کچھ عرصہ قبل ایک مضمون "چند کتابیں” کے عنوان سے زیرِ نظر ہوا، مضمون نگار نے اہل بدعت ومنکرینِ سنت کی کتابوں پڑھنے کا مشورہ دیا ہے، جس میں مولانا مودودی، سرفراز خان صفدر اور مسعود بی ایس سی کی تالیفات کو بطورِ خاص زیرِ مطالعہ لانے کی ترغیب دی گئی ہے۔
نوٹ: [اگر یہ مضمون دیگر مکاتبِ فکر کی جانب سے لکھا گیا ہوتا تو میں اس سے قطعا تعرض نہیں کرتا، چونکہ جنہوں نے یہ مضمون تحریر کیا ہے انہیں حلقہ اہل حدیث کے خواص احباب کے یہاں پذیرائی حاصل ہے، اس لئے نوکِ قلم کو تکلیف دینے کی نوبت آئی، کیوں کہ منہجِ سلف سے جڑے لوگوں کے متعلقین اگر منہجِ سلف کی مخالفت کریں تو اس کا اثر بہت گہرا اور دیر پا ہوتا ہے، اور ہم اہل حدیثوں کے ساتھ اکثر ایسا ہوا ہے کہ ہم کسی کی ظاہری حماست کو دیکھ کر اس کو قریب کرلیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمارے لئے وہ ناسور بن جاتا ہے، اللہ ہم سبھوں کو ہدایت دے اور منہج سلف پر قائم ودائم رکھے]۔
اپنے مضمون کی شروعات کرتے ہوئے موصوف کہتے ہیں کہ : "دو ایسی کتب جن کو پڑھ کر امید ہے کہ انسان انکار حدیث کی گمراہی میں کبھی مبتلا نہیں ہوسکتا، ان میں پہلی اہلحدیث عالم علامہ عبدالرحمٰن کیلانی کی ’’آئینہ پرویزیت‘‘ ہے اور دوسری سید مودودی کی ’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘.
غیور سلفی بھائیو! اوپر کے سطور کو بغور پڑھیں اور پھر سوچیں کہ مودودی صاحب کی مذکورہ کتاب پڑھ کوئی انسان انکار حدیث میں کبھی مبتلا نہیں ہو سکتا، لیکن اس کے مصنف مولانا مودودی خود اس کتاب کی تالیف کے بعد منکرین سنت کے علمبردار اور مشعلِ راہ بنے۔
یہ بات کسی بھی سلفی العقیدہ شخص پر مخفی نہیں کہ مولانا مودودی کی تعلیمات افکارِ سیئہ وضالہ وباطلہ کا مجموعہ ہے، جہاں آپ کو انکار حدیث کے ساتھ ساتھ اعتزال، اشعریت، صوفیت، خارجیت، رافضیت اور وحدۃ الوجود جیسے تمام عقائد آسانی سے دستیاب ہو جاتے ہیں۔
ماضی قریب میں ہندوستان میں انکارِ حدیث کے سرخیل سر سید، امین احسن اصلاحی اور مولانا مودودی وغیرہ ہی رہے ہیں۔
لوگوں کو حدیث کا انکار کرنا نہیں آتا تھا، لیکن مولانا مودودی اور ان جیسے حضرات کی کاوشوں کی بدولت لوگوں نے حدیث پر اعتراض کرنا، عقل و درایت کی کسوٹی پر پرکھ حدیث کا انکار کرنا، اور اسے عجمی سازش کا نتیجہ بتانا سیکھا ہے۔
لوگوں کو صحابہ پر کلام کرنا نہیں آتا تھا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف زبان درازی کرنا، دل میں بغض وعناد پالنا مولانا مودودی کی تحریروں سے لوگوں نے سیکھا۔
عام مسلمانوں کی رافضیوں سے قربت بھی بہت کم تھی، لیکن مولانا مودودی خمینی زندیق گمراہ کی حکومت سے ایسے مسحور ہوئے کہ وہ ان کی تعریف میں رطب اللسان رہتے تھے، چنانچہ اس کا اثر خاص حلقے میں آج تک دکھائی دیتا ہے، اور رافضیوں نے بھی اس کا صلہ انہیں اور ان کی جماعت کو گاہے بگاہے دیا ہے۔
جامعہ اسلامیہ کے ایک طالب نے مذکورہ مضمون کو اپنے فیس بک پیج پر نشر کیا تھا، جس پر کسی بھائی نے تعلیق چڑھائی تو اس طالب علم نے” خذ ما صفا ودع ما كدر” کا اس معلِّق کو مشورہ دیا۔
مثال کے طور پر یوں سمجھ لیں کہ مذکورہ طالب علم نے سونے کی دکان کھول رکھی ہے جس میں اصلی سونا، جعلی سونا اور تھوڑے سے پیتل کا کاروبار چلاتے ہیں، بس مشکل یہ ہے کہ وہ دونوں قسم کے سونا اور پیتل کو ایک ساتھ ملا کر لوگوں کے سامنے رکھ دیتے ہیں، اب لوگ اسے سونا ہی سمجھ کر اس کا بھاؤ کرتے ہیں، کوئی کم علم ان پر جب اعتراض کرتا ہے کہ بھائی ایسا لگ رہا ہے کہ اس میں ملاوٹ ہے ، تو یہ طالبِ علم کہتے ہیں کہ بھائی جو اصلی سونا ہے وہ لے لو اور جو نقلی سونا یا پیتل ہے اسے چھوڑ دو، اب بیچارا خریدار اس شش و پنج میں مبتلا ہے کہ مجھے جب اصلی سونے کی پرکھ نہیں تو میں جعلی سونا اور پیتل کی پہچان کیسے کروں؟
