فضیلۃ الشیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ
تلخیص وترجمہ: حافظ علیم الدین یوسف
دوران حیض مندرجہ ذیل امور حرام ہیں:
پہلا: بیوی سے جماع کرنا.
لہذا حالت حیض میں شوہر کا اپنی بیوی سے جماع کرنا (زوجین کے خاص تعلقات قائم کرنا) حرام ہے جسکی دلیل اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:"فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ” [البقرة: 222] حالت حیض بیویوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں تب تک ان کے قریب نہ جاؤ.
اور اس بات پر صرف علما کا ہی نہیں بلکہ پوری امت کا اتفاق ہے کہ دوران حیض بیوی سے جماع کرنا حرام ہے. (1)
حیض کا خون بند ہونے کے بعد اور غسل کرنے سے پہلے کیا مرد اپنی بیوی سے جماع کر سکتا ہے؟
اکثر اہل علم یہ کہتے ہیں اور یہی صحیح بھی ہے کہ جب تک عورت غسل نہ کر لے یا اگر غسل ممکن نہ ہو تو جب تک تیمم نہ کر لے تب تک مرد اپنی بیوی سے جماع نہیں کر سکتا.
البتہ حالت حیض میں جماع کے علاوہ شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے سے لطف اندوز ہونا جائز ہے اوربنیادی طور پر یہ مسئلہ متفق علیہ بھی ہے. (2)
حیض کی حالت میں ناف اور گھٹنہ کے درمیانی حصہ سے لطف اندوز ہونے کے سلسلے میں اختلاف ہے، صحیح بات یہی ہے کہ مخصوص جگہ سے بچتے ہوئے اگر ایسا کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے.
دوسرا : حالت حیض میں طلاق دینا حرام ہے.
لہذا کسی شخص کیلیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے، بلکہ یہ بدعت ہے، اللہ رب العالمین کا فرمان ہے: "فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ” [الطلاق: 1] عورتوں کو ان کی عدت کے ایام میں طلاق دو.
اس آیت میں لفظ "عدت” سے کیا مراد ہے؟ مفسرین کے اقوال میں سے راجح قول یہ ہے کہ: "عدت” سے مراد خواتین کی پاکی کے ایام ہیں.
مذکورہ آیت میں اللہ رب العالمین نے پاکی کے ایام میں عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے (اگر کوئی کسی وجہ سے طلاق دینا چاہ رہا ہے)، لہذا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے تو دو شرائط یاد رکھے:
1. پاکی کے دنوں میں طلاق دے.
2. حیض سے پاک ہونے کے بعد سے طلاق دیتے وقت تک بیوی سے جماع نہ کیا ہو. دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیں کہ: جس طہر میں طلاق دینی ہو اس میں جماع نہ کیا ہو.
ایک حدیث میں وارد ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حالت حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ: اسے اپنی بیوی سے رجوع کرنے کا حکم دو پھر اگر طلاق دینا چاہے تو حالت حمل یا طہارت کی حالت میں طلاق دے.
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حالت حیض میں طلاق جائز نہیں ہے.
کیا حالت حیض میں دی گئی طلاق واقع ہو جائے گی؟
اس سلسلے میں علما کا اختلاف ہے البتہ میرے نزدیک راجح جمہور کا قول ہے کہ: حیض کی حالت میں طلاق دینا گناہ کا کام ہے لیکن اگر کسی نے دے دیا تو واقع ہو جائے گی، اس کی ایک وجوہات ہیں:
1. طلاق کے وقوع کا معاملہ مرد کے طلاق دینے پر موقوف ہے، لہذا اگر کسی نے طلاق دے دی تو طلاق واقع ہو گئی.
2. ابن عمر رضی اللہ عنہ کے واقعہ میں دیکھیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ: اسے اپنی بیوی کو لوٹانے کا حکم دو.
اور یہ معلوم ہے کہ جب تک طلاق واقع نہ ہو تب تک لوٹانے کی بات نہیں کی جا سکتی، لہذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حالت حیض میں طلاق واقع ہو جاتی ہے.
3. نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ: اپنے بیٹے کو حکم دو کہ اپنی بیوی کو واپس لوٹا لے، یہ نہیں کہا کہ: عمر (رضی اللہ عنہ) جاؤ اور لڑکی کو واپس گھر لے آؤ بلکہ یہ کہا کہ: اپنے بیٹے سے کہو کہ رجوع کرے، لہذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حالت حیض میں طلاق واقع ہو جاتی ہے. واللہ اعلم.
تیسرا : نماز ادا کرنا.
امت کے تمام علما وعوام یہ بات یقینی طور سے جانتے ہیں کہ دوران حیض نماز کی ادائیگی حرام ہے جسکی دلیل نبی اکرم ﷺ کی یہ حدیث ہے: "إذا أقبلت الحيضة فدعي الصلاة” جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو. (بخاری، مسلم)
چونکہ حیض عورتوں کو کمزور کر دیتا ہے لہذا اللہ رب العالمین کی بڑی رحمت ہے کہ دوران حیض خواتین سے نماز کی ادائیگی کو معاف کر دیا نیز طہارت وپاکیزگی کے بعد ان نمازوں کی قضا بھی نہیں کرنی ہے.
چنانچہ اگر کوئی عورت دوران حیض نماز ادا کرتی ہے تو وہ گناہ گار ہوگی اور اگر کوئی پاک ہونے کے بعد ناپاکی کے ایام میں چھوٹی ہوئی نمازوں کو قضا کرتی ہے تو یہ عمل بدعت کہلائے گا.
چوتھا: روزہ رکھنا.
تمام علما متفق ہیں کہ عورتوں کیلیے دوران حیض روزہ رکھنا جائز نہیں ہے (3) اور اگر کسی نے رکھ لیا تو اس کا روزہ صحیح اور درست نہیں ہوگا.
نیز اس بات پر بھی علماء کرام متفق ہیں کہ رمضان کے بعد دوران حیض فوت شدہ روزے کی قضاء واجب ہے. (4)
ایک اہم مسئلہ: چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء آئندہ رمضان سے پہلے پہلے کر لینی ہے اور اگر بالفرض کسی نے اپنے فوت شدہ روزوں کی قضا نہیں کی حتی کہ رمضان کی آمد میں اتنے دن بچ گئے جتنا اس کا روزہ باقی ہے تو ایسی صورت میں اس کو ہر دن روزہ رکھنا واجب ہوگا تا کہ وہ رمضان آنے سے پہلے پہلے اپنے چھوٹے ہوئے روزے مکمل کر لے.
_____
(1). نیز اس کی دلیل نبی اکرم ﷺ کی وہ حدیث بھی ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ: جس نے عورت سے حالت حیض میں جماع کیا اس نے ﷺ پر نازل شدہ کتاب (قرآن) کا انکار کیا. (ترمذی: 145، ابن ماجہ: 639، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو "ارواء الغلیل” میں صحیح کہا ہے: 2006). (از مترجم)
(2). حضرت عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا: دوران حیض میرے لیے میری بیوی کے ساتھ کیا کچھ کرنا جائز ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: "ازار کے اوپر کا حصہ ہے”. (ابو داود: 212).(از مترجم)
(3) اس کی دلیل نبی اکرم ﷺ کی وہ حدیث ہے جس میں آپ ﷺ نے خواتین کو عید الفطر یا عید الاضحٰی کے دن وعظ ونصیحت کرتے ہوئے بکثرت صدقہ کرنے کا حکم دیا پھر اخیر میں فرمایا کہ: کیا ایسا نہیں ہے کہ جب تم میں سے کوئی عورت حیض کی حالت میں ہوتی ہے تو نہ ہی نماز پڑھتی ہے اور نا ہی روزہ رکھتی ہے؟ تمام عورتوں نے جواب دیا: ہاں. (صحیح بخاری: 304). (از مترجم)
(4) اس کی دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی یہ حدیث ہے جس میں آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: ہمیں [نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں] حیض آتا تھا تو آپ ﷺ ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیتے تھے اور نماز کی قضا کا حکم نہیں دیتے تھے. (صحیح مسلم: 69- (335)، ترمذی: 787). (از مترجم)