محترم قارئین: فقہاء اور علم اصول الفقہ کے ماہرین کے یہاں یہ بات مسلم ہے کہ عبادت کی اصل منع ہے، یا عبادات توقیفیہ ہیں، یعنی کوئی بھی عبادت اسی وقت روا اور جائز ہوگی جب اس کی صحیح دلیل پائی جائے گی، بصورت دیگر وہ بدعت کہلائے گی، اسی طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث اشارہ کرتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے ایسا عمل انجام دیا جس کی شریعت میں دلیل موجود نہیں، تو وہ عمل مردود ہے”۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے "اقتضاء الصراط المستقيم” اور "الفتاوی الکبری” میں بعض سلف کے عمل سے استدلال کرتے ہوئے پندرہویں شعبان کی رات میں انفرادی عبادت کو حسن قرار دیا ہے۔
اب کچھ احباب یہ کہہ رہے ہیں کہ اس مسئلہ میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی مخالفت کیسے کی جا سکتی ہے؟
قارئین کرام: دین اسلام، علماء کے احترام کو ضروری قرار دیتا ہے. لیکن دائرہ ادب میں رہ کر دلائل کی بنیاد پر ان سے اختلاف کو روا بھی قرار دیتا ہے۔
جیسے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مثال لے لیں، یہ اپنے والد امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں علم وفضل کے اعتبار سے کافی کم تھے، لیکن ایک موقع پر جب ایک شخص نے حج افراد اور حج تمتع کے بارے میں سوال کیا کہ دونوں حج میں سے کون زیادہ افضل ہے تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ حج تمتع افضل ہے، اس پر سائل نے کہا کہ امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ تو حج افراد کو افضل کہتے ہیں، اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سخت برہم ہوئے اور کہا کہ"أأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أحق أن يتبع أم أمر عمر؟” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل زیادہ اتباع کے قابل ہے یا پھر عمر رضی اللہ کا قول؟
پتہ یہ چلا کہ سنت نبوی کے مقابلے میں کسی عالم و فاضل کا قول ادب کے دائرے میں رہ کر رد کیا جا سکتا ہے، کیوں کہ کسی شخصیت کے احترام کے مقابلے میں نبی کی سنت کا احترام زیادہ ضروری ہے۔
اسی قسم کی یا اس سے شدید عبارت رئیس المفسرين عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی ثابت ہے۔
اس لئے مسئلہ ہذا میں ہمارے سامنے سنت نبوی اور ہدی الرسول یہی ہے کہ کسی بھی قسم کی عبادت اس رات میں انجام نہ دی جائے۔
کیوں کہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وأفعال اور اقرار سے کسی امر کی حلت و حرمت کا پتہ چلتا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی امر کو ترک کرنے سے بھی اس کے عدم جواز کا پتہ چلتا ہے، اور اس بات پر اجماع ہے کہ ماہ شعبان کی پندرہویں شب کو خاص کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی قسم کی کوئی بھی انفرادی عبادت انجام نہیں دی۔
معزز قارئین: کچھ احباب یہ بھی کہتے ہیں کہ تم سلف کی مخالفت کیسے کر سکتے ہو؟ جب بعض سلف سے اس مسئلے میں انفرادی عبادت ثابت ہے تو پھر اسے بدعت کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
