فکری انحراف: اسباب وعلاج (قسط اول)
فکری انحراف کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود انسانی تاریخ ، جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور فرشتوں کو سجدہ تعظیمی بجا لا نے کا حکم فرمایا تو ابلیس وہ پہلا…
اداریہ (1)
گزشتہ کچھ عرصے میں اعتدال کے نام پر بعض ایسے افراد کا ظہور ہوا جنہوں نے اسلام کے صاف و شفاف چہرے اور صحیح منہج پر تشدد کا لیبل لگا کر اپنی خود ساختہ راہ اعتدال کو اسلام بنا کر …
اسلام 360 نامی ایپلیکیشن گمراہیوں کا مجموعہ
آج کل عام طور پر لوگ اپنی دعوت وغیرہ کا آغاز کتاب و سنت سے کرتے ہیں، شروع میں خالص سلفیت اور اہل حدیثیت کے نام پر اپنا پرچار کرتے ہیں، اہل حدیث کے بڑے علمائے کرام کا تقرب حاصل…
فکری انحراف: اسباب وعلاج
امام ابن بطہ اپنی کتاب الابانة الكبرى (451) میں اہل بدعت کے ساتھ مجالست اور انکی مخالطت کے برے اثرات کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ” میں نے بہت سے افراد کو دیکھا جو اہل بدعت کو گالیاں دیتے تھے اور انہیں برا بھلا کہتے تھے، یہاں تک کہ وہ ان سے مناظرے اور گفتگو کے نام پر ان کی مجلسوں میں شریک ہونے لگے اور کچھ عرصے بعد ان کے شبہات کے جال میں پھنس کر ان کے ہم مشرب ہوگئے، اسلئے ہم بعض صحابہ کرام کو دیکھتے ہیں کہ وہ اہل بدعت کی باتوں کو سننا بھی گوارہ نہیں کرتے تھے، جيسا کہ امام لالکائی نے ابن عمر ابن مسعود اور ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہم سے اپنی کتاب شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة (188 189) ، میں نقل فرمایا ہے۔
کیا مسلم حکمرانوں کے خلاف (خروج) بغاوت مختلف فیہ مسئلہ ہے؟
صحابہ کرام نے نبی اکرم ﷺ کا لایا ہوا خالص دین مکمل امانت داری کے ساتھ امت تک پہنچایا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت تمام عقائد اسلام کا حقیقی چہرہ اور قرآن و حدیث کی درست تعبیر ہے، جس میں نصوص کتاب و سنت کا التزام اور انحراف سے نجات ہے۔
ان کے بالمقابل اہل بدعت ہیں، جنہوں نے کتاب و سنت پر اپنی ناقص وکج فہم عقل کو فوقیت دی اور دلائل سے روگردانی کرتے ہوئے دین میں نت نئی بدعات ایجاد کی، باطل تاویل وتحریف کا سہارا لے کر مختلف اقسام کی بدعات کو وجود بخشا۔
ان کے باطل افکار کی تردید کے لئے اللہ رب العالمین نے اس امت میں ایسے علما کو پیدا کیا جنہوں نے تمام منحرفانہ افکار کی خوب خوب خبر لی ہے، اور امت کو ان کے فتنوں سے باخبر کیا ہے۔
سلف صالحین کی کتابیں انحراف سے بچاؤ اور جادہ حق کی صحیح راہنما ہیں، اہل بدعت کے خلاف کاٹ دار تلوار اور برق آسمانی کے مثل ہیں۔ انہوں نے اہل سنت کے عقائد کی بھی توضیح کی ہے اور اہل بدعت کے فاسد عقائد کی تردید بھی، اہل حق کی نشانیاں بھی بتائی ہیں اور منحرفین کا پردہ بھی فاش کیا۔ وللہ الحمد والمنہ۔
حاکم کے خلاف خروج کا مسئلہ ان اہم مسائل میں سے ایک ہے جسے سلف صالحین نے اہل سنت کے خصوصی اعتقاد میں ذکر کیا ہے، اور جسے اہل سنت و اہل بدعت کے درمیان حد فاصل بھی بتایا ہے۔
دعوت الی اللہ کا طریقہ کار.
خلاصہ یہ کہ دعوت کا اسلوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم والا اور سلف صالحین والا ہونا چاہیے، دعوت الی اللہ کو امیر و غریب کے درمیان تقسیم نہ کیا جائے کہ امیروں کو دعوت دینے کا انداز الگ ہوتا ہے اور غریبوں کو دعوت دینے کا الگ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کو بھی اسلام کی دعوت دی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی معرفت انہیں توحید کا پیغام بھیجا، لیکن کسی بھی صحابی کو یہ نہیں کہا کہ بادشاہ کے پاس دعوت لے کر جانے کیلئے بادشاہ کے مزاج کے مطابق ڈریسنگ کرلو، ان لائف اسٹائل کے مطابق انٹری مارنا، اور جس طرح وہ دعوت الی اللہ کو سمجھنا چاہیں ویسے سمجھانا، بلکہ سیدھا سیدھا توحید کی دعوت.
ایسا نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور سلف صالحین کے زمانے میں امیروں کو دعوت نہیں دی گئی، سب کو یکساں دعوت دی گئی.




