(ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب کے اس بیانیے کے تناظر میں جس میں انہوں نے ڈاکٹر اسرار جیسے منحرف کو اپنا آئیڈیل بتایا ہے)
اہل حدیثوں کا منہج، منہج صحابہ کا امتداد ہے جسے اس امت کے مخلص علما نے اپنی پوری زندگی قربان کر کے اصل شکل میں بلا کسی تحریف کے ہم تک پہنچایا ہے۔ یہ ایک عظیم نعمت ہے جس کی حفاظت ہر اہل حدیث عالم، عوام، بزرگ اور نوجوان پر واجب ہے۔ اس عظیم نعمت کے شکرانے کے طور پر اور اس کی حفاظت کی خاطر ہمیں ہر انحراف اور تمام منحرفین کی خبر لینا واجب ہے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب اہل حدیث ہونے کا دعویٰ کرنے والے خارجیت، رافضیت، اشعریت اور اخوانیت کی علی الاعلان دعوت دیں گے، بلکہ ان کی طرف انتساب کرنے میں فخر محسوس کریں گے۔
اہل حدیث کے غیرت مند جوانوں کے لئے یہ تحریر ہے۔ اللہ ہم سب کو منہج صحابہ پر قائم رکھے اور اس کی کما حقہ حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
قارئین کرام! وفات نبوی ﷺ کے بعد ہی فتنوں کا زمانہ شروع ہو گیا تھا۔ مختلف اوقات میں مختلف فتنوں نے سر اٹھایا اور منہج صحابہ سے انحراف کیا۔ پریشان کن امر یہ تھا کہ فتنہ کرنے والے بھی خود کو مسلمان کہتے تھے۔ معبد الجہنی نے تقدیر کا انکار کفر کے نام پر نہیں کیا تھا۔ خوارج نے صحابہ کرام اور عام مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہوئے بھی خود کو مسلمان ہی کہا تھا۔ روافض نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں غلو کرتے وقت بھی خود کو مسلمان ہی کہا اور آج بھی وہ خود کو مسلمان ہی کہتے ہیں۔ معتزلہ، مرجئہ، جہمیہ، اشاعرہ، ماتریدیہ الغرض تمام گمراہ فرقوں نے خود کو مسلمان کہتے ہوئے ہی یہ تمام گمراہیاں ایجاد کی تھیں۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان سب کا اسلام "صحابہ والا اسلام” تھا؟
وہ مسلمان لوگ جنہوں نے "صحابہ والا اسلام” اپنایا تھا اور وہ مسلمان لوگ جنہوں نے "صحابہ کے اسلام” سے انحراف کیا تھا دونوں ایک ہی درجے کے مسلمان تھے؟
اگر کوئی دونوں کو برابر قرار دیتا ہے تو یقیناً یہ اس کی کم ظرفی ہوگی۔ لہذا یہاں یہ جاننا نہایت اہم ہے کہ کیا صحابہ کرام نے اہل بدعت اور منحرفین سے ممتاز کرنے کے لئے منہج حق کے ماننے والوں کے لئے کسی خاص لقب کا انتخاب کیا تھا یا نہیں۔
امام ابن سیرین رحمہ اللہ نے متعدد صحابہ کرام کے متعلق بیان کیا ہے کہ وہ "صحیح منہج کے حاملین” کو "اہل سنت” کے لقب سے ملقب کرتے تھے۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "لَمْ يَكُونُوا يَسْأَلُونَ عَنِ الْإِسْنَادِ، فَلَمَّا وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ، قَالُوا: سَمُّوا لَنَا رِجَالَكُمْ، فَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ السُّنَّةِ فَيُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ، وَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ الْبِدَعِ فَلَا يُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ”. صحيح مسلم (1/ 15)۔
"صحابہ کرام شہادت عثمان کے واقعہ سے قبل اساتذہ کے بارے میں سوال نہیں کرتے تھے، پھر جب اس پر فتن واقعہ کا ظہور ہوا تو صحابہ کرام کہا کرتے تھے: اپنے استاد کا نام بتاؤ۔ چنانچہ «اہل سنت» کا عالم دیکھ کر اس سے علم لیا جاتا اور اگر اہل بدعت کا عالم ہوتا تو اس سے علم نہیں لیا جاتا”۔
امام ابو نعیم الاصبہانی اس اثر کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "أَسْنَدَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ عِدَّةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ مِنْهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، وَأَبُو بَكْرَةَ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَجَمَاعَةٌ”. حلیۃ الأولياء وطبقات الأصفیاء: (2/ 278)۔
"امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے اس اثر کو صحابہ کرام کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے جن میں ابو ہریرہ، ابو سعید الخدری، عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن عباس، عمران بن حصین، ابو بکرہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم اجمعین شامل ہیں”۔
