کیا عید کے دوسرے دن شوال کے روزے کی ابتداء کرنا مکروہ ہے؟
اس سلسلے میں بعض سلف کے اقوال نقل کئے جاتے ہیں کہ انہوں نے عید کے دوسرے دن روزہ رکھنے کو مکروہ سمجھا ہے، اس لئے عید کے دوسرے دن سے شوال کے روزے کی شروعات نہیں کرنی چاہئے، حالانکہ حلت وحرمت اور استحباب وکراہت کا فیصلہ دلائل کی بنیاد پر کیا جاتا ہے نہ کہ مجرد اقوال کی بنیاد پر، کیوں کہ امت شریعت کے احکام کی پابند ہے.
امام معمر اور ان کے شاگرد عبد الرزاق الصنعانی کہتے ہیں کہ: عید کے فوری بعد دوسرے دن روزہ نہ رکھا جائے، کیوں کہ یہ کھانے پینے کے ایام ہیں.
چنانچہ امام معمر سے پوچھا گیا کہ: کیا عید کے ایک دن بعد روزہ رکھا جائے تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی پناہ یہ عید کے ایام ہیں جو کھانے پینے کے ہوتے ہیں، البتہ ایام بیض کے روزے سے قبل تین روزے رکھ لئے جائیں، یا ایام بیض کے بعد رکھے جائیں،….. اسی طرح جب عبد الرزاق الصنعانی سے عید الفطر کے دوسرے دن روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اسے ناپسند کیا اور سختی سے اس کا انکار کیا(1).
دونوں امام کا مذکورہ قول کئی اعتبار سے مرجوح اور خلاف سنت ہے.
1- ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے عید الفطر کو عید الاضحٰی کے ایام پر قیاس کیا ہے، جو کہ صحیح نہیں ہے، کیوں کہ شریعت نے عید الفطر، عید الاضحٰی اور ایام تشریق میں روزہ رکھنے کو حرام قرار دیا، اور عید الفطر کا دوسرا دن قطعی طور پر ان حرمت والے دنوں میں داخل نہیں ہوتا، کیوں کہ جن ایام میں روزہ رکھنا حرام ہے ان ایام کی صراحت حدیث میں آئی ہے.
2- ان کی یہ رائے صحیح حدیث کے خلاف بھی ہے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ((من صام ستة أيام بعد الفطر کان تمام السنة.. ))(2).
مفہوم حدیث: جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے اسے پورے سال روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا.
اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے نے عید الفطر کے بعد روزہ رکھنے کی ترغیب دی ہے، یہ نہیں کہا ہے کہ عید الفطر کے دو یا تین دن کے بعد روزہ رکھا جائے، نیز عید کا دوسرا دن عید الفطر کے بعد ہی شمار ہوگا، اس لئے شرعا عید کے دوسرے دن روزہ رکھنے میں کوئی قباحت نہیں.
نیز "بعد الفطر” کے لفظ سے یہی سمجھ میں آتا ہے عید الفطر کے دوسرے دن سے شوال کے روزے کی شروعات جائز ہے، اس ضمن میں امام عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کا کلام آگے آرہا ہے.
3- عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ((أما صمت من سَرَرِ هذا الشهر؟ يعني: آخرَ شعبان، قال: لا، قال: إِذا أفطرت فصم يومين))(3).
ترجمہ: کیا تم نے ماہ شعبان کے اخیر میں روزہ نہیں رکھا؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب عید ہوجائے تو اس کے بدلے دو روزے رکھ لینا.
اس حدیث میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ نہیں کہا کہ عید کے دو یا تین دن بعد روزہ رکھنا، یا یہ کہ عید کے دوسرے دن روزہ مت رکھنا، پتا یہ چلا کہ عید کے دوسرے دن روزہ رکھنا مشروع ہے، اس دن کے روزہ رکھنے کی کراہیت کی کوئی دلیل نہیں، بلکہ عید کے دوسرے دن روزہ رکھنے کو مکروہ قرار دینا خلاف سنت ہے.
4- سلف صالحین کی اکثریت عید کے دوسرے دن روزہ رکھنے کی قائل ہے، بلکہ بعض نے دوسرے دن روزہ رکھنے کی صراحت کی ہے.