قارئین کرام: سب سے پہلے تو یہ اچھی طرح جان لیں کہ سلف کرام سے مراد سب سے پہلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں، پھر ان کے بعد کے زمانے کے لوگ آتے ہیں، اور اس مسئلہ میں ائمہ سلف یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی پوری کی پوری جماعت اس بات کی قائل ہے کہ ماہ شعبان کی پندرہویں شب کو کسی قسم کی کوئی عبادت جائز نہیں، اگر جائز ہوتی تو ہم سے پہلے یقیناً وہ لوگ اس امر کو انجام دیتے، بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ ماہ شعبان کی پندرہویں شب میں خصوصیت کے ساتھ انفرادی عبادت کے عدم جواز پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا اجماع ہے تو یہ بیجا نہیں ہوگا۔
پتہ یہ چلا کہ دو زمانے میں ماہ شعبان کی پندرہویں شب میں انفرادی عبادت کے عدم جواز پر اجماع ہے، ایک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے، اس پر پوری امت کا اجماع ہے، اور دوسرا صحابہ کرام کے زمانے میں۔
بلکہ تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں لوگ ماہ شعبان کی پندرہویں شب کی عبادت کی بدعیت کے قائل تھے، چنانچہ جب یہ عمل تابعین کے زمانے میں شروع ہوا، اور شام کے کچھ تابعین جیسے خالد بن معدان، مکحول اور لقمان بن عامر رحمہم اللہ وغیرہم اس رات میں کافی عبادت کرنے لگے تو علماء حجاز کی اکثریت نے اس محدَث عمل پر نکیر کی، اور اہل مدینہ کے جملہ فقہاء نے اس کی تردید کی اور ان تمام نے ماہ شعبان کی پندرہویں شب کی عبادت کو بدعت گردانا۔ ([1])
اسی طرح محمد بن وضاح القرطبی رحمہ اللہ جن کی وفات سن 286 ہجری میں ہوئی انہوں نے اپنی مشہور کتاب "البدع” کے اندر ماہ شعبان کی پندرہویں شب کو ذکر کرکے اس کے اندر کی جانے والی جملہ عبادات کو بدعت قرار دیا ہے۔
اور امام مالک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ امت اسلامیہ میں بعد میں آنے والے افراد کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتی، جب تک کہ وہ اسی طریقہ کار کو نہ اپنا لیں جس کے ذریعہ صحابہ کرام کی اصلاح ہوئی تھی۔
معاملہ بالکل واضح ہے کہ جس عبادت کا انفرادی یا اجتماعی وجود نہ نبی ﷺ کے زمانے میں تھا اور نہ صحابہ کرام کے زمانے میں وہ کیوں کر مشروع ہو سکتا ہے؟
امام مالک رحمہ اللہ نے ایک اور موقع پر فرمایا تھا ہر کسی کی بات قابل اخذ ورد ہوتی ہے سوائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے۔
اسی اہم قاعدے کی اساس پر ہر کسی کا قول کتاب وسنت کے میزان تولا جائے گا، جو قول کھرا ہوگا، کتاب وسنت کے موافق ہوگا اسے لیا جائے گا، اور جو کتاب وسنت کے مخالف ہوگا اسے نہیں لیا جائے گا قطع نظر اس کے کہ وہ کس کا قول ہے۔
معزز قارئین: سلف میں کچھ مثالیں آپ کو ایسی مل جائیں گی جن کے بعض عقائد اہل سنت والجماعت کے مخالف تھے، جیسے قتادہ بن دعامہ السدوسی رحمہ اللہ، جن کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ وہ مفسرین محدثین کے قدوہ اور نمونہ تھے، اسکے باوجود یہ قدریہ کے عقیدہ کی طرف مائل تھے، اگر کوئی یہ کہے کہ بعض سلف کے یہاں قدریہ کا عقیدہ ملتا ہے اس لئے اگر کوئی آج کے زمانے میں یہ عقیدہ رکھتا ہے تو اس کیلئے بعض سلف نمونہ ہیں، کیا یہ صحیح ہوگا؟