نیز صحیح منہج والے مسلمان کو اہل سنت کے لقب سے ملقب کرنا صحابی رسول ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے۔ ملاحظہ فرمائیں تفسیر ابن کثیر کی عبارت: وقوله تعالى : ( يوم تبيض وجوه وتسود وجوه ) يعني : يوم القيامة ، حين تبيض وجوه أهل السنة والجماعة ، وتسود وجوه أهل البدعة والفرقة ، قاله ابن عباس ، رضي الله عنهما. (2/79)۔
"روز قیامت اہل سنت والجماعت کے چہرے چمک رہے ہوں گے اور اہل بدعت وافتراق کے چہرے سیاہ ہوں گے”۔
یاد رہے کہ جس آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہ” صحیح منہج” والوں کو اہل سنت والجماعت کا لقب دیا ہے وہ اللہ رب العالمین کے فرمان:” واعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا” کے سیاق میں ہی ہے، جسے بیان کر کے ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب نے اپنا ڈاکٹر اسرار والا منہج ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
یہاں ڈاکٹر صاحب، صحابی رسول ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فہم اور ان کی تفسیر کو چیلنج کر ہے ہیں اور انہیں غلط باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ واللہ العظیم ایسے لاکھوں کیا کڑوڑ ڈاکٹرز بھی آجائیں، صحابی رسول کی تفسیر کے مقابلے میں ان کی حیثیت منفی کی ہے۔
یہاں ایک بات اور واضح کر دوں کہ ڈاکٹر صاحب جنہیں عالم مانتے ہیں وہ عموماً اہل بدعت ہیں۔ جیسے ڈاکٹر اسرار، حسن الددو اور قرضاوی وغیرہ۔
یاد رہے کہ اہل بدعت سے علم لینا قیامت کی علامات میں سے ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے: "مِن أشراطِ السَّاعةِ أن يُلتَمَسَ العِلمُ عِندَ الأصاغِرِ”. [أخرجه ابن المبارك في ((الزهد)) (61)، والطبراني (22/361) (908)، والخطيب في ((الجامع)) (159) واللَّفظُ له. صحَّحه الألباني في ((صحيح الجامع)) (2207)].
"اصاغر (اہل بدعت) سے علم لینا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے”۔
عبد اللہ بن مبارک اور دیگر اہل علم نے "اصاغر” سے اہل بدعت کو مراد لیا ہے اور یہی معنی زیادہ صحیح ہے، اس کی دلیل حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا اثر ہے جس میں انہوں نے کہا کہ: "لوگ اس وقت تک خیر پر ہوں گے جب تک ان کا علم صحابہ کرام اور کبار سلف سے ماخوذ ہوگا، مگر جب وہ علم "اصاغر” سے لینے لگیں گے تو ہلاک ہو جائیں گے”۔
وجہ استدلال یہ ہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے صحابہ کے مقابلے میں اصاغر کو ذکر کیا ہے، اور یہ واضح کیا کہ صحابہ سے آنے والا علم، ان سے ثابت شدہ باتیں اکابر کی باتیں کہلاتی ہیں جب کہ وہ باتیں جو ان سے ثابت نہ ہوں وہ اصاغر کی باتیں کہلاتی ہیں، جسے خاص اصطلاح میں اہل بدعت کہا جاتا ہے۔
اب ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب کا ڈاکٹر اسرار اور دیگر منحرفین سے علم لینا قابل مذمت ہے یا نہیں؟
یہی وجہ کے سلف صالحین بالخصوص صحابہ کرام کسی شخص سے علم لینے سے قبل اس کے اساتذہ کے بارے میں سوال کرتے تھے، اگر استاد اہل سنت میں سے ہوتا تو اس شخص سے علم لیتے اور اگر اہل بدعت میں سے ہوتا تو اسے ترک کر دیتے۔ جیسا چند سطور قبل ابن سیرین رحمہ اللہ کے قول میں اس کا بیان گزرا۔
اس قاعد کی رو سے ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب سے علم لینا جائز نہیں ٹھہرا۔ کیوں کہ انہوں نے خود ہی مبتدعین کو اپنا استاد بتایا ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کسی مسلک کا پرچار نہیں کرتے۔
بھائی اتنے بھولے تو نہ بنیں! اخوانیوں کو وقت کا سب سے بڑا عالم کہنا، ڈاکٹر اسرار کی تعریف میں زمین آسمان ایک کرنا، انہیں بہترین عالم ماننا، خود کو ان سے متاثر بتانا کیا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ کس منہج کے پرچارک ہیں؟
کیا مسلم نوجوان ان کی اس ویڈیو اور تعریفی کلمات کے بعد ڈاکٹر اسرار کو مزید نہیں سنیں گے؟
یہ در اصل بھولا پن نہیں، منہجی غیرت اور اہل حدیثیت کا دل سے مر جانا ہے۔ اور یہ موت ایسی موت ہے کہ پھر زندگی جینا لا حاصل ہے۔