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے اس بات کو اختیار کیا ہے کہ یہ چھ روزے شوال کے ابتدائی دنوں میں ہی رکھنا چاہیے، اگر کوئی ان چھ روزوں کو الگ الگ رکھتا ہے تو بھی جائز ہے(4).
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ان چھ روزوں کو عید کے فوری بعد لگاتار رکھنا افضل ہے، اگر کسی نے الگ الگ کرکے رکھا، یا شوال کے اخیر میں رکھا تو اسے بھی شوال کے روزوں کی فضیلت حاصل ہوجائے گی(5).
صاحب تحفۃ الاحوذی عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ظاہرا وہی بات صحیح ہے جو امام نووی رحمہ اللہ نے نقل کی ہے، کیوں کہ حدیث میں وارد "بعد الفطر” کے لفظ کی دلالت اسی بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کے "بعد” سے مراد عید الفطر کے فوری بعد ہے(6).
ابن مفلح فرماتے ہیں کہ :…. امام ابن مبارک اور امام شافعی رحمہما اللہ نے ان چھ روزوں کو عید کے فوری بعد اور لگاتار رکھنا مستحب سمجھا ہے، دلیل کی روشنی میں یہی بات صحیح لگتی ہے، اور شاید امام احمد کی بھی یہی رائے ہے، کیوں کہ خیر وبھلائی کے امور میں جلد بازی اور سبقت کرنی چاہیے، لیکن اگر کوئی شوال کے ان روزوں کو لگاتار یا عید کے فوری بعد نا بھی رکھے پھر بھی اسے فضیلت حاصل ہو جائے گی(7).
ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پورے شوال میں روزہ رکھا جا سکتا ہے، لیکن جس قدر جلدی کیا جائے افضل ہے، چاہے وہ لگاتار رکھے یا پھر الگ الگ رکھے، کیوں کہ نیکی کے کام میں سبقت کرنا اور جلدی کرنا افضل ہے، جیسا کہ موسی علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے رب سے کہا: ((وَعَجِلتُ إِلَيكَ رَبِّ لِتَرضى)) [طه: ٨٤]
ترجمہ: اے میرے رب میں تیرے پاس جلدی اس لئے آیا کہ تو مجھ سے راضی ہوجا.
اسی طرح اللہ رب العالمین نے فرمایا: ((وَسارِعوا إِلى مَغفِرَةٍ مِن رَبِّكُم)) [آل عمران: ١٣٣].
ترجمہ: اور اپنے رب کی مغفرت حاصل کرنے کیلئے جلدی کرو.
نیز ایک جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ((فَاستَبِقُوا الخَيراتِ)) [البقرة: ١٤٨].
نیکی وبھلائی کے کام میں سبقت کرو(8).
ابن عثيمين رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: افضل یہی ہے کہ شوال کے چھ روزے لگاتار اور عید کے فوری بعد دوسرے دن سے ہی رکھے جائیں، اگر کوئی عید کے دوسرے دن سے روزے کی شروعات نہیں کرتا ہے، بلکہ تاخیر سے رکھتا ہے تو بھی کوئی حرج کی بات نہیں(9).
محترم قارئین: مذکورہ تمام نصوص اور اقوال سلف اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ماہ شوال کا روزہ جلد رکھنا افضل ہے، نیز عید کے دوسرے دن سے روزے کی شروعات کی جاسکتی ہے، کیوں کہ شریعت نے اس سے منع نہیں کیا ہے، بلکہ شریعت نے ماہ شوال کے روزے عید کے فوری بعد رکھنے کی ترغیب دی ہے، اس لئے ایسے اقوال کو نشر کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے جو سنت کے مخالف ہوں اور لوگوں کی تشویش کا باعث بنتے ہوں.
_______________________________________________________________
(1) مصنف عبد الرزاق (7922).
(2) سنن ابن ماجہ (1715).
(3) أخرجه البخاري(1983).
(4) جامع الترمذي (759).
(5) شرح صحیح مسلم (56/8).
(6) تحفۃ الاحوذی (544/3).
(7) الفروع (85/5).
(8) فتاوی نور علی الدرب (442/16).
(9) فتاوی نور علی الدرب (2/11).