آج کل سوشل میڈیا پر پندرہ شعبان کے تعلق سے ایک میسیج خوب فارورڈ کیا جا رہا ہے جس میں لکھا ہے کہ: "شبِ برات آنے والی ہے، اس مبارک رات میں اللہ کی بارگاہ میں ہم سب کے اعمال نامے پیش ہونے ہیں، آج تک میری طرف سے جانے انجانے میں کوئی غلطی، گستاخی، غیبت ہوئی ہو، یا میری کسی بات سے آپ کا دل دکھا ہو تو اللہ کی رضا کے لئے لئے شب برات سے پہلے مجھے معاف کردیں۔
اس میسیج کے تعلق سے چند ایک ملاحظات آپ کے سامنے عرض کرتا ہوں:
نمبر ایک: ماہِ شعبان میں بندوں کے اعمال اللّہ تعالیٰ کے حضور یقیناً پیش کئے جاتے ہیں لیکن یہ پندرہ شعبان کی رات کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ماہِ شعبان میں کسی بھی دن بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کئے جا سکتے ہیں،۔
جیساکہ۔۔۔۔۔
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے (رسول اللہﷺ سے) عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو کسی مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنے آپ شعبان میں رکھتے ہیں۔ (کیا وجہ ہے؟) آپ نے فرمایا: ’’یہ وہ مہینہ ہے کہ رجب اور رمضان المبارک کے درمیان آنے کی وجہ سے لوگ اس سے غفلت کر جاتے ہیں، حالانکہ یہ وہ مہینہ ہے کہ اس میں رب العالمین کے ہاں انسانوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ لھٰذا میں چاہتا ہوں کہ جب میرے عمل پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔‘‘
(سنن نسائی، حدیث نمبر 2359)
اس حدیث سے معلوم یہ ہوا کہ شعبان کے مہینے میں اللہ تعالیٰ کے حضور بندوں کے اعمال پیش تو کئے جاتے ہیں لیکن اس مہینے کی کس تاریخ کو پیش کئے جاتے ہیں یہ متعین نہیں ہے۔
لہذٰا ہم اپنی جانب سے کسی خاص دن یا تاریخ کو متعین کرنے کا حق نہیں رکھتے، الا یہ کہ کوئی دلیل موجود ہو؟
دوسری بات یہ کہ:
ماہِ شعبان کے علاوہ ہر سوموار اور جمعرات کو بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بندوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں۔
جیساکہ۔۔۔۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سوموار اور جمعرات کو اعمال ( اللہ کے حضور ) پیش کئے جاتے ہیں، میری خواہش ہے کہ میرا عمل بحالت روزہ پیش کیا جائے“۔
(جامع ترمذی, حدیث نمبر: 747)
اور اتنا ہی نہیں بلکہ ہر دن صبح وشام بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جاتا ہے۔
جیسا کہ۔۔۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’بےشک اللہ تعالیٰ سوتا نہیں اور نہ سونا اس کے شایان شان ہے ، وہ میزان کے پلڑوں کو جھکاتا اور اوپر اٹھاتا ہے ، رات کے اعمال دن کے اعمال سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اس کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں "۔
(صحیح مسلم، حدیث نمبر 445)
معلوم یہ ہو کہ صرف سال میں ایک بار ہی نہیں بلکہ ہر دن گناہ کے کاموں سے بچنا چاہیے، خصوصاً بڑے بڑے گناہوں سے، اور ہر دن معافی مانگنی چاہیے اگرکسی بھی طرح کی کوئی غلطی ہو جائے، اور ہر دن کو دین اسلام کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزارنی چاہیے نہ کہ صرف سال میں ایک بار، تاکہ جب بھی ہمارے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے تو ہمارے اعمال اچھے ہوں۔
تیسری بات یہ کہ۔۔۔۔
اس طرح کے میسیج فارورڈ کر نے کے دو بڑے بقصانات ہیں۔
پہلا بڑا نقصان یہ ہے کہ اگر ہم پندرہ شعبان کی رات کو خاص کر دیتے ہیں کہ اس رات میں اللہ تعالی کی بارگاہ میں بندوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو یہ بدعت ہوگا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اعمال کے پیش کئے جانے کی تخصیص اس رات کے ساتھ نہیں کیا۔ اور یہ بات تو معلوم ہی ہوگی کہ شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ بدعت ہے۔
اور دوسرا بڑا نقصان یہ ہے کہ عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ غلط بات بیٹھ جائے گی کہ ، سال میں ایک بار لوگوں سے معافی مانگ لو باقی پورے سال گستاخیاں کرتے رہو۔
جیسا کہ آج ہم اپنے معاشرے کا حال دیکھ رہے ہیں کہ اکثر لوگوں کو سال بھر عبادت کرنے اور اپنی غلطیوں کی معافی مانگنے کا خیال تک نہیں آتا لیکن پندرہ شعبان کو پوری رات جاگ کر گزار دیتے ہیں۔
اس لئے ایسے میسیج کو فارورڈ کرنے سے بچنا چاہئے۔


