محترم قارئین: اللہ رب العالمین نے شریعت کو نہایت سادہ اور آسان بنایا ہے، کہیں بھی کسی قسم کی کوئی پیچیدگی نہیں، ہر عبادت میں حالات وظروف کا خیال رکھا ہے، باجماعت نماز پڑھنا فرض ہے، لیکن بارش وغیرہ کی صورت جماعت کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے، اسی طرح وضوء نماز کیلئے شرط ہے لیکن پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم اس کے قائم مقام ہے، اسی طرح تمام عبادتیں ہیں جس میں بندوں کی سہولت کیلئے ہر قسم کے آپشن موجود ہیں.
قارئین کرام: شریعت مطہرہ میں بحالت نماز چہرہ ڈھکنے کی ممانعت آئی ہے، جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث حسن سند سے مروی ہے: ((نهى أن يغطي الرجل فاه)). [سنن أبي داؤد (1/ 174/ رقم: 634)].
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو نماز کی حالت میں منہ ڈھکنے سے منع کیا ہے.
اکثر علماء نے اس ممانعت کو کراہت پر محمول کیا ہے، جیسا کہ امام ابراہیم النخعی، شعبی، ابن ماجہ، نووی، ابن قدامہ وغیرہم رحمہم اللہ. [ الاستذکار (1/ 120)، سنن ابن ماجہ (1/ 310)، المجموع شرح المہذب (3/ 179)، الکافی (1/ 233)].
البتہ عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ نے اس ممانعت کو تحریم پر محمول کیا ہے [مرعاۃ المفاتيح (2/ 480)].
اس ممانعت کی علت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں کفار اپنے چہرے کو ڈھکا کرتے تھے، نیز مجوس بھی آگ کی عبادت کے وقت اپنے چہرہ کو ڈھک لیا کرتے تھے.
[مرقاۃ المفاتيح (2/ 636)، نیل الاوطار (2/ 92)، مرعاۃ المفاتيح (2/ 480)].
چہرہ ڈھکنا مکروہ تنزیہی ہو یا مکروہ تحریمی دونوں صورت میں بوقت ضرورت نماز میں چہرہ کا ڈھکنا جائز ہے.
چنانچہ حدیثِ مذکور کی شرح میں ملا علی قاری کہتے ہیں: چہرہ ڈھکنے کی ممانعت سے مراد یہ ہے کہ بلاضرورت چہرہ ڈھکے رہنا، اگر کوئی ضرورت پیش آجائے تو چہرہ ڈھکنا جائز ہے. [مرقاۃ المفاتيح (2/ 636)].
اور امام شوکانی کہتے ہیں: استمرار کے ساتھ چہرہ ڈھکنے سے منع کیا گیا ہے، اگر جمائی آجائے تو ہاتھ سے سے چہرہ ڈھکا جا سکتا ہے، جیسا کہ ارشاد نبوی ہے: (( إذا تثاءب أحدكم فليمسك بيده على فيه..)).
[صحيح مسلم (4/ 2293/ رقم: 2995)].
جب کسی کو جمائی آئے تو اسے ہاتھ سے روکے.
محترم قارئین: اگر ہم "نہی” کو کراہت پر محمول کرتے ہیں تو ضرورت کے وقت وہ کراہت ختم ہو جاتی ہے جیسا کہ قاعدہ ہے: «الكراهة تندفع مع وجود الحاجة».
اور اگر "نہی” کو حرمت پر محمول کرتے ہیں پھر بھی بسا اوقات حرام چیزوں کا ارتکاب بقدر ضرورت مباح ہوجاتا ہے، شرعی قاعدہ ہے: ((الضرورات تبیح المحظورات)).
اگر ہم نماز کی حالت میں ماسک پہننے کو بالکلیہ حرام قرار دیتے ہیں تو اس سے بیماری اور ہلاکت کا خدشہ بڑھتا ہے، اور شرعا بیماری اور ہلاکت سے بچنا مطلوب ہے جیسا کہ اللہ رب العالمین نے فرمایا: ((ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة)).
اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو.
اور ماسک نہ پہننا ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے.
نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے: ((ولا تقتلوا أنفسكم إن الله كان بكم رحيما)).
اپنے آپ کو نہ مارو، اللہ رب العالمین تم پر بڑا مہربان ہے.
اور ماسک کا نہ پہننا قتل نفس کا سبب ہو سکتا ہے.
معلوم یہ ہوا کہ ضرورت کے سبب نماز میں چہرہ ڈھکا جا سکتا ہے، خاص کر جب صحت اور جان کے ضرر کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں ماسک کا استعمال اور بھی ضروری ہو جاتا ہے.
قارئین آپ غور فرمائیں کہ آج کل ہم جو ماسک لگاتے ہیں وہ "کورونا” جیسے متعدی اور مہلک مرض سے بچنے کیلئے، جو ڈاکٹروں کے مطابق صحت وجان کی حفاظت کیلئے ضروری ہے، اور اکراہ کی صورت میں جان کی حفاظت کیلئے تو کفر وشرک تک کا ارتکاب شریعت نے روا رکھا ہے تو پھر اس وباء میں جان کی حفاظت کیلئے مکروہ کا ارتکاب کیوں کر جائز نہیں ہو سکتا؟ نیز یہاں بھی ماسک پہننے میں ایک قسم کا اکراہ اور زبردستی ہی ہے، کیوں کہ حکومت نے نہ پہننے پر جرمانہ بھی لگا رکھا ہے.
نیز یہ کہ نماز میں قبلہ کا استقبال ایک اہم شرط، قبلہ رخ کئے بغیر نماز نہیں ہوگی، لیکن جب حالت جنگ ہو تو اس میں جان کی حفاظت کو مطمح نظر رکھتے ہوئے قبلہ کی شرط ساقط ہوجاتی ہے، اور آدمی جس طرف بھی رخ کرکے چاہے نماز پڑھ سکتا ہے جیسا کہ سورہ بقرہ میں اس کی تفصیل موجود ہے، اسی طرح وبائی متعدی مرض "کورونا” میں بھی ماسک نہ پہننا صحت اور نفس کیلئے مہلک ہو سکتا ہے، اس لئے اس کا پہننا شرعا مطلوب ہے.
