برصغیر کے دینی ومذہبی لٹریچر کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیشہ ایک بات ذہنوں میں کھٹکتی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ علم وفضل میں بلند مرتبت ہونے کے باوجود یہاں کے مصلحین ومجددین کے ہاں تک تصوف اور اس کی بدعی رسوم وعلامات کی آمیزش نظر آتی ہے جس کے اثرات بعد والے علماء وفضلاء کی تصانیف میں بھی پائے جاتے ہیں جبکہ نجد وحجاز کے علمائے توحید ان چیزوں سے یکسر محفوظ ہیں؟!
اس کی ایک وجہ بیان کرتے ہوئے مولانا مسعود عالم ندوی رحمہ اللہ (وفات: 1954ء) اپنی کتاب ” محمد بن عبد الوہاب۔ ایک مظلوم اور بدنام مصلح” ( ص: 225) میں لکھتے ہیں:
"شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کی تصنیفات کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان پر یونان اور یونانی علوم کی ہلکی سی پرچھائیں بھی نہیں پڑی۔
ہمارے ہاں ہندوستان کے بڑے سے بڑے مجددینِ امت کی کتابیں بھی یونانی گورکھ دھندوں اور ”اِشراقیت” کے اثرات سے یکسر پاک نہ رہ سکیں۔
شیخ محمد رحمہ اللہ کا طریقہ (تصنیف) بالکل قرآنی ہے اور ان کی دلیلیں، جزء و کل، قرآن و حدیث سے ماخوذ ہوتی ہیں۔
دوسری بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے ہاں تصوف کی اصطلاحات بھی ناپید ہیں۔ ویدانت اور نو اَفلاطونی فلسفے کے اس معجونِ مرکب نے، جس کا نام لوگوں نے تصوف رکھ چھوڑا ہے، اسلام کی بنیادیں کھوکھلی کر ڈالیں۔
اسلامی ہند کے مجددین نے یہ بڑی غلطی کی کہ وہ اس اَفیون کا استعمال کراتے رہے۔ افیون بہرحال افیون ہے، آپ اس کے لاکھ ’’بدرقے‘‘ استعمال کرائیے، اس کے برے اثرات بہرحال اعضائے رئیسہ کو تباہ کرتے جائیں گے۔
نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان کے مسلمان آج تک اس ”مایا جال” سے نہ نکل سکے۔ لیکن شیخ رحمہ اللہ کے صحیح علاج اور اس کے افیون سے مکمل پرہیز کے باعث نجد اور نواحِ نجد کے مسلمان اس گورکھ دھندے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکل گئے۔
بعض دوستوں نے یہ فرمایش کی ہے کہ تصوف کی مخالفت عمومیت کے ساتھ نہ کی جائے، بلکہ جیسے "علمائے سوء” کے فقرے سے بے عمل علماء کی نشان دہی کی جاتی ہے، اسی طرح "صوفیہ سوء” کی اصطلاح مکّار اور بدعت نواز صوفیوں کے لیے استعمال کی جائے۔ ہمیں اس مشورے کے قبول کرنے میں تامل نہ ہوتا اگر ہمارے سامنے ”تصوف” کی تباہ کاریاں نہ ہوتیں۔
باقی وہ جس ”احسان” اور اسلامی طریقِ تزکیہ کی دعوت دیتے ہیں، اس سے کس کافر کو اختلاف ہو گا؟
اختلاف اس غیر ماثور اصطلاح "تصوف” سے ہے جس کے پردے میں دن دیہاڑے دجل و فریب کا بازار گرم رہتا ہے اور اس فتنہ عام سے بچنے کی بھی یہی صورت ہے کہ اس لباس ہی کو اتار کر پھینک دیا جائے۔”
Previous articleحافظ زبیر صاحب، ساحل عدیم اور علما حق وسوء کا معیارNext article مولانا مودودی، شیخ ابن باز رحمہ اللہ اور بعض لوگ

Subscribe
0 Comments
Most Voted