دین اسلام کے بنیادی مقاصد میں سے ایک مقصد حق و باطل کے ما بین تمییز کو بیان کرنا ہے، نیز ہدایت و سنت کی راستے کی وضاحت کرنا اس پر چلنے کی دعوت دینا ہے، اور ساتھ ہی اہل بدعت و ضلالت کی گمراہیوں کو بیان کرنا، لوگوں کو اس سے بچنے کی تلقین کرنا بھی ہے، جیسا کہ اللہ رب العالمین نے فرمایا: ﴿قَد كانَت لَكُم أُسوَةٌ حَسَنَةٌ في إِبراهيمَ وَالَّذينَ مَعَهُ إِذ قالوا لِقَومِهِم إِنّا بُرَآءُ مِنكُم وَمِمّا تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ كَفَرنا بِكُم وَبَدا بَينَنا وَبَينَكُمُ العَداوَةُ وَالبَغضاءُ أَبَدًا حَتّى تُؤمِنوا بِاللَّهِ وَحدَهُ إِلّا قَولَ إِبراهيمَ لِأَبيهِ لَأَستَغفِرَنَّ لَكَ وَما أَملِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَيءٍ رَبَّنا عَلَيكَ تَوَكَّلنا وَإِلَيكَ أَنَبنا وَإِلَيكَ المَصيرُ﴾۔([1])
( تمہارے لیے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں، ہم تمہارے عقائد کے منکر ہیں، اور جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ ﻻؤ ہمارے اور تمہارے مابین عقیدہ کی بنیاد پر بغض وعداوت قائم رہے گی، لیکن ابراہیم کی اتنی بات تو اپنے باپ سے ہوئی تھی، کہ میں تمہارے لیے استغفار ضرور کروں گا اور تمہارے لیے مجھے اللہ کے سامنے کسی چیز کا اختیار کچھ بھی نہیں۔ اے ہمارے پروردگار تجھی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے، اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے)۔
سلف صالحین رحمہم اللہ نے کتاب وسنت کی روشنی میں ہر موضوع پر نہایت عمدہ، مفصل اور سیر حاصل بحث کی ہے، شاید ہی کوئی ایسا گوشہ ہو جو تشنہ رہ گیا ہو، جیسے ایک مخلص طبیب مریض کیلئے خیر خواہ ہوتا ہے اور اسے ان چیزوں سے روکتا ہے جو اس کی صحت کیلئے مضر ہوں، اور ان اشیاء کے استعمال کی ترغیب دیتا ہے جن میں اس کی تندرستی اور صحت وعافیت کا راز مضمر ہو، بالکل اسی طرح ایک مخلص عالم دین عوام الناس کیلئے طبیب کے قائم مقام ہوتا ہے جو ان کی عقیدہ ومنہج کی صحت وسلامتی کے پیشِ نظر ان پگڈنڈیوں پر چلنے سے منع کرتا ہے جہاں دن میں بھی دھندلا پن ہو، اور پائے ثبات میں لغزش پیدا ہونے کا خطرہ ہو، اور ان شاہراہِ عام پر چلنے کی تلقین کرتا ہے جہاں کی رات بھی دن کے مانند ہے۔
چنانچہ اہل بدعت کی کتابوں میں پائے جانے والے افکار انہیں دھندلی پگڈنڈیوں کے مانند ہیں جہاں قدم ڈگمگانے کا پورا خطرہ ہوتا ہے، گرچہ اس دھندلے پن میں کچھ نظر آجائے لیکن لغزش کا خطرہ ہنوز برقرار رہتا ہے، جبکہ اہل سنت اور سلف صالحین کی کتابیں ان شاہراہِ عام کی مانند ہیں جہاں اندھیرا تو دور کی بات، سنت کی ضیاء پاش کرنوں سے وہاں کی راتیں بھی دن کی طرح روشن ہوتی ہیں۔
اصل موضوع کو بیان کرنے سے قبل چند باتوں کا سمجھ لینا از حد ضروری ہے:
1- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شریعت کو سمجھنے کیلئے جو معیار مقرر کیا وہ "ما انا عليه وأصحابی” ہے، اور الحمد للہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے کسی ایک سے بھی بدعت کا صدور نہیں ہوا، گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس راستہ پر چلنے کا حکم دیا جس پر ذرہ برابر بھی بدعت کی آمیزش نہ ہو، اس لئے ہر جمعہ کے خطبہ میں "وایاکم و محدثات الأمور، کل بدعۃ ضلالہ” کا درس ان صحابہ کرام کو دیا کرتے تھے جن سے بدعت کا صدور ممکن نہیں تھا۔
2- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے زمانے میں کئی بدعتوں نے اور بدعتی فرقے نے جنم لیا، جیسے خوارج، قدریہ، روافض وغیرہ، لیکن ہمیں ایک بھی صحابی کا قول یا عمل ایسا نہیں ملتا جس میں انہوں نے اہل بدعت کے سردار جیسے ذو الخویصرہ التمیمی، عبد اللہ الراسبی، معبد الجہنی اور عبد اللہ بن سبا وغیرہم کی کاوشوں سے استفادہ کی ترغیب دی ہو!!
