ماہ شعبان نیکیوں کا ايك خاص موسم ہے جس سے مسلمانوں کی اکثریت غافل ہے،حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس ماہ میں بکثرت نفلی روزے رکھتے تھے ۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی مہینے کا مکمل روزہ نہیں رکھا البتہ سب سے زیادہ نفلی روزے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان میں رکھا کرتے تھے۔ ([1])
عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے :” لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم يصوم شهرا أكثر من شعبان، فإنه كان يصوم شعبان كله”۔ ([2])
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان سے زیادہ کسی مہینے کا نفلی روزہ نہیں رکھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان کا روزہ رکھتے تھے۔
اس حدیث میں "پورے ماہ ” سے اکثر ایام مراد ہیں نہ کہ مکمل مہینہ اگر چہ بعض اہل علم نے "اکثر روزے” اور "کل روزے” والی حدیثوں کے درمیان یہ تطبیق دی ہے کہ کسی سال اکثر ایام کے روزے رکھتے اور کسی سال پورا مہینہ هى روزہ سے ہوا کرتے تھے ۔ پہلی بات زیادہ صحیح ہے ، اس کی تائید صحیح مسلم میں عائشہ رضی اللہ عنہا كى حديث بروايت عبد الله بن شقيق اور سنن نسائی میں بروايت سعد بن ہشام ہوتی ہے جس کا لفظ ہے: "ولا صام رسول الله صلى الله عليه وسلم شهرا كاملا منذ قدم المدينة غیر رمضان”. ([3]) جب سے آپ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے سوائے رمضان کے کسی مہینے کا مکمل روزہ نہیں رکھا ۔
شعبان میں بکثرت روزہ رکھنے کی کئی وجوہات اہل علم نے بیان کی ہیں لیکن سب سے زیادہ قوی بات وہی ہے جس کا بیان خود زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے بروایت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ صادر ہوا ہے : "ذاك شَهْرٌ يَغفُلُ النَّاسُ عنهُ بينَ رجبٍ ورمضانَ ، تُرفَعُ فيهِ الأعمالُ إلى ربِّ العالمينَ ، فأحبُّ أن يُرفَعَ عمَلي وأَنا صائمٌ” ۔ ([4])
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ماہ شعبان میں بکثرت روزہ رکھنے کی بابت دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "یہ مہینہ رجب اور رمضان کے درمیان ہونے کی وجہ سے لوگوں کی غفلت کا شکار ہے جبکہ اس میں بندوں کے اعمال رب العالمین کی طرف اٹھائے اور اس کے حضور پیش کئے جاتے ہیں لہذا میں چاہتا ہوں کہ میرا عمل بحالت روزہ اٹھایا جائے "۔
ماہ شعبان سے لوگوں کی غفلت کا مطلب یہ ہے کہ ماہ رجب حرمت والا مہینہ ہے اور ماہ رمضان ماہ صیام و نزول قرآن ہے۔ عام طور پر لوگ ماہ حرام اور ماہ صیام کا خاص اہتمام کرتے ہیں اور شعبان سے غفلت برتتے ہیں اور ماہ رجب میں روزہ رکھنے کو افضل جانتے ہیں جب كہ ماہ رجب میں خصوصی طور پر روزہ رکھنا ثابت نہیں ہے۔ شعبان کے روزے دیگر تمام مہینوں کے نفلی روزوں سے افضل ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کبھی کبھار غیر مشہور واقعات اور جگہیں بلکہ افراد بھی مشہور کے مقابلہ میں افضل ہوتے ہیں ۔ دوسرا یہ کہ غفلت کے اوقات میں بندگی کی بجا آوری افضل عمل ھے اور اطاعت کرنے والا ریا سے بھی محفوظ رہتا ہے۔
علاوہ ازیں بندوں کے اعمال کی رب العالمین کے حضور پیشی یومیہ، ہفتہ وار، سالانہ اور اختتامی یعنی موت کے بعد ہوتی ھے ۔ روزانہ فرشتوں کی آمد و رفت عصر وفجر کے وقت ہوتی ہے اور اللہ تعالی بندوں کی حالت دریافت کرتا ہے، ہفتہ میں سوموار اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں، ماہ شعبان میں سالانہ پیشی ہوتی ہے ،جبکہ موت کے بعد پوری زندگی کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں، لہذا روایتوں میں باہمی تعارض نہیں ہے ۔ اللہ تعالی پر کسی کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ہے پھر بھی پیشی کے بعد پیشی حکمت پر مبنی ہے جسے اللہ تعالی بہتر جانتا ہے۔ تاہم ان اوقات کی ہمارے لیے فضیلت ظاہر ہے کہ ہم اعمال کے اٹھائے جانے کے موقعوں پر بطور خاص اعمال مسنونہ کو بجا لائیں اور رب تعالی کی رضا و خوشنودی کے مستحق بنیں۔