اسی طرح امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ رحمہ اللہ نے خلق اللہ آدم علی صورتہ کی جو تفسیر بیان کی اس تفسیر کو امام احمد رحمہ اللہ جہمی تفسیر قرار دیتے ہیں، جبکہ آج کے دور میں شیخ البانی رحمہ اللہ اسی تفسیر کے قائل تھے جس کے امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ قائل تھے، اور شیخ خلق اللہ آدم علی صورۃ الرحمن والی حدیث کو ضعیف قرار دیتے تھے، اگر کوئی حدیث کا وہی معنی لے جو معنی ابن خزیمہ اور البانی رحمہما اللہ نے لیا ہے اور دلیل پیش کرے کہ بعض سلف اس کے قائل ہیں تو کیا ہم اس مسئلہ میں بھی توسع کریں گے اور کہیں کہ جب بعض سلف اس کے قائل ہیں تو یہ درست ہو سکتا ہے؟
ہر گز نہیں، مذکورہ دونوں مثالوں میں ہمارے لئے قابل اتباع نبی کے شاگردان رشیدان، اللہ رب العالمین کے پسندیدہ، روئے زمین پر جنت کا حق پانے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ہی ہیں، اور پھر جو ان کے منہج پر چلنے والے ہیں۔
آخری بات: جو لوگ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے قول کو بنیاد بنا کر اس رات میں انفرادی عبادت کے قائل ہیں ان سے ایک سوال ہے کہ: شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فتوی کتاب وسنت کی کس دلیل پر مبنی ہے؟
یقینا شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کوئی دلیل پیش نہیں کی ہے، بلکہ کہا ہے کہ بعض سلف ایسا کرتے تھے، تو سوال یہ ہے کہ جب اس رات میں شیخ الاسلام رحمہ اللہ کے فتوی کو بنیاد بنا کر انفرادی عبادت کا جواز پیش کیا جا سکتا ہے تو پھر خالد بن معدان اور مکحول جیسے عظیم تابعی جو اپنے زمانے کے امام تھے ان کے عمل کو بنیاد بنا کر اجتماعی عبادت کیوں نہیں کی جا سکتی؟
جس طرح اجتماعی عبادت کا انکار دلیل کا نہ ہونا ہے تو پھر انفرادی عبادت کا انکار بھی اسی طرح کیا جائے گا کیونکہ اس سلسلے میں بھی کوئی دلیل موجود نہیں!!!
بلکہ امام فاکہی نے تو اخبار مکہ میں اہل مکہ کا عمل نقل کیا ہے کہ جب ماہ شعبان کی پندرہویں شب ہوتی تھی تو تمام مردو خواتین کعبہ جاتے، پوری رات جاگ کر نماز و وطواف کرتے، اس رات میں مکمل قرآن ختم کرتے۔
قارئین کرام: جب شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے فتوی کو بنیاد بنا کر بعض اہل حدیث علماء اس رات میں انفرادی عبادت کو جائز کہہ سکتے ہیں تو پھر پورے اہل مکہ کے عمل کو بنیاد بنا کر بریلوی اور دیوبندی کے شانہ بشانہ ان کی مسجد میں جا کر پوری پوری رات عبادت کیوں نہیں کر سکتے؟
اس لئے محترم قارئین: کسی بھی عبادت کو انجام دینے سے قبل یہ تحقیق ضرور کرلیں کہ کیا اس مہینے کی اس تاریخ کے اس وقت میں خصوصیت کے ساتھ انفرادی یا اجتماعی عبادت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے؟
یا ان کے بعد صحابہ کرام میں سے کسی نے انجام دیا ہے؟
کیوں کہ اگر پوری دنیا کسی عمل کو بہتر سمجھ کر انجام دے تو وہ اس وقت تک بہتر خیر کا عمل نہیں ہو سکتا جب تک تاجدارِ مدینہ، احمد مجتبی، محمد مصطفی، سید المرسلین، خاتم النبیین، شفیع المذنبین یوم القیامۃ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر اس عمل پر نہ ہو.
اگر کتاب وسنت سے اس عمل کی دلیل نہیں ہے تو یقین مان لیں کہ یہ عبادت کسی طور پر روا نہیں ہے، کیوں کہ کسی رات میں انفرادی یا اجتماعی عبادت کی تخصیص کرنا صرف اور صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے، دوسرے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا۔
اللہ رب العالمین ہم سبھوں کو نیک سمجھ عطا کرے اور نہجِ صحابہ تا دم حیات چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
[1] (لطائف المعارف (1/ 137)۔


