مملکت سعودی عرب اور خدمت حرمین شریفین
از: محمد اشفاق سلفی
دربھنگہ (بہار)۔

مملکت سعودی عرب اپنے قیام ۱۳۱۹ ہجری سے لے کر تا ہنوز اللہ کے فضل و کرم اور اس کی تائید و توفیق سے ، پھر مملکت کے بانی شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ سے لے کر موجودہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز آل سعود حفظہما الباری تک کے حکمرانوں کی دین پسندی، عدل گستری، رعایا پروری اور انسانیت نوازی کے باعث پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے اور ان شاء اللہ آگے بھی جب تک اللہ چاہے قائم رہے گی۔ اس ملک کے حکمرانوں کی اولین ترجیحات میں حرمین شریفین کی توسیع اور تعمیر سر فہرست رہی ہے۔ چنانچہ بانی مملکت شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ نے حکومت کے استحکام کے بعد۱۳۵۴ ھ میں مطاف اور مسعی (سعی کی جگہ) کی اصلاح کے ساتھ دیواروں اور قبوں و مناروں کی اصلاح و ترمیم فرمائی، صحن مطاف میں پتھر لگوائے اور ۱۳٦۸ھ میں مسجد نبوی میں تجدید و توسیع کا حکم صادر فرمایا۔ جلالۃ الملک شاہ سعود نے حرم مکی کی توسیع فرمائی۔ مسجد حرام کے ارد گرد جو مکانات تھے انہیں ان کے مالکان سے خریدا تاکہ اپنے والد ماجد کے توسیعی عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں ۔ شاہ سعود نے مسجد نبوی کی توسیع کا بڑا اہتمام کیا اور خود تعمیری امور کی نگرانی فرمائی چنانچہ بڑی مضبوط اور خوبصورت عمارت بن کر تیار ہو گئی۔ اس موقع پر ۱۳۷۵ھ ماہ ربیع الاول میں ایک شاندار جلسہ منعقد ہوا۔ شاہ نے ۵۰ ملین ریال خرچ کئے۔ ۲۵ ملین تعمیر اور اتنی ہی رقم مکانات کا معاوضہ دینے پر صرف کئے۔ شاہ فیصل اور شاہ خالد رحمہما اللہ نے بھی حرم کی توسیع و تزئین میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ غلاف کعبہ کی تیاری کے لئے جدید مصنع بنوایا۔ حرم مکی کی لائبریری کے لئے مستقل عمارت تعمیر کرائی اور شاہ خالد رحمہ اللہ نے ۲۸۰ کیلو گرام خالص سونا سے کعبہ کا دروازہ تیار کرا کر کعبۃ اللہ میں لگوایا۔
ان کے بعد جب شاہ فہد کا دور آیا -جنہوں نے جلالۃ الملک کی جگہ خادم حرمین شریفین کہلانا پسند کیا اور تب سے یہ لقب بعد کے حکمرانوں کے لئے بھی باعث عزت و افتخار ہے-، تو انہوں نے پوری اسلامی تاریخ میں سب سے بڑا توسیعی پروجیکٹ منظور کیا اور اس کی تکمیل کے لئے اپنا وقت اور قیمتی اثاثہ جھونک دیا۔ مسجد حرام میں جدید آلات ، خود کار سیڑھیاں، صحن کعبہ (مطاف ) میں ٹھنڈے قسم کا سنگ مرمر لگوایا تا کہ گرمی کے دنوں میں طواف کرنے والوں کو ٹھنڈک محسوس ہو۔ شاہ فہد رحمہ اللہ کی توسیع کے بعد مسجد حرام میں ۱۵ لاکھ نمازیوں کے لئے جگہ بن گئی۔ مسجد نبوی بھی شاہ فہد کی توجہ کا خاص مرکز رہی۔ تفصیل شاید باعث طوالت ہو۔ پھر شاہ عبد اللہ خادم الحرمین رحمہ اللہ نے مسعی (سعی کی جگہ) اور مطاف کی توسیع کے ساتھ جمرات کو کنکریاں مارنے کے لئے پلوں کی تعمیرات اور آمد و رفت کے لئے میٹرو ریل شروع کیا اور دو ایسے فضائی چینل قائم کئے جو چوبیسوں گھنٹےحرمین شریفین کو دنیا کے سامنے پیش کیا کریں۔ اور جو بھی رہی سہی کسر تھی اسے موجودہ خادم حرمین ملک سلمان بن عبد العزیز نے پورا کر دیا اور تا ہنوز سلسلہ تعمیرات و تحسینات جاری و ساری ہے۔ الحمد للہ فی الحال دو ملین کے قریب لوگ بیک وقت مطاف اور مسجد حرام اور اس کی چھتوں پر نماز ادا کر سکتے ہیں۔
یہ مختصر تحریر تفصیل کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ تفصیلات نیٹ پر موجود ہیں اور حجاج و معتمرین اور زائرین شاہد عدل ہیں۔
الحاصل تمام حکمران آل سعود کے پیش نظر ہمیشہ یہ بات رہی کہ حجاج کرام جو اللہ تعالی کے مہمان ہیں، ہم ان کی اچھی میزبانی کریں۔ امن و امان کی فضا قائم رہے تاکہ حجاج بسہولت فریضہ حج و عمرہ اور زیارت مسجد نبوی پھر زیارت قبر شریف و صاحبین رضی اللہ عنہما ، بقیع غرقد اور شہداء احد کی قبروں کی زیارت کے ساتھ مسجد قبا -اسلام کی اولین مسجد جس کی تعمیر تقوی الہی کی اساس پر کی گئی-، کی زیارت کے بعد اطمینان کے ساتھ اپنے ملکوں کو واپس جائیں۔
اور اس مقصد عظیم کی تکمیل میں انہوں نے اپنا ہر غالی و نفیس قربان کیا۔ سیکوریٹی عملہ کی تعداد بہت بڑھا دی گئی تا کہ کوئی فساد اور فتنہ برپا نہ ہو اور چپہ چپہ پر نگرانی رکھی جائے۔ غرضیکہ جو انتظامات حکومت سعودیہ حجاج کے لئے کرتی ہے حقیقت یہ ہے کہ ان سے بہتر کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ سو سال سے زیادہ مدت سے حجاج کرام کی خدمت کا تجربہ رکھنے والی اور ہر ممکنہ سہولیات کی فراہمی میں خزانہ کا منہ کھول دینے والی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانا یا اس کو حجاج کی خدمت میں نا اہل قرار دینا یا ہرزہ سرائی کرتے ہوئے ایک عالمی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کرنا یا امن و امان کی قائم صورت حال کو ناقص باور کرانا، سراسر دین دشمنی اور نا عاقبت اندیشی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مکہ و مدینہ کے عالمی اسلامی پلیٹ فارم کو دین و عقیدہ کے بجائے باطل افکار و نظریات کی ترویج و اشاعت کے لئے استعمال کرنا اور یہاں کی دینی فضا کو سیاسی فضا میں تبدیل کرنے کا ناپاک ارادہ رکھتے ہیں -لا قدر اللہ- اللہ تعالی بد خواہوں کی حاسدانہ نظروں سے حرمین شریفین کو بچائے رکھے اور اس کے تقدس اور مقام و مرتبہ کو مزید بلند فرمائے اور آل سعود کی حکومت کو دین حق کی نشر و اشاعت اور عالم اسلام و عالم انسانیت کی خدمت کے لئے تا دیر قائم رکھے۔ آمین۔ ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد۔