صفا وکدر کا کا نعرہ لگا کر سلفیوں کو اہل بدعت کی کتاب پڑھنے کی ترغیب دینا بالکل ویسے ہی جیسے کوئی شہد میں زہر ملا کر دے اور کہے کہ اللہ رب العالمین نے شہد میں شفا رکھی ہے، تم کو شہد سے مطلب ہونا چاہیے زہر سے نہیں۔
محترم قارئین! آخر وہ کون سا ایسا موضوع جس پر سلف نے اور منہجِ سلف کے پیروکار وں نے سیر حاصل بحث نہ کی ہو کہ ہمیں ایک خارجی و معتزلی فکر کے حامل سے اس کو سمجھنے کی ضرورت پڑ گئی؟
قارئین کرام! انکارِ حدیث سے بچنے کیلئے مولانا مودودی کی کتاب پڑھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ ظلم سے بچنے کیلئے ظالم سے مشورہ لینا، قتل جیسے شنیع عمل سے دور رہنے کیلئے قاتل سے نصیحت طلب کرنا، نماز کی اہمیت جاننے کیلئے بے نمازی کے پاس جانا، سود کے حرمت پر سود خور سے معلومات حاصل کرنا۔
شیخ البانی اور شیخ ابن باز رحمہما اللہ، اور شیخ صالح الفوزان وغیرہ حفظہم اللہ جمیعا فرماتے ہیں کہ: اخوان المسلمین اہل سنت والجماعت میں سے نہیں ہے، یاد رہے کہ جماعت اسلامی اور اخوان المسلمین کا منہج ومشرب ایک ہی ہے، ان دونوں کے درمیان وہی رشتہ ہے جو اشعریت وماتریدیت کے درمیان ہے۔
اہل علم و فضل کے نزدیک یہ نیا فرقہ ہے جس کے اصول منہج سلف کے اصول کے مخالف ہے جیسا کہ شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ فرماتے ہیں، تو پھر ان کے بانی ومؤسس کو کس خانے میں رکھا جائے؟
اس لئے قطاع الطریق کی پہچان کریں، اور منہجِ سلف کے دشمن کو پروموٹ کرنے والوں سے ساودھانی اختیار کریں۔
موصوف آگے لکھتے ہیں کہ: "اگر کسی صاحب کو سنت و بدعت میں فرق جاننامقصود ہو اور قواعد اصولیہ کی بنیاد پر یہ تحقیق مطلوب ہو کہ فرقہ ہائے باطلہ نے کس طرح سے بدعت کی تعریف میں بے جا تصرف کرکے کئی بدعات کو سنت کے دائرے میں لاکھڑا کرنے کی مذموم سعی کی ہے، تو ایسے احباب کو لازمی طور پر حنفی عالم علامہ سرفراز خان صفدر کی کتاب ’’راہ سنت‘‘ کا مطالعہ کرنا چاہیئے جو کہ اس موضوع پر بلاشبہ لاجواب و از حد معلوماتی کتاب ہے”
مولانا سرفراز خان صفدر فقہا حنفی، عقیدتا اشعری وماتریدی، اور طریقتا صوفی تھے۔
اگر کسی کو یہ جاننا ہو کہ مولانا سرفراز خان صفدر نے اہل حدیث اور ان کے علماء پر کیا کرم فرمائی کی ہے تو ان کی کتاب "طائفہ منصورہ” کی ورق گردانی کرلیں، اہل حدیث علماء کے تئیں ان کے دل میں چھپے نفرتوں کے لاوا کی گرمی مقدمے میں ہی محسوس ہوگی۔
ہمارے "چند کتابیں” والے موصوف اہل حدیثوں کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ سنت اور بدعت کے درمیان کا فرق ان سے سیکھنا چاہئے جنہوں نے خود اپنے گھر میں بدعت کو پناہ دے رکھی ہو۔
بھلا جو شخص سنتِ رفع الیدین کے انکار کیلئے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں چھ قسم کے خود ساختہ اضطراب کا دعویٰ کرکے حدیث کو ناقابل عمل سمجھے ان سے ہم سنت اور بدعت کا فرق کیسے سمجھیں؟
جو صحیح سنت پر عمل کرنا تو در کنار اس کو صحیح کہنے کا حوصلہ نہیں رکھتے ہوں ان سے سنت وبدعت کی تفریق کے مسائل سیکھے جائیں، یہ تو بڑے تعجب کی بات ہے۔
نماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کے سلسلے میں جو احادیث وارد ہیں ان سب کی تاویلات کرکے انکار کی چوکھٹ تک پہنچانے کیلئے انہوں نے باضابطہ ایک کتاب "احسن الکلام۔۔۔” تالیف کی ہے، جس میں سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا خوب بخیہ ادھیڑا ہے، اور اپنے امام کے قول کو صحیح ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی، ہاتھ پاؤں، قلم اور دماغ سب کا زور لگا دیا ہے۔
مولانا سرفراز خان صفدر کی اصطلاحات محدثین سے بے خبری، ائمہ دین اور ثقہ محدثین پر ان کے نوازشات، احادیث اور مختلف عبارتوں میں کانٹ چھانٹ، اور احادیث پر حکم لگانے میں تناقض کو جاننا ہے تو محترم شیخ ارشاد الحق اثری صاحب حفظہ اللہ ومتعہ بالصحۃ کی تصنیف ” مولانا سرفراز صفدر اپنی تصانیف کے آئینے میں” زیرِ مطالعہ لائیں، حقیقت وا ہو جائے گی۔
قارئینِ کرام! اپنے مسلک کی تائید میں اہل دیوبند حدیث کی جس طرح تاویل کرتے ہیں، اور اپنے امام کے قول کو مقدم کرنے کے لیے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو کھلواڑ کرتے ہیں یہ کسی پر مخفی نہیں، بلکہ انکار سنت کے چور دروازے انہیں مقلدوں نے پیدا کئے ہیں، البتہ ان کے انکارِ حدیث کی لگائی ہوئی کھیتی کی فصل جماعتِ اسلامی اور دیگر منکرین حدیث نے کاٹی ہے اور اسے انجام تک پہنچایا ہے۔
محترم قارئین! یہاں یہ بات جاننا بہت ضروری ہے کہ دیوبندی اور بریلوی دونوں ایک ہی ہیں، دونوں کے درمیان برائے نام ہی فرق ہے۔
دونوں فقہ میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو مانتے ہیں، دونوں خالص مقلد ہیں، دونوں عقیدے میں ماتریدیہ اور اشاعرہ ہیں، طریقت میں بھی صوفیت کے طرق اربعہ میں سے کسی ایک کو مانتے ہیں، دونوں کے درمیان مجھے جو فرق نظر آتا ہے وہ بس اتنا ہی کہ جو رائے اور عقیدت دیوبندی اپنے اکابرین کے بارے میں خفیہ طور پر رکھتے ہیں وہی چیز بریلوی ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں، اگر یقین نہ ہو تو ایک بریلوی عالم ارشد القادری کی کتاب "زلزلہ” کی ورق گردانی کریں، اس کتاب نے حقیقتا ایوان دیوبندیت میں زلزلہ برپا کر دیا تھا، جس پر عامر عثمانی صاحب تبصرہ کرتے ہوئے علماء دیوبند کو للکار بیٹھے۔
ارشد القادری کی مذکورہ کتاب کے رد میں کئی کتابیں منظرعام پر آئیں، جن میں اعتدال کی گردان لگانے والے بعض اہل ندوہ نے بھی شرکت کی تھی، پھر ان تمام ردود پر ارشد القادری کا دوسرا رد ” زیر وزبر” کے نام سے آیا، کتاب کیا ہے، دیوبند کے مسند نشینوں کے سروں پر لٹکتی ہوئی ننگی تلوار ہے، اس کتاب کے بعد گویا اہل دیوبند کو سانپ سونگھ گیا ہو، کیوں کہ بریلوی گھر کے بھیدی ہیں، اور انہیں لنکا ڈھانے میں کسی قسم کی کوئی دقت نہیں، چنانچہ انہوں نے ان کی دکھتی رگ پر ہاتھ ڈال دیا۔
محترم قارئین! ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ مذکورہ کلام کا مقصد کیا ہے؟
مقصد یہ ہے کہ مذکورہ کتاب میں اکابرینِ دیوبند کے ایسے ایسے واقعات، تصرفات، اور دعوے کا ذکر ہے کہ الامان و الحفیظ۔
یہ تمام کے تمام شرک وبدعات کے زمرے میں آتے ہیں، بلکہ یوں کہا جائے کہ بر صغیر میں بدعت کی پیدائش اور اس کا جنم اہل دیوبند اور بریلویت کے کارخانے سے ہوتا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔
جو خود بدعت کے علمبردار ہوں، سنت صحیحہ کو صرف اس لئے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہوں کہ وہ ان کے امام کے قول کے مخالف ہے، کیا ان سے ہمیں سنت وبدعت کے درمیان تفریق کو سمجھنے اور ان کی تالیف کو پڑھنے کی ضرورت ہے…!!! ؟؟؟
غیور سلفی بھائیو اور منہجِ سلف صالحین کے پیروکارو! مدلسین کی تدلیس کو سمجھیں اور اس سے بچنے کی حتی الوسع کوشش کریں.