علامہ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ نے ماہ شعبان کے روزوں کی افضلیت کی ایک علت یہ بھی بیان کی ہے کہ یہ روزے ٹھیک ماہ رمضان کے فرض روزوں سے پہلے رکھے جاتے ہیں تو گویا ان کی حیثیت نماز فرض سے قبل ادا کی جانے والی سنت مؤکدہ کی ہے، جو عام نفلوں سے بہتر و افضل ہے اور اسی طرح ماہ شوال کے چھ روزےفرض نمازوں کے بعد ادا کی جانے والی سنت مؤکدہ کی طرح ہیں۔ بہرحال جو نوافل فرض سے آگے اور پیچھے ہوتے ہیں وہ مطلق نوافل کے مقابلے میں افضل ہوتے ہیں۔
یہاں اس تعارض کا دفعیہ بھی مناسب ہے کہ ایک طرف تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ماہ شعبان میں بکثرت روزہ رکھنے کا تھا اور دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : "افضل الصیام بعد رمضان شهر الله المحرم” ۔ ([5])
ماہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم الحرام -جسےبطور تکریم شہر اللہ (اللہ کا مہینہ) کہا گیا ہے- کے روزے ہیں۔ اہل علم نے یہ تطبیق دی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یا تو محرم الحرام کے روزے کی افضلیت کا علم اخیر عمر میں ہوا ہوگا جس کے سبب آپ اس کو عملی جامہ نہ پہنا سکے یا پھر آپ سفر اور بیماری کے سبب محرم کے بکثرت روزہ رکھنے سے معذور رہے ہوں یا پھر اس کو نفل مطلق پر محمول کیا جائے اور يہ سب سے اچھی تطبیق ہے۔
دوسری ایک حدیث جو نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے کی ممانعت پر دلالت کرتی ہے اور محققین کی ایک جماعت نے اس کی تصحیح فرمائی ہے : "اذا انتصف شعبان فلا تصوموا حتی یکون رمضان”۔ ([6])
اس روایت کے تعلق سے امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا معنی بعض اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ آدمی ماہ شعبان کے نصف اول میں روزہ سے نہ ہو اور جب نصف آخر آ جائے تو رمضان کے پیش نظر روزے رکھنا شروع کر دے ، جیسا کہ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے بھی اپنی صحیح میں لکھا ہے کہ شعبان کو رمضان سے نہ ملاؤ یا تو پورا شعبان روزہ رکھو یا پھر آخر ماہ میں روزہ رکھنے کی کسی کی عادت ہو تو وہ روزہ رکھے۔
لہذا شعبان کی 16تاریخ سے آخر ماہ تک آدمی اپنے فرض روزوں کی قضا کر سکتا ہے، منت کے روزے رکھ سکتا ہے اور اسی طرح کسی کی عادت سوموار اور جمعرات کے روزہ رکھنے کی ہو یا وہ جو ایک دن روزہ اور دوسرے دن افطار کرتا ہو تو ایسے سبھی لوگ روزہ رکھ سکتے ہیں جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "لا يتقدمن أحدكم رمضان بصيام يوم أو يومين إلا أن يكون رجل كان يصوم صومه فليصمه”۔ ([7])
یعنی کوئی شخص احتیاطی طور پر شعبان کے آخری ایک دو دنوں کا روزہ نہ رکھے کیونکہ رمضان کا روزہ رویت ہلال پر موقوف ہے ۔ لہذا احتیاط کی قطعی ضرورت نہیں ہے ۔ ہاں اگر کوئی اپنی عادت کے مطابق سوموار یا جمعرات کا دن ہونے کی وجہ سے رکھے تو اور بات ہے، اور اسی بات پر حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث کو بھی محمول کیا جائے گا جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یا کسی دوسرے صحابی سے کہا : "أصمت من سرر شعبان ………إلی آخرالحديث۔ ([8])
["سرر شعبان” کے متعلق مزید تفصیل جاننے کے لئے پڑھیں: پندرہویں شعبان کے روزے سے متعلق علی مرزا جہلمی کے ایک مغالطہ کا جواب – سلفی منہج (salafimanhaj.info)]
کیا تم نے شعبان کے آخری ایام میں (جن میں چاند روپوش ہوتا ہے ) کے روزے رکھے؟ کہا نہیں آپ نے فرمایا جب رمضان گزر جائے تو دو دن روزہ رکھ لینا ۔
عمر ان بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ یا کوئی دوسرے صحابی رضی اللہ تعالی عنہ اخیر ماہ میں عادتا روزہ رکھا کرتے تھے یا نذر کا روزہ رہا ہو جسے انہوں نے ماہ رمضان کی آمد کے انديشہ سے یا ایک دو دن قبل روزہ رکھنے کی ممانعت کی وجہ سے نہ رکھا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اندیشہ کودور فرمایا کہ صوم معتاد ممانعت کے اندر داخل نہیں ہے۔
([1]) (صحیح بخاری : 1979،صحیح مسلم :1156) ۔
([2]) (صحیح بخاری:1970، صحیح مسلم: 1156)۔
([3]) (صحیح مسلم: 1156، سنن سنائی:2351) ۔
([4]) ( أحمد والنسائى وغیرہ وحسنه الالبانی فی صحیح الجامع :3711)۔
([5]) (صحیح مسلم :1163عن ابی ہریرہ) ۔
([6]) ( اخرجہ اہل السنن عن ا بی ہریرہ، صحیح الجامع: 397)۔


