کیا مسلم حکمرانوں کے خلاف (خروج) بغاوت مختلف فیہ مسئلہ ہے؟
صحابہ کرام نے نبی اکرم ﷺ کا لایا ہوا خالص دین مکمل امانت داری کے ساتھ امت تک پہنچایا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت تمام عقائد اسلام کا حقیقی چہرہ اور قرآن و حدیث کی درست تعبیر ہے، جس میں نصوص کتاب و سنت کا التزام اور انحراف سے نجات ہے۔
ان کے بالمقابل اہل بدعت ہیں، جنہوں نے کتاب و سنت پر اپنی ناقص وکج فہم عقل کو فوقیت دی اور دلائل سے روگردانی کرتے ہوئے دین میں نت نئی بدعات ایجاد کی، باطل تاویل وتحریف کا سہارا لے کر مختلف اقسام کی بدعات کو وجود بخشا۔
ان کے باطل افکار کی تردید کے لئے اللہ رب العالمین نے اس امت میں ایسے علما کو پیدا کیا جنہوں نے تمام منحرفانہ افکار کی خوب خوب خبر لی ہے، اور امت کو ان کے فتنوں سے باخبر کیا ہے۔
سلف صالحین کی کتابیں انحراف سے بچاؤ اور جادہ حق کی صحیح راہنما ہیں، اہل بدعت کے خلاف کاٹ دار تلوار اور برق آسمانی کے مثل ہیں۔ انہوں نے اہل سنت کے عقائد کی بھی توضیح کی ہے اور اہل بدعت کے فاسد عقائد کی تردید بھی، اہل حق کی نشانیاں بھی بتائی ہیں اور منحرفین کا پردہ بھی فاش کیا۔ وللہ الحمد والمنہ۔
حاکم کے خلاف خروج کا مسئلہ ان اہم مسائل میں سے ایک ہے جسے سلف صالحین نے اہل سنت کے خصوصی اعتقاد میں ذکر کیا ہے، اور جسے اہل سنت و اہل بدعت کے درمیان حد فاصل بھی بتایا ہے۔
اہل بدعت کی ہم نشینی اختیار نہ کرو
علامہ عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ ایک حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اے مسلمانوں! اہل بدعت کی ہم نشینی اختیار نہ کرو، اور نہ ہی ان سے گفتگو کرو، بدعتی اہانت و رسوائی کے حقدار ہیں.لوگوں کو بدعی…
دعوت الی اللہ کا طریقہ کار.
خلاصہ یہ کہ دعوت کا اسلوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم والا اور سلف صالحین والا ہونا چاہیے، دعوت الی اللہ کو امیر و غریب کے درمیان تقسیم نہ کیا جائے کہ امیروں کو دعوت دینے کا انداز الگ ہوتا ہے اور غریبوں کو دعوت دینے کا الگ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کو بھی اسلام کی دعوت دی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی معرفت انہیں توحید کا پیغام بھیجا، لیکن کسی بھی صحابی کو یہ نہیں کہا کہ بادشاہ کے پاس دعوت لے کر جانے کیلئے بادشاہ کے مزاج کے مطابق ڈریسنگ کرلو، ان لائف اسٹائل کے مطابق انٹری مارنا، اور جس طرح وہ دعوت الی اللہ کو سمجھنا چاہیں ویسے سمجھانا، بلکہ سیدھا سیدھا توحید کی دعوت.
ایسا نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور سلف صالحین کے زمانے میں امیروں کو دعوت نہیں دی گئی، سب کو یکساں دعوت دی گئی.
شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ کی کتاب "رفقا أهل السنة بالسنة” کے بارے میں کچھ باتیں
شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ اپنی کتاب "رفقا أهل السنہ بالسنہ” کی تالیف کا مقصد بتاتا ہوئے فرماتے ہیں: "میں نے "مدارک النظر” نامی کتاب میں جن لوگوں کی طرف اشارہ کیا ہے، اور ان پر رد کی تائید کی ہے اس سے میں نے رجوع نہیں کیا ہے”، (شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ نے اس کتاب میں سفر الحوالی، سلمان العودہ اور محمد المسعري وغیرہ پر رد کی تائید کی ہے)، پھر شیخ عبد المحسن العباد فرماتے ہیں: میں نے "رفقا اہل السنۃ بالسنۃ” نام سے جو کتاب تالیف کی ہے اس کا تعلق ان لوگوں سے بالکل بھی نہیں جن کا ذکر میں "مدارک النظر” نامی کتاب کے مقدمہ میں کیا ہے، اور نہ ہی اس کتاب کا تعلق "اخوان المسلمین” سے ہے، نہ ہی سید قطب کے پیروکار سے ہے، نہ ہی "فقہ الواقع” کی رٹ لگانے والوں سے، نہ ہی حکام کے خلاف بولنے والوں سے، اور نہ سلفی علمائے کرام کے خلاف زبان درازی کرنے والوں سے ہے، میری کتاب "رفقا اہل السنہ بالسنہ” سے مراد مذکورہ بالا جماعت یا افراد بالکل بھی نہیں ہیں، دور دور تک اس کتاب سے ان کا واسطہ نہیں ہے، اس کتاب سے مراد صرف اور صرف اہل سنت ہیں، نہ کہ وہ جماعتیں اور فرقے جو اہل سنت والجماعت کی راہ سے منحرف ہیں”.