موصوف آگے فرماتے ہیں: "مولانا مسعود احمد بی۔ایس۔سی نے ’’تفہیم اسلام بجواب دو اسلام‘‘۔ اس کتاب میں مسعود احمد صاحب نے "دو اسلام” کے ایک ایک پیرا کا علاحدہ علاحدہ جواب لکھا ہے۔ اس کتاب (تفہیم اسلام بجواب دو اسلام) کو پڑھ کر غلام جیلانی برق صاحب نے اپنے موقف سے رجوع کیا اور کتاب ’’تاریخ تدوین حدیث‘‘ لکھی۔۔”
مسعود بی ایس برادرس (زبردستی کے مفتیوں) کے سلسلے کی ایک کڑی ہیں، جیسے مودودی صاحب، امین احسن اصلاحی صاحب، سر سید صاحب، غامدی صاحب وغیرہ نے علماء شریعت کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کئے بغیر علم حاصل کرنے کو ترجیح دی اور کتابوں کو ہی اپنا استاد سمجھا، اسی طریق کو موصوف نے بھی اپنایا، اور بعد میں الگ سے اپنی ایک جماعت "جماعۃ المسلمین” بنا ڈالی۔
اس جماعت کے اصول و ضوابط اور قواعد و شروط بھی تیار کئے گئے، چناں چہ جو اس جماعت میں شامل ہوا وہی مسلمان ہے، بقیہ سب کفار ہیں۔
لفظِ "مسلم” کو لے کر بڑی دھما چوکڑی مچائی، اور پھر جماعۃ المسلمین کی مشین سے دھڑا دھڑ تکفیر وتبدیع کے فتوے تیار ہو کر نکلنے لگے۔
محترم قارئین! مان لیجئے کہ ایک آدمی بریلوی عالم کی کتاب پڑھ کر مسلمان ہوتا ہے تو کیا ہم تمام مسلمانوں کو بریلوی عالم کی کتاب پڑھنے کا مشورہ دیں گے؟
مسعود بی ایس سی صاحب نے غلام جیلانی برق صاحب کی کتاب "دو اسلام” کا جواب دیا، لیکن پھر بعد میں مسعود بی ایس سی صاحب خود دو اسلام کے قائل ہو گئے، جہاں ان کی جماعت کا اسلام الگ تھا اور اور بقیہ تمام مسلمانوں کا اسلام الگ۔
مسعود بی ایس سی صاحب نے "توحید المسلمین” نامی کتاب تالیف کی جس میں اللہ کے حاضر وناظر ہونے کا عقیدہ بڑے زور و شور سے اٹھایا، اور اللہ کو حاضر قرار دینے کیلئے اس قدر زور صرف کیا ہے کہ قلم ٹوٹ گیا۔
قارئینِ کرام! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے فتنے کی پیشن گوئی کی ہے جس کا ظہور ان دعاۃ کی شکل میں ہوگا جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے، وہ ہم میں سے ہی ہوں گے اور ہماری زبان ہی بولیں گے، اپنی باتوں کو اسلام کے نام پر ہی پیش کریں گے، ان کی باتیں اوپر سے بڑی سنہری ہوں گی لیکن اندر سے ہلاکت وگمراہی کا ذخیرہ ہوں گی، جس طرح راکھ اوپر سے ٹھندی ہوتی ہے لیکن اس کے اندر چھپی ہوئی چنگاری بڑا دھماکا کر سکتی ہے۔
سلف صالحین، ائمہ دین، اور فقہاء صالحین سے محبت کرنے والے غیرت مند مسلمان بھائیو! منہجِ سلف کو خود ساختہ افکار کے حاملین کے سپرد کرنے سے بچیں، کیوں جن کتابوں سے موصوف آپ کا رشتہ جوڑنا چاہتے ہیں ان میں کی اکثریت نے انکار حدیث میں حصہ لیا ہے، بعض نے کھل کر تو بعض نے پسِ پردہ۔
اس لئے کسی کی بھی بات قبول کرنے سے قبل دیکھیں کہ وہ منہجِ سلف صالحین کے مطابق اپنی بات پیش کر رہا ہے یا اس سے ہٹ کر۔


