاب "الباعث علی انکار البدع والحوادث"([6])، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (ت: ٧٢٨ھ) نے اپنی کتاب "الفتوی الحمویۃ الکبری([7]) میں، اور دیگر تصانیف میں بھی، بدر الدین بن جماعۃ (ت: ٧٣٣ھ) نے اپنی کتاب "ایضاح الدلیل فی قطع حجج اہل التعطیل" ([8]) میں، ذہبی (ت: ٧٤٨ھ) نے "سیر أعلام النبلاء" ([9]) میں، ابن رجب الحنبلی (ت: ٧٩٥ھ) نے "جامع العلوم والحکم ([10]) میں، ابن المقلن (ت: ٨٠٤ھ) نے " التوضيح لشرح الجامع الصحیح" ([11]) میں، ابن حجر (ت: ٨٥٢ ھ) نے "الإصابة فی تمییز الصحابۃ" ([12]) میں، العینی (ت: ٨٥٥ھ) نے "عمدۃ القاری" ([13]) میں، سیوطی (ت: ٩١١ھ) نے "الدر المنثور" ([14]) میں، مرعی بن یوسف الحنبلی (ت: ١٠٣٣ھ) نے "أقاویل الثقات فی تاویل الأسماء والصفات..." - [ماہنامہ منہج  سلف](https://salafimanhaj.info/2278/) - [ڈاکٹر ذاکر نائک اور متعالمین کو نصِیحت](https://salafimanhaj.info/2272/) - [نوجوانان اہل حدیث سے مفقود ہوتی منہجی غیرت (قسط 5)](https://salafimanhaj.info/2269/): امام ابن سیرین رحمہ اللہ نے متعدد صحابہ کرام کے متعلق بیان کیا ہے کہ وہ "صحیح منہج کے حاملین" کو "اہل سنت" کے لقب سے ملقب کرتے تھے۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "لَمْ يَكُونُوا يَسْأَلُونَ عَنِ الْإِسْنَادِ، فَلَمَّا وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ، قَالُوا: سَمُّوا لَنَا رِجَالَكُمْ، فَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ السُّنَّةِ فَيُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ، وَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ الْبِدَعِ فَلَا يُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ". - [نوجوانان اہل حدیث سے مفقود ہوتی منہجی غیرت (قسط ۴)](https://salafimanhaj.info/2266/): اہل بدعت کی تقریریں سننا، ان کی کتابیں پڑھنا اور ان کی مدح وتعریف میں رطب اللسان ہونا؛ موجودہ دور کے عظیم فتنوں میں سے ایک ہے، جس کے شکار عوام کے ساتھ ساتھ بعض اہل علم بھی ہوچکے ہیں، نتیجتاً اس قسم کے لوگوں میں "ذرا سی سلفیت" اور "پوری مودودیت" موجود ہوتی ہے، چنانچہ جب ہم منہج کے سلسلے میں کوئی گفتگو کرتے ہیں یا منہجی انحراف پر رد کرتے ہیں تو اس قسم کے "فکر مودودی" کے حاملین یا ان سے متاثر حضرات زبانی نشتر چلاتے ہیں، اکابر کا مخالف گردانتے ہیں. - [نوجوانان اہل حدیث سے مفقود ہوتی منہجی غیرت (قسط 3)](https://salafimanhaj.info/2260/): ماضی قریب کی بات ہے، کچھ زیادہ عرصہ بھی نہیں گزرا، اہل حدیث علما وعوام سے ہمیشہ یہی سننے کو ملتا تھا کہ: تعداد کی کثرت؛ معیار حق نہیں، حق کے پیچھے چلیں، تعداد کو نہ دیکھیں، کیوں کہ حق پر چلنے والے ہمیشہ قلیل تعداد میں ہی رہے ہیں، ابراہیم علیہ السلام اپنے زمانے میں اکیلے ہی حق کے ماننے والے تھے، بعض انبیا نے اپنی پوری زندگی لوگوں کی راہنمائی میں خرچ کر دی مگر ایک شخص نے بھی اسلام قبول نہیں کیا، بعض انبیا کی دعوت پر ایک نے اور بعض کی دعوت پر چند ایک نے اسلام قبول کیا، مگر انہوں نے تعداد کو کبھی خاطر میں نہ لایا. - [ماہنامہ  منہج  سلف](https://salafimanhaj.info/2251/) - [معروف مزعومہ مفکرین کے فتنے اور ہماری سادہ لوحی  (قسط  اول)](https://salafimanhaj.info/2246/): 2- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے زمانے میں کئی بدعتوں نے اور بدعتی فرقے نے جنم لیا، جیسے خوارج، قدریہ، روافض وغیرہ، لیکن ہمیں ایک بھی صحابی کا قول یا عمل ایسا نہیں ملتا جس میں انہوں نے اہل بدعت کے سردار جیسے ذو الخویصرہ التمیمی، عبد اللہ الراسبی، معبد الجہنی اور عبد اللہ بن سبا وغیرہم کی کاوشوں سے استفادہ کی ترغیب دی ہو!! - [ماہنامہ منہج  سلف](https://salafimanhaj.info/2235/) - [ڈاکٹر یوسف قرضاوی کے افکار و نظریات](https://salafimanhaj.info/2224/): محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:"یوسف قرضاوی کی تعلیم ازہری ہے کتاب وسنت پر قائم منہجی تعلیم نہیں ہے، وہ لوگوں کو ایسے ایسے فتوے دیتا ہے جو قرآن و حدیث کے خلاف ہیں، اس کا ایک نہایت ہی خطرناک فلسفہ ہے کہ جب شریعت میں کوئی حرام چیز آتی ہے تو وہ اس تحریم سے یہ کہہ کر جان چھڑا لیتا ہے کہ اس کی حرمت پر دلالت کرنے والی کوئی قطعی دلیل نہیں ہے اسی وجہ سے اس نے گانا سننا جائز قرار دیا ہے اسی طرح اس انگریز کے لیے جس نے اسلام قبول کر لیا ہے اور جو برطانیہ کے بڑے گلو کاروں گویوں میں سے تھا اپنے پیشے سے بدستور جڑے رہنا اور اس کی کمائی کھانا جائز قرار دیا ہے اور قرضاوی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ گانے اور آلات طرب کی تحریم کے سلسلے میں کوئی نص قاطع نہیں ہے۔ حالانکہ اس کی یہ بات علمائے امت کے اجماع کے بالکل خلاف ہے؛ کیونکہ احکام شرعیہ میں نص قاطع کا ہونا شرط نہیں ہے... - [دو  ماہی  منہج  سلف](https://salafimanhaj.info/2220/) - [ماہنامہ  منہج  سلف](https://salafimanhaj.info/2209/) - [ماہنامہ منہج سلف](https://salafimanhaj.info/2186/) - [[خطبہ جمعہ]نماز میں پڑھے جانے والے اذکار : معانی، مفہوم اور تقاضے](https://salafimanhaj.info/2136/) - [ماہنامہ  منہج  سلف](https://salafimanhaj.info/2129/) - [مقدمہ ترجمۃ القرآن](https://salafimanhaj.info/2074/) - [ماہنامہ منہج سلف](https://salafimanhaj.info/2066/) - [فیصلوں والی بابرکت رات!!! لیلۃ القدر یا پندرہ شعبان؟؟](https://salafimanhaj.info/2023/): لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، يُدَبَّرُ أَمْرُ السَّنَةِ، وَتُنْسَخُ الْأَمْوَاتُ مِنَ الْأَحْيَاءِ، وَيُكْتَبُ الْحَاجُّ، فَلَا يَنْقُصُ مِنْهُمْ وَلَا يَزِيدُ فِيهِمْ أَحَدٌ. - [ماہِ رمضان کی آمد پر مبارک بادی کا شرعی حکم](https://salafimanhaj.info/2002/): ماہ رمضان کی آمد آمد ہے، عنقریب یہ مبارک مہینہ اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ سایہ فگن ہونے والا ہے، اس بابرکت مہینے کے متعلق بہت سے ایسے مسائل ہیں جو علماء کے درمیان مختلف فیہ ہیں، انہیں میں سے ایک مسئلہ اس ماہ کی مبارک بادی کا ہے. - [ماہ رمضان کی تیاری](https://salafimanhaj.info/1997/) - [رمضان المبارک کے حوالے سے بعض تنبیہات](https://salafimanhaj.info/1994/): رمضان کا مقدس مہینہ سایہ فگن ہونے کو ہے۔ اس مہینے کو پانے کیلیے سلف کئی مہینوں قبل ہی دعائیں شروع کر دیا کرتے تھے۔ پھر جب یہ رخصت ہوتا تو اس میں کیے گئے اعمال کی قبولیت کیلیے بھی کئی مہینے دعائیں کرتے۔ امام ابنِ جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”تالله، لو قيل لأهل القبور تمنوا ؛ لتمنوا يوماً من رمضان.!“ ۔ ([1]) "اللہ کی قسم! - [روزہ اور عید، سب کے ساتھ یا اپنے اپنے مطلع کے ساتھ؟ (چوتھی قسط)](https://salafimanhaj.info/1977/): شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ہم یقینی طور پر یہ جانتے ہیں کہ صحابہ وتابعین کے زمانہ میں بعض علاقوں میں چاند نظر آتا تھا اور بعض جگہ نظر نہیں آتا تھا، اور یہ مسئلہ ہمیشہ پیش آیا کرتا تھا، کیوں کہ یہ فطری امر ہے، اور کائنات کا نظام بھی ہے جس میں کبھی بھی تبدیلی نہیں ہو سکتی ، اور جب معاملہ ایسا تھا کہ چاند کہیں پہلے نظر آسکتا تھا اور کہیں بعد میں تو انہیں دوران رمضان طلوع ہلال کی خبر کہیں نہ کہیں سے ضرور موصول ہوتی ہوگی، چناں چہ اگر کسی دوسری جگہ چاند ان کے یہاں سے قبل نظر آتا ہوگا تو انہیں اس دن کی قضا بھی کرنی پڑتی ہوگی جس دن انہوں وہاں کے چاند کے حساب سے روزہ نہیں رکھا، اور جب معاملہ ہر سال روزہ کے قضا کرنے کا تھا تو وہ ماہ رمضان کے چاند کے متعلق بیرونِ شہر بھی ویسی ہی بحث وتفتیش کرتے رہے ہوں گے جیسا کہ اندرونِ شہر کرتے تھے، اور جب جب یہ خبر ملتی کہ انہوں نے بعد میں روزہ رکھنا شروع کیا ہے تو تمام لوگ اس چھوٹے ہوئے پہلے روزے کی قضا کرتے ہوں گے، اگر وہ ایسا کرتے تو اس سلسلے میں ان کے تمام اقوال و افعال ہم تک منقول ہوتے، لیکن اس طرح کی کوئی بات ہم تک نہیں پہنچی، تو یہ تمام امور اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس مسئلہ کی کوئی اصل نہیں، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت اس بات پر قوی دلیل ہے. - [روزہ اور عید، سب کے ساتھ یا اپنے اپنے مطلع کے ساتھ؟ (تیسری قسط)](https://salafimanhaj.info/1974/): ابن دینار، ابن الماجشون، اسحاق بن راہویہ (الاستذکار لابن عبد البر 10/29، بدایۃ المجتہد لابن رشد 1/287، المجموع للنووی 6/273). - [روزہ اور عید، سب کے ساتھ یا اپنے اپنے مطلع کے ساتھ؟ (دوسری قسط)](https://salafimanhaj.info/1969/): [پہلی قسط یہاں سے پڑھیں: روزہ اور عید سب کے ساتھ یا پھر اپنے اپنے مطلع کے ساتھ؟ (پہلی قسط) - سلفی منہج (salafimanhaj.info)] پتا یہ چلا کہ نبی صلی اللہ علیہ نے وحدت رؤیت کا نہیں بلکہ اختلاف مطلع کا اعتبار کیا ہے، کیوں کہ اگر وحدتِ رؤیت مقصود ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں کو دور دراز علاقے میں جاکر چاند کی خبر حاصل کرنے کی تلقین کرتے نہ کہ اپنے شہر میں بیٹھ کر بادل کے چھنٹنے کا اور طلوع ہلال کے انتظار کا حکم دیتے۔ "فان غم علیکم.." - [روزہ اور عید سب کے ساتھ یا اپنے اپنے مطلع کے ساتھ؟ (پہلی قسط)](https://salafimanhaj.info/1965/) - [فضائل ماه شعبان اور بدعات (آخری قسط)](https://salafimanhaj.info/1954/): پندرہویں شعبان کے ایک روزہ کی حدیث حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے سنن ابن ماجہ میں مروی ہے :"إذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا نهارها".... - [فضائل ماه شعبان اور بدعات (پہلی قسط)](https://salafimanhaj.info/1951/): اس حدیث میں "پورے ماہ " سے اکثر ایام مراد ہیں نہ کہ مکمل مہینہ اگر چہ بعض اہل علم نے "اکثر روزے" اور "کل روزے" والی حدیثوں کے درمیان یہ تطبیق دی ہے کہ کسی سال اکثر ایام کے روزے رکھتے اور کسی سال پورا مہینہ هى روزہ سے ہوا کرتے تھے ۔ پہلی بات زیادہ صحیح ہے ، اس کی تائید صحیح مسلم میں عائشہ رضی اللہ عنہا كى حديث بروايت عبد الله بن شقيق اور سنن نسائی میں بروايت سعد بن ہشام ہوتی ہے جس کا لفظ ہے: "ولا صام رسول الله صلى الله عليه وسلم شهرا كاملا منذ قدم المدينة غیر رمضان". - [شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تو پندرہویں شعبان کی رات انفرادی عبادت کے قائل ہیں تو پھر آپ اس رات مطلقا عبادت کا انکار کیوں کرتے ہیں؟](https://salafimanhaj.info/1948/): قارئین کرام: دین اسلام، علماء کے احترام کو ضروری قرار دیتا ہے. - [پندرہویں شعبان کی شب میں عبادت کے تعلق سے مفتی تقی عثمانی حفظہ اللہ کے فتوی کی شرعی حیثیت](https://salafimanhaj.info/1945/): مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ: "امت مسلمہ کے جو خیرالقرون ہیں یعنی صحابہ کرام کا دور ، تابعین کا دور، تبع تابعین کادور، اس میں بھی اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے..... - [شب برات کے متعلق چند شبہات کا ازالہ](https://salafimanhaj.info/1942/): جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد"۔ ([2]) . - [انکار  سنت  کے  متعلق چند  گزارشات](https://salafimanhaj.info/1937/): ترجمہ: سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "خبردار! - [فکری انحراف: اسباب وعلاج (قسط  اول)](https://salafimanhaj.info/1933/): ([1]) [البقرة: 213]. - [اداریہ (1)](https://salafimanhaj.info/1930/) - [ماہنامہ منہج سلف](https://salafimanhaj.info/1915/) - [اسلام 360 نامی ایپلیکیشن گمراہیوں کا مجموعہ](https://salafimanhaj.info/1898/): اس قسم کا نعرہ لگا کر سلفیوں کو اہل بدعت کی کتاب پڑھنے اور ان کی تقریریں سننے کی ترغیب دینا بالکل ویسے ہی جیسے کوئی شہد میں زہر ملا کر دے اور کہے کہ اللہ رب العالمین نے شہد میں شفا رکھی ہے، تم کو شہد سے مطلب ہونا چاہیے زہر سے نہیں... - [درود شریف پڑھے بغیر دعا قبول نہیں ہوتی](https://salafimanhaj.info/1880/): شیخ الاسلام ابن القيم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نماز کی قبولیت کیلئے سورہ فاتحہ پڑھنا جتنا اہم ہے، دعا کی قبولیت کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کا پڑھنا بھی اتنا ہی اہم ہے. - [ماہنامہ  منہج سلف](https://salafimanhaj.info/1844/) - [طلب علم کی راہ میں مشقت برداشت کئے بنا علم شرعی کا حصول ممکن نہیں](https://salafimanhaj.info/1817/): امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں آدم بن ابی إیاس رحمہ اللہ سے حدیث سننے کیلئے نکلا، ساری جمع پونجی اور زادِ راہ یعنی کھانا وغیرہ ختم ہو گیا، جب بھوک کی شدت بڑھی تو میں زمین کی گھاس اور درختوں کے پتے چبانے لگا، اور میں نے اس بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتایا، دو دن تک یہی حالت رہی، تیسرے دن ایک شخص آیا جسے میں نہیں جانتا تھا، اس نے مجھے دینار سے بھری ایک تھیلی تھمادی اور کہا: اسے اپنے اوپر خرچ کرلینا. - [ایسی شادیوں میں شرکت کا حکم جس میں گانے بجانے ہوتے ہوں|شيخ أبو أحمد كليم الدين يوسف مدني](https://salafimanhaj.info/1804/) - [[خطبة الجمعة] حقوق عشره|فضيلة الشيخ محمد أشفاق السلفي المدني حفظه الله](https://salafimanhaj.info/1797/) - [فکری انحراف: اسباب وعلاج](https://salafimanhaj.info/1786/): امام ابن بطہ اپنی کتاب الابانة الكبرى (451) میں اہل بدعت کے ساتھ مجالست اور انکی مخالطت کے برے اثرات کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: " میں نے بہت سے افراد کو دیکھا جو اہل بدعت کو گالیاں دیتے تھے اور انہیں برا بھلا کہتے تھے، یہاں تک کہ وہ ان سے مناظرے اور گفتگو کے نام پر ان کی مجلسوں میں شریک ہونے لگے اور کچھ عرصے بعد ان کے شبہات کے جال میں پھنس کر ان کے ہم مشرب ہوگئے، اسلئے ہم بعض صحابہ کرام کو دیکھتے ہیں کہ وہ اہل بدعت کی باتوں کو سننا بھی گوارہ نہیں کرتے تھے، جيسا کہ امام لالکائی نے ابن عمر ابن مسعود اور ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہم سے اپنی کتاب شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة (188 189) ، میں نقل فرمایا ہے۔ - [کیا مسلم حکمرانوں کے خلاف (خروج) بغاوت مختلف فیہ مسئلہ ہے؟](https://salafimanhaj.info/1775/): سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اور کہا: اللہ کے نبیﷺ! آپ کیسے دیکھتے ہیں کہ اگر ہم پر ایسے لوگ حکمران بنیں جو ہم سے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں اور ہمارے حق ہمیں نہ دیں تو اس صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے اس سے اعراض فرمایا، اس نے دوبارہ سوال کیا، آپ نے پھر اعراض فرمایا، پھر جب اس نے دوسری یا تیسری بار سوال کیا تو اس کو اشعث بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ نے کھینچ لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سنو اور اطاعت کرو کیونکہ جو ذمہ داری ان کو دی گئی اس کا بار ان پر ہے اور جو ذمہ داری تمہیں دی گئی ہے، اس کا بوجھ تم پر ہے۔‘‘ - [کیا مسلم حکمرانوں کے خلاف (خروج) بغاوت مختلف فیہ مسئلہ ہے؟](https://salafimanhaj.info/1771/): صحابہ کرام نے نبی اکرم ﷺ کا لایا ہوا خالص دین مکمل امانت داری کے ساتھ امت تک پہنچایا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت تمام عقائد اسلام کا حقیقی چہرہ اور قرآن و حدیث کی درست تعبیر ہے، جس میں نصوص کتاب و سنت کا التزام اور انحراف سے نجات ہے۔ ان کے بالمقابل اہل بدعت ہیں، جنہوں نے کتاب و سنت پر اپنی ناقص وکج فہم عقل کو فوقیت دی اور دلائل سے روگردانی کرتے ہوئے دین میں نت نئی بدعات ایجاد کی، باطل تاویل وتحریف کا سہارا لے کر مختلف اقسام کی بدعات کو وجود بخشا۔ ان کے باطل افکار کی تردید کے لئے اللہ رب العالمین نے اس امت میں ایسے علما کو پیدا کیا جنہوں نے تمام منحرفانہ افکار کی خوب خوب خبر لی ہے، اور امت کو ان کے فتنوں سے باخبر کیا ہے۔ سلف صالحین کی کتابیں انحراف سے بچاؤ اور جادہ حق کی صحیح راہنما ہیں، اہل بدعت کے خلاف کاٹ دار تلوار اور برق آسمانی کے مثل ہیں۔ انہوں نے اہل سنت کے عقائد کی بھی توضیح کی ہے اور اہل بدعت کے فاسد عقائد کی تردید بھی، اہل حق کی نشانیاں بھی بتائی ہیں اور منحرفین کا پردہ بھی فاش کیا۔ وللہ الحمد والمنہ۔ حاکم کے خلاف خروج کا مسئلہ ان اہم مسائل میں سے ایک ہے جسے سلف صالحین نے اہل سنت کے خصوصی اعتقاد میں ذکر کیا ہے، اور جسے اہل سنت و اہل بدعت کے درمیان حد فاصل بھی بتایا ہے۔ - [اہل بدعت کی ہم نشینی اختیار نہ کرو](https://salafimanhaj.info/1761/): اے مسلمانوں! اہل بدعت کی ہم نشینی اختیار نہ کرو، اور نہ ہی ان سے گفتگو کرو، بدعتی اہانت و رسوائی کے حقدار ہیں. - [دعوت الی اللہ کا طریقہ کار.](https://salafimanhaj.info/1757/): خلاصہ یہ کہ دعوت کا اسلوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم والا اور سلف صالحین والا ہونا چاہیے، دعوت الی اللہ کو امیر و غریب کے درمیان تقسیم نہ کیا جائے کہ امیروں کو دعوت دینے کا انداز الگ ہوتا ہے اور غریبوں کو دعوت دینے کا الگ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کو بھی اسلام کی دعوت دی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی معرفت انہیں توحید کا پیغام بھیجا، لیکن کسی بھی صحابی کو یہ نہیں کہا کہ بادشاہ کے پاس دعوت لے کر جانے کیلئے بادشاہ کے مزاج کے مطابق ڈریسنگ کرلو، ان لائف اسٹائل کے مطابق انٹری مارنا، اور جس طرح وہ دعوت الی اللہ کو سمجھنا چاہیں ویسے سمجھانا، بلکہ سیدھا سیدھا توحید کی دعوت. ایسا نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور سلف صالحین کے زمانے میں امیروں کو دعوت نہیں دی گئی، سب کو یکساں دعوت دی گئی. - [شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ کی کتاب "رفقا أهل السنة بالسنة" کے بارے میں کچھ باتیں](https://salafimanhaj.info/1750/): شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ اپنی کتاب "رفقا أهل السنہ بالسنہ" کی تالیف کا مقصد بتاتا ہوئے فرماتے ہیں: "میں نے "مدارک النظر" نامی کتاب میں جن لوگوں کی طرف اشارہ کیا ہے، اور ان پر رد کی تائید کی ہے اس سے میں نے رجوع نہیں کیا ہے"، (شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ نے اس کتاب میں سفر الحوالی، سلمان العودہ اور محمد المسعري وغیرہ پر رد کی تائید کی ہے)، پھر شیخ عبد المحسن العباد فرماتے ہیں: میں نے "رفقا اہل السنۃ بالسنۃ" نام سے جو کتاب تالیف کی ہے اس کا تعلق ان لوگوں سے بالکل بھی نہیں جن کا ذکر میں "مدارک النظر" نامی کتاب کے مقدمہ میں کیا ہے، اور نہ ہی اس کتاب کا تعلق "اخوان المسلمین" سے ہے، نہ ہی سید قطب کے پیروکار سے ہے، نہ ہی "فقہ الواقع" کی رٹ لگانے والوں سے، نہ ہی حکام کے خلاف بولنے والوں سے، اور نہ سلفی علمائے کرام کے خلاف زبان درازی کرنے والوں سے ہے، میری کتاب "رفقا اہل السنہ بالسنہ" سے مراد مذکورہ بالا جماعت یا افراد بالکل بھی نہیں ہیں، دور دور تک اس کتاب سے ان کا واسطہ نہیں ہے، اس کتاب سے مراد صرف اور صرف اہل سنت ہیں، نہ کہ وہ جماعتیں اور فرقے جو اہل سنت والجماعت کی راہ سے منحرف ہیں". - [مملکت سعودی عرب اور خدمت حرمین شریفین](https://salafimanhaj.info/1672/) - [”الموسوعۃ الحدیثیہ لمرویات الامام ابی حنیفہ“ میں امام صاحب کی کثرت مرویات کی حقیقت](https://salafimanhaj.info/1666/): ”الموسوعۃ الحدیثیہ لمرویات الامام ابی حنیفہ“ میں امام صاحب کی کثرت مرویات کی حقیقت ✍️ فاروق عبد اللہ نراین پوری (پی ایچ ڈی ریسرچر، شعبہ فقہ السنہ، کلیۃ الحدیث الشریف، جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ) امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی امامت اور جلالت شان متفق علیہ ہے۔ فقہ میں ان کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ قول ہی کافی ہے: ”الناس عيال على أبي حنيفة في الفقه“۔ ( لوگ فقہ میں ابو حنیفہ کے محتاج ہیں۔) [تاریخ بغداد: 15/474] حافظ ذہبی رحمہ اللہ اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "الإمامة في الفقه ودقائقه مسلمة إلى هذا الإمام، وهذا أمر لا شك فيه". - [فضائل ومسائلِ ذی الحجہ(1) ۔](https://salafimanhaj.info/1656/): انہی فضیلت والے ایام میں سے ماہِ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن بھی ہیں، چنانچہ حدیث نبوی ہے : "إن أفضل أيام الدنيا أيام العشر"، قالوا: يا رسول الله ولا مثلهن في سبيل الله؟ قال: "ولا مثلهن في سبيل الله، إلا من عفر وجهه في سبيل الله"(1). - [نبوت کے دلائل](https://salafimanhaj.info/1644/) - [اپنے نبی ﷺ کو پہچانیں](https://salafimanhaj.info/1638/) - [رمضانیات 30](https://salafimanhaj.info/1602/) - [رمضانیات 29](https://salafimanhaj.info/1599/) - [رمضانیات 28](https://salafimanhaj.info/1596/) - [رمضانیات 27](https://salafimanhaj.info/1593/) - [رمضانیات 26](https://salafimanhaj.info/1590/) - [رمضانیات 25](https://salafimanhaj.info/1586/) - [ہدایۃ المستفید(ترجمہ فتح المجید)-جلد 02](https://salafimanhaj.info/1569/) - [ہدایۃ المستفید(ترجمہ فتح المجید)-جلد 01](https://salafimanhaj.info/1558/) - [نبی ﷺ کی نماز کا طریقہ اور نماز باجماعت کا وجوب](https://salafimanhaj.info/1554/) - [دلوں کی دنیا](https://salafimanhaj.info/1551/): الحمد لله ب العالمين والصلاة والسلام على والسلام على المبعوث رحمة للعالمين سيدنا محمد وعلى آله وصحبه الطيبين الطاهرين... - [وجود الہی میں شک کا علمی اور سنجیدہ تجزیہ](https://salafimanhaj.info/1547/) - [اسلامی آداب](https://salafimanhaj.info/1544/) - [کتاب الہی میں وارد فتح ونصرت کی آیتوں پر غوروفکر](https://salafimanhaj.info/1540/): اللہ کا فرمان ہے : (تم پر وہ حالات نہیں آئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئے تھے )۔ یعنی : ان کے طریقے ۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: { فَأَهْلَكْنَا أَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَمَضَى مَثَلُ الأوَّلِينَ } [الزخرف: 8] . - [جو شخص قرآن سے مستفید ہونا چاہتا ہو وہ تھوڑا سا وقت نکال کر یہ تحریر ضرور پڑھے](https://salafimanhaj.info/1537/): (هُوَ ٱلَّذِى أَنزَلَ عَلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ مِنْهُ آيَـٰتٌ مُّحْكَمَـٰتٌ هُنَّ أُمُّ ٱلْكِتَـٰبِ وَأُخَرُ مُتَشَـٰبِهَـٰتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فى قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَـٰبَهَ مِنْهُ ٱبْتِغَاء ٱلْفِتْنَةِ وَٱبْتِغَاء تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلاَّ ٱللَّهُ وَٱلرسِخُونَ فِي ٱلْعِلْمِ يَقُولُونَ ءامَنَّا بِهِ كُلٌّ مّنْ عِندِ رَبّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ ٱلالْبَـٰبِ) [آل عمران:7]. - [کیا آپ قرآن کے ساتھ ادب سے پیش آتے ہیں؟؟](https://salafimanhaj.info/1529/): الحمد لله العلي الأعلى، وصلى الله على النبي الأسمى وعلى آله وصحبه وسلم. - [مختصر اسمائے حسنى](https://salafimanhaj.info/1526/) - [ہماری زندگی پر عبادتوں کے اثرات](https://salafimanhaj.info/1522/) - [لفظِ ’’فقہ‘‘ کے اطلاقات](https://salafimanhaj.info/1516/) - [ہم قرآن مجید کیوں حفظ کرتے ہیں؟!!](https://salafimanhaj.info/1512/): میرے مسلمان بھائی! اور میری مسلمان بہن! - [اسلاف کرام کے نزدیک سنت نبویہ کی حفاظت کے پندرہ وسیلے](https://salafimanhaj.info/1507/) - [اسلامی شریعت کی امتیازی خصوصیات](https://salafimanhaj.info/1463/): نیز فرمایا: (لكل جعلنا منكم شرعة ومنهاجا). - [قبروں پر دعا کرنے کا شرعی حکم](https://salafimanhaj.info/1491/): تیسرا گرو ہ وہ ہے جو صرف اللہ تعالی سے ہی دعا کرتا ہے، اس کے سوا کسی کو نہیں پکارتا، لیکن یہ لوگ قبولیت دعا کے لیے بعض ایسے مقامات اختیار کرتے ہیں جن کا ذکر شریعت میں نہیں آیا ہے، بلکہ شریعت نے ایسی جگہوں پر دعا کرنے سے منع فرمایا ہے، جیسے قبروں پر جاکر قبولیت کی نیت سے دعا کرنا ، خواہ انبیا وصالحین کی قبریں ہوں یا کسی اور کی ، ایسا عقیدہ رکھنے والا قبر کے پاس جاکر دعا کرتاہے کہ: اے پروردگار ! - [الفوائد الملتقطۃ من سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ 01](https://salafimanhaj.info/1481/): نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((من أذن انتي عشرة سنة وجبت له الجنة، وكتب له بتأذينه في كل مرة ستون حسنة، وبإقامته ثلاثون حسنة)). - [کیا ’’اہل حدیث‘‘ اور ’’غیر مقلد‘‘ دو مترادف الفاظ ہیں؟](https://salafimanhaj.info/1413/): اس وقت عموماً مخالف حلقوں میں اہلِ حدیث اور غیر مقلد دو ہم معنی لفظ سمجھے جاتے ہیں اور اہلِ حدیث حضرات بھی اسے گوارا کرتے ہیں، لیکن واقعتا یہ درست نہیں۔ اعتقادی بدعات کے دور میں ایسے لوگ ملتے ہیں کہ وہ حنفی بھی ہیں، معتزلی بھی، شافعی، مالکی حتی کہ حنابلہ بھی کلام اور فلسفہ سے متاثر ہونے کے باوجود فروع میں اپنے ائمہ سے وابستہ رہے۔ اشعریت، ماتریدیت کا بھی ان فرعی مسائل سے بنیادی فرق تھا، لیکن اس وقت بھی اہلِ حدیث مروج تقلید سے انحراف کے باوجود کلام کی جدید راہوں سے چنداں متاثر نہیں ہوئے، بلکہ یہ لوگ ان جدید اعتقادات اور نئی نئی ایجادی تعبیرات سے برسرِ پیکار رہے۔ عقائد اور فروع میں ان کی راہ قدیم اور جدید تشریحات اور تصریحات سے مختلف رہی۔ وہ مثبت طور پر اصول اور فروع میں ائمہ سلف کی روش، ان کے ارشادات اور ان کی تصریحات کے پابند رہے، اور منفی طور پر وہ کسی خاص فرد امام یا مجتہد، اس کی آرا کی جامد اور کلی پابندی نہیں فرماتے تھے، اس لیے ہر غیر مقلد کو اہلحدیث نہیں کہا جا سکتا، البتہ ہر اہلِ حدیث کے لیے ضروری ہے کہ جمود اور تقلید سے الگ رہے۔ ہمارے قریبی دور کے کچھ ایسے افراد اور طبقات ہیں جن کو ترکِ تقلید کے باوجود اہلِ حدیث نہیں کہا جا سکتا، بلکہ اہلِ حدیث نے ان کے خلاف تنقید میں قیادت فرمائی، اس لیے کہ ان کا تعلق ائمہ سلف سے قائم نہ رہ سکا اور فہم میں خیر القرون کے طریقے کو ضروری نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اپنی آرا کو بعض دفعہ ترجیح دیتے تھے۔ مثلاً:  1۔ سر سید احمد خان (بانیِ جامعہ علی گڑھ) بڑے آزاد خیال تھے۔ رفع الیدین اور آمین بالجہر بھی سنا ہے التزام سے کرتے تھے، لیکن مستشرقین اور غیر مسلم مشنریوں اور سماجیوں سے مرعوب تھے۔ وہ اسلامی حقائق کی وضاحت میں تقلیدی افکار و نظریات کے پابند تو نہ تھے، لیکن معجزات اور بعض دوسرے مسائل میں ان کی آزادی آوارگی کی حد تک تھی، اس لیے وہ غیر مقلد تو ہونگے، لیکن وہ اور ان کے ہم خیال ساتھی اہل حدیث نہیں تھے۔ غالباً وہ بھی اس لقب کو پسند نہیں کرتے تھے اور اہلِ حدیث نے بھی ان کو کبھی نہیں اپنایا، بلکہ ’’إشاعۃ السنۃ‘‘، ’’ضیاء السنۃ‘‘ اور اخبار ’’اہل حدیث‘‘ میں ان کے خیالات پر مسلسل تنقید ہوتی رہی۔ اس سے قبل حضرت مولانا سید محمد صدیق حسن خان رحمہ اللہ نے اپنی متعدد تالیفات (مثلاً: حدیث الغاشیہ و حجج الکرامہ) میں بھی موصوف کی گمراہیوں اور کجرویوں پر آگاہ کر دیا تھا۔ 2۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو بریلوی حنفی ظاہر کرتے تھے، لیکن حقیقت میں وہ حنفی بھی نہ تھے، اہلحدیث تو کیا ہوئے، البتہ غیر مقلد ہو سکتے ہیں، کیونکہ وہ نہ فقہ حنفی کے پابند تھے نہ وہ صحابہ اور تابعین، ائمہ سلف کی روش پر چلنا پسند کرتے تھے۔ تنقیدِ حدیث کے متعلق وہ ائمہ حدیث کی بجائے اپنی ذات کو معیار سمجھتے ہیں، اس لیے ترکِ تقلید کے باوجود اہلِ حدیث نہیں ہیں۔ 3۔ مولوی عبدﷲ چکڑالوی سنا ہے پہلے رسمی حنفی تھے، پھر ترکِ تقلید کے ساتھ حدیث کی طرف جھکے، لیکن انھیں جلد ہی معلوم ہوا کہ ان کا مزاج حدیث پر مطمئن نہیں ہو گا۔ سنا ہے طبیعت میں غلو اور تقشف تھا اور ذہین بھی نہیں تھے۔ ایسے آدمی کے لیے اہلِ حدیث ہونا ممکن ہی نہ تھا، چنانچہ وہ اور مولوی حشمت علی، مولوی رمضان گوجرانوالہ، رشید احمد وغیرہم، گجرات، ملتان اور ڈیرہ غازی خاں کے منکرینِ حدیث اور ہمارے ہم عصر غلام احمد پرویز؛ یہ حضرات آوارہ مزاجی کے لحاظ سے صرف غیر مقلد ہو سکتے ہیں، بلکہ نفسِ اسلام کی پابندی سے بھی کافی حد تک آزاد ہیں۔ اس لیے وہ احادیث اور ائمہ سلف کی پابندی خود ہی پسند نہیں کرتے، بلکہ قرآن کی مرمت اور ترمیم بھی اپنی خواہش سے فرماتے ہیں۔ ہم بھی انھیں غیر مقلد سمجھنے کے باوجود اہلِ حدیث نہیں سمجھتے۔ انکارِ حدیث کے بعد اہل حدیث ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ 4۔ ہمارے پرانے ساتھی حکیم عبدالرحیم اشرف صاحب لائل پوری جماعتِ اسلامی سے علیحدگی کے بعد ’’اہل حدیث‘‘ سے بھی الگ ہو رہے ہیں اور مروجہ تقلیدی مسالک سے بھی ان کا کچھ نمایاں تعلق معلوم نہیں ہوتا۔ وہ آج کل تقریباً ملائے اعلیٰ کے قریب تشریف رکھتے ہیں۔ وہ کسی ہائی قسم کے اسلام کی دعوت دیتے ہیں یا دینا چاہتے ہیں جو موجودہ اسلام پسند اور دین پرور جماعتوں میں نظر نہیں آرہا، اس لیے وہ اصل اسلام کے لیے آج کل کافی پریشان ہیں۔ا ﷲ تعالیٰ ان کی راہنمائی فرمائے۔ ان کے انداز سے معلوم ہوتا ہے وہ اہل حدیث سے کافی چڑے ہوئے ہیں اور اس غریب جماعت سے خاص طور پر آج کل ناراض ہیں، لیکن ہمیں ان سے کوئی بحث نہیں، البتہ خطرہ ضرور ہے، ان کی اس تلقین سے نہ مقلد پیدا ہوں گے نہ اہل حدیث، البتہ غیر مقلد شاید پیدا ہو جائیں۔ ہماری دانست میں وہ اب بھی اہل حدیث ہیں، لیکن وہ فرماتے ہیں: ''میں نہیں۔'' ہم انھیں مجبور نہیں کرتے، البتہ اتنا عرض کرنا چاہتے ہیں کہ تفریق عنوان سے نہیں ہوتی، معنون سے ہوتی ہے اور یہ تفریق غالباً آپ کی موجودہ دعوت میں بھی موجود ہے۔ 5۔ ہمارے ایک مخلص اور پرانے رفیق گجرات میں تشریف رکھتے ہیں، وہ اپنے اسم گرامی کے ساتھ ہمیشہ ’’اثری‘‘ لکھا کرتے تھے۔ توحید و سنت کی حمایت میں بڑی موثر تقریریں فرماتے تھے۔ اہلِ حدیث مجالس میں بڑے شوق سے شامل ہوتے تھے۔ کچھ عرصے سے انھیں جدت پسندی کا عارضہ ہوا۔ بعض غیر معروف مسائل میں انھوں نے تفرد ظاہر فرمایا۔ عوام نے ان پر خاموشی کا اظہار کیا۔ اب انھوں نے بعض متواتر اور منصوص مسائل میں جمہور ائمہ اہل حدیث اور اکابر اہلِ سنت کے خلاف راہِ ''اجتہاد'' اختیار فرمائی اور محنت کر کے حضرت مسیح کا باپ تلاش کر لیا۔ احباب نے کئی دفعہ مطالبہ کیا کہ جماعت اس کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرے۔ میں سمجھتا ہوں یہ شخصی تفردات کتنے ہی گمراہ کن کیوں نہ ہوں، اس سے کوئی جماعتی مسئلہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ ایسے حضرات غیر مقلد تو کہلا سکتے ہیں لیکن اہل حدیث قطعاً نہیں ہو سکتے۔ متعارف اور مسلمہ مسائل سے اگر انحراف کی کبھی ضرورت محسوس ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ کتاب و سنت سے تمسک کیا جائے اور اس کے لیے بھی طریقہ سلف یعنی صحابہ وتابعین و تبع تابعین کا اختیار کیا جائے، جیسا کہ حضرت امام احمد نے اپنے ایک شاگرد کو لکھا تھا: ’’أصول السنة عندنا التمسك بما کان علیه أصحاب رسول اﷲ صلی ﷲ علیه وسلم، والاقتداء بهم وترك البدع... - [اسماء اللہ الحسنی](https://salafimanhaj.info/1408/): الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم وعلی آلہ وصحبہ أجمعین، اما بعد! - [بیانِ علم اور تطبیقِ علم میں فرق](https://salafimanhaj.info/1388/): جب آپ کو ایک حدیث یا مسئلے کا یقینی علم ہو، اسے عمومی طور پر آگے بیان کرنا چاہیے۔ یہ شرعاً مطلوب ہے اور حدیثِ نبوی "بلغوا عنی ولو آیة" میں اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔ مگر جب کوئی متعین سوال پوچھا جائے یا مخصوص حادثہ سامنے آئے تو اس وقت "فتوی" کی کیفیت میں ضروری ہے کہ آپ کسی صاحبِ علم کی طرف کریں، کیونکہ ایسی حالت میں سوال کے ساتھ مربوط سائل یا وقت ومکان کی مختلف حالتوں کو دیکھ کر جواب دیا جاتا ہے۔ ایک طبیب بے شک بخار کی عمومی دوائی کوئی بیان کرے مگر جب بخار کا متعین مریض سامنے آتا ہے تو اسے اپنے بیان کردہ نسخے میں بھی مریض کے مناسب حال رد وبدل کرنا پڑتا ہے جس میں مریض اور اس کے ساتھ ہی مزاج وموسم کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری نہیں کہ ایک مسئلہ یا حدیث جو آپ نے کسی موضوع پر یاد کر رکھی ہے، وہ کسی متعین حادثے میں بھی بعینہ مسئلہ حل کر دے، بلکہ وہاں بھی دیگر نصوص کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک عالم دین ہی اس کا مکمل اور مناسب حل تجویز کر سکتا ہے۔ اس لیے بیانِ علم اور تطبیقِ علم میں فرق ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔ جیسے شریعت نے جنبی کے لیے غسل کو لازم قرار دیا ہے اور عوام اسی کو جانتی ہے، مگر جب سردی ایسی ہو کہ غسل سے نقصان کا خطرہ ہو تو وہاں ایک عالمِ دین شریعت کی دیگر نصوص اور مصالح کو مد نظر رکھتے ہوئے، جنھیں دوسرا شخص نہیں جانتا، تیمم کا متبادل حل تجویز کر دیتا ہے۔ یہ پوسٹ لکھ چکا تھا کہ اسی حوالےسے ایک دلچسپ بات یاد آئی۔ ایک مرتبہ وٹس اپ گروپ میں کسی سوال کا جواب دیا تو ایک دوست، جو درس وخطابت کا شغل بھی فرماتے ہیں مگر انحصار کتابی علم پر ہے، کہنے لگے کہ پہلے ایسے ہی ایک سوال پر آپ نے اس سے مختلف جواب دیا تھا، مگر اب آپ کا جواب الگ ہے۔ جس پر وضاحت کی کہ اُس صورت اور موجود سوال کے جواب میں فرق کی وجہ یہ اصول ہے۔ کہنے لگے کہ ایسے فرق کا پتا کیسے چلتا ہے؟ عرض کی: اس کے لیے ایک طویل مدت اساتذہ علم کے قدموں میں بیٹھنا پڑتا ہے۔۔!!! - [حافظ زبیر صاحب اور ’’ید اللہ مع الجماعۃ‘‘ کا خود ساختہ مفہوم۔](https://salafimanhaj.info/1379/): سلف صالحین کی کتابوں سے جڑ کر علم حاصل کرنے والوں کی الگ ہی پہچان ہوتی ہے، کتاب وسنت کی جو تعبیر سلف صالحین کے یہاں ملتی ہے وہ کہیں بھی نہیں مل سکتی، نیز عقائد ومنہج کے باب میں کتاب وسنت کی جو تعبیر سلف نے کی ہے اس کے سوا دوسرا مفہوم بیان کرنا بدعت کہلاتا ہے بالخصوص ایسا مفہوم جس سے اہل بدعت کو پروان چڑھنے کا موقع ملتا ہو. - [اللہ - بے سہاروں کا سہارا](https://salafimanhaj.info/1361/) - [نوجوانان اہل حدیث سے مفقود ہوتی منہجی غیرت](https://salafimanhaj.info/1347/): کسی شاعر نےکہا تھا: بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی. - [علمائے کرام کی اہمیت](https://salafimanhaj.info/1343/): نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرغے کو گالی دینے سے منع فرمایا کیوں کہ وہ لوگوں کو نماز کیلئے جگاتا ہے، فرمایا: لا تسبوا الديك؛ فإنه يوقظ للصلاة (سنن ابو داود: ح۵۱۰۱، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے). - [نوجوانان اہل حدیث سے مفقود ہوتی منہجی غیرت](https://salafimanhaj.info/1340/): اہل حدیثوں کا راستہ بڑا کٹھن ہے، یہاں قدم قدم پر مخالفت، عداوت، نفرت اور طعنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے. - [مولانا مودودی، شیخ ابن باز رحمہ اللہ اور بعض لوگ](https://salafimanhaj.info/1336/): بعض لوگ مولانا مودودی کے بارے میں شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا وہ خط نقل کر رہے ہیں جسے "رسالہ اخوت ومحبت" کے نام سے شئر کیا جا رہے، انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے مذکورہ "رسالہ" کے ساتھ اس رسالہ کو بھی نشر کرناچاہئے جس میں انہوں نے شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ سے وہ کتاب طلب کی تھی جس میں شیخ ربیع نے مولانا مودودی پر رد کیا تھا، نیز رسالہ اخوت 1392 ہجری کا ہے جبکہ شیخ ربیع سے کتاب کا مطالبہ 1412 ہجری کا ہے. - [تصوّف کے اَفیون نے کیونکر برصغیر کی علمی ومذہبی فضا کو آلودہ رکھا؟](https://salafimanhaj.info/1331/): برصغیر کے دینی ومذہبی لٹریچر کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیشہ ایک بات ذہنوں میں کھٹکتی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ علم وفضل میں بلند مرتبت ہونے کے باوجود یہاں کے مصلحین ومجددین کے ہاں تک تصوف اور اس کی بدعی رسوم وعلامات کی آمیزش نظر آتی ہے جس کے اثرات بعد والے علماء وفضلاء کی تصانیف میں بھی پائے جاتے ہیں جبکہ نجد وحجاز کے علمائے توحید ان چیزوں سے یکسر محفوظ ہیں؟! - [حافظ زبیر صاحب، ساحل عدیم اور علما حق وسوء کا معیار](https://salafimanhaj.info/1328/): جب کسی سے کوئی سوال کیا جائے تو وہ مطلوبہ سوال کا جواب کتاب وسنت کی روشنی میں دے، اس سوال کے جواب کو اپنی ہوائے نفس کی تسکین کا ذریعہ نہ بنائے، حافظ زبیر صاحب سے ساحل عدیم کی بیان کردہ جھوٹی روایت کے متعلق پوچھا گیا جس کے جواب میں انہوں نے بس اتنا کہنا مناسب سمجھا جس کا خلاصہ یہ ہے: قرآن کی تفسیر یا دینی مسائل میں ساحل عدیم منکر اور من گھڑت روایتیں بغیر تحقیق کے بیان کر دیتے ہیں، اس کے بعد حافظ صاحب نے ساحل عدیم کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے، یعنی حافظ صاحب کے نزدیک موضوع اور من گھڑت روایت بیان کرنا عام بات ہے، اور اس جھوٹ کا بیان کرنے والا بھی اس قدر قابل گرفت نہیں ہے جتنا علما کرام ہیں. - [حیض ونفاس واستحاضہ کے احکام ومسائل (قسط-2)](https://salafimanhaj.info/1303/): پہلا: بیوی سے جماع کرنا. - [ماہ شوال – مختصر احکام](https://salafimanhaj.info/1298/): ماہ رمضان المبارک کے فرض روزوں کی تکمیل کے بعد یکم شوال کو مسلمانان عالم اللہ تعالی کی جانب سے حاصل ہونے والی ہدایت و توفیق پر اللہ رب العزت کے حضور شکرانہ کی دو رکعت نماز بارہ زائد تکبیروں کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ گویا یہ شوال کی پہلی تاریخ مسلمانوں کی عید، رب کریم کی شکرگزاری اور روزوں کی تطہیر کےلئے فطرانہ کے ذریعہ فقراء ومساکین کے ساتھ احسان اور رواداری کا دن ہے۔اسی تاریخ سے حج کے مہینوں کا آغاز بھی ہوجاتا ہے۔یہ اللہ تعالی کا فضل وکرم ہے کہ نیکیوں کا ایک موسم گزرا اور دوسرا شروع ہوگیا۔یوں امت مسلمہ وقت کے ساتھ ایک عبادت سے دوسری عبادت کی طرف منتقل ہوتی رہتی ہے اور اس کا رشتہ اپنے رب سے ہمیشہ قائم اور استوار رہتا ہے۔ - [حیض ونفاس واستحاضہ کے احکام ومسائل (قسط-1)](https://salafimanhaj.info/1284/): حیض کی تعریف: عورت کے رحم سے نکلنے والا ایک فطری خون ہے جو بلوغت کے وقت عورت کو مخصوص ایام میں عادتا جاری ہوتا ہے. ## Pages - [سوال بھیجیں](https://salafimanhaj.info/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d8%a8%da%be%db%8c%d8%ac%db%8c%da%ba/): Please enable JavaScript in your browser to complete this form. - [ہمارے بارے میں](https://salafimanhaj.info/about-ur/): 1.شیخ ابو احمد کلیم الدین یوسف مدنی. - [اصحاب قلم](https://salafimanhaj.info/%d8%a7%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d8%a8-%d9%82%d9%84%d9%85/) ## Optional - [Agent (MCP protocol)](websites-agents.hostinger.com/salafimanhaj.info/mcp) [comment]: # (Generated by Hostinger Tools Plugin)