قارئین کرام: کسی مسئلہ میں رد و قدح کا مقصد کسی کی ذاتیات اور ادارے پر کیچڑ اچھالنا مقصود نہیں ہوتا، اس کا مقصد صرف اور صرف خیر خواہی ہوتی کہ جن امور میں لوگوں سے منہج سلف صالحین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اس کی اصلاح کی جائے اور بدعت کو سنت اور منہج سلف کی مخالفت کو ان کی موافقت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے، اور شرعا ہر مسلمان کی ذمہ داری کتاب و سنت بفہم سلف امت پر عمل کرنا ہے اور صرف اسی کی طرف دعوت دینا ہے، بدعت یا بدعتی کو ایک فیصد بھی قبول نہیں کرنا ہے، بلکہ اس پر ہمیشہ رد کرتے رہنا ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے ہر خطبے میں بدعات پر رد کرتے تھے حالانکہ ان کے زمانے میں بدعت کا وجود بھی نہیں تھا، نیز بدعات پر رد کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ عہد نبوی اور عہد صحابہ والے اسلام کی اصلی شکل و صورت کی حفاظت ہوتی رہے، اور یہ کام سلفی یعنی اہل حدیث حضرات بخوبی انجام دے رہے ہیں۔
چونکہ انسان خطا و نسیان اور غفلت و تساہل کا مرکب ہے، اس لئے کبھی فہم میں، تطبیق میں یا بیان میں غلطی و لغزش ہو جاتی ہے، ایسی صورت میں ایک مسلمان بالخصوص اہل حدیث ہونے کے ناطے یہ واجب ہوتا ہے کہ اس غلطی اور لغزش کی تردید کی جائے، صحیح بات سامنے رکھی جائے، اور سامنے والے کو بھی چاہیے کہ حق کو حق پیرائے میں قبول کریں، بے جا تاویل کرکے حق کو بدنما نہ بنائیں، کیونکہ الرجوع الی الحق خیر من التمادی فی الباطل.
اس لئے اگر کوئی کسی پر رد کرے تو اس کے رد کو اس وقت تک نصح و خیر خواہی پر ہی محمول کرنا چاہیے جب تک کہ رد کرنے والا کسی دوسرے امر کی صراحت نہ کردے.. والله من وراء القصد.
جامعہ-دار-السلام-عمرآباد-کا-دفاع_compressed