حالانکہ خوارج، روافض اور قدریہ کے مذکورہ سرداروں میں کچھ نہ کچھ تو خوبی ضرور رہی ہوگی، بلکہ خوارج کی عبادت کی تعریف تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں کی ہے، اعتدال کا تقاضا تو یہ تھا کہ صحابہ کرام اپنے زمانے کے مسلمانوں کو خوارج سے عبادت، تلاوت، زہد و ورع اور نماز وغیرہ میں اطمینان و سکون سیکھنے کی تلقین کرتے جس طرح آج لوگ مولانا مودودی اور وحید الدین خان صاحبان سے استفادہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں.
3- "سلفیت” کسی کی جاگیر نہیں کہ جس کے منہ میں جو آئے اسے "سلفیت” قرار دے دے، اور جو چاہے منہ اٹھا کر "سلفیت” کے اصول و ضوابط پر نقد کرنے لگے، "سلفیت” کتاب و سنت کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے فہم سے سمجھنے کا نام "سلفیت” ہے، اس لئے اس نام پر کچھ بیان کرنے کیلئے کتاب و سنت اور اقوال صحابہ و سلف صالحین سے استدلال نہایت ضروری ہے، کیونکہ منہج و عقیدہ کے سلسلے میں لم یدع الأول للآخر مقالا. (سلف صالحین نے بعد میں آنے والوں کے لئے اعتقادی امور میں کوئی تشنہ لب پہلو نہیں چھوڑا)۔
4- "سلفیت” کوئی نو وارد فکر نہیں کہ مولانا مودودی اور وحید الدین خان صاحبان جیسے لوگوں کے دفاع کیلئے اس کے اصول و ضوابط کو بالایے طاق رکھ کر تہذیب و شائستگی ہر حد کو پار کر دیا جائے۔
5- "سلفیت” خالص کتاب و سنت کی تعلیم کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور سلف صالحین کے فہم کی روشنی میں سمجھنے کا نام ہے، اسے سمجھنے کیلئے ہمیں مولانا مودودی اور مودودیت نواز لوگوں قطعی ضرورت نہیں، کیوں کہ مولانا مودودی اور وحید الدین خان جیسے گمراہ لوگوں کی گمراہ فکر کے بنا ہی ہمارا دین مکمل ہے۔
اب ہم اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں، اہل بدعت اور گمراہ کن نظریات و افکار کے حاملین کی کتابوں کو پڑھنے اور ان کی باتوں کو سننے کا حکم شریعت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں گے، ان شاء اللہ:
اللہ رب العالمین فرماتا ہے: ((وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ)).
(تمہیں یہ بات قرآن مجید میں بتا دی گئی ہے کہ جب تم کسی کو اللہ رب العالمین کی آیات کا انکار کرتے یا اس کا مذاق اڑاتے سنو تو ان کے ساتھ نہ بیٹھو، یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ کر دوسری گفتگو نہ کریں، اگر تم نے ان کی اس کفریہ مجلس میں شرکت کی تو تم انہی کے جیسے ہوگے)۔
ابن جریر طبری رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس آیت کریمہ میں ہر قسم کے بدعتی اور فاسق و فاجر کی بدعی اور فسق و فجور کی مجلس و محفل میں بیٹھنے کی ممانعت آئی ہے۔ ([2])
نبی کریم صلی اللہ علیہ نے فرمایا: «الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُر أَحَدُكُم مَنْ يُخَالِل»۔ ([3])
(انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لئے بہت سوچ سمجھ کر دوست کا انتخاب کیا کرو)۔
اور ایک جگہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «المَرْءُ مَعَ مَن أحَبَّ»۔ ([4]) (انسان کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے)۔
1- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا گیا کہ بعض لوگ قرآن پڑھتے ہیں، ان کے پاس علم بھی ہے لیکن وہ تقدیر کا انکار کرتے ہیں، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سائل سے کہا: «فإذا لقيت أولئك فأخبرهم أني بريء منهم، وأنهم برآء مني».([5]) (ان لوگوں سے جب تمہاری ملاقات ہو تو انہیں بتا دینا کہ میں ان سے بَری ہوں، اور وہ مجھ سے بَری ہیں)۔
2- طلق بن حبیب مرجئ تھے انہوں نے جندب بن عبد اللہ البجلی رضی اللہ عنہ سے قرآن کی ایک آیت کی تفسیر پوچھی، (پوچھنے کے انداز سے صحابی نے بھانپ لیا کہ یہ بدعتی ہے) چنانچہ جندب رضی اللہ عنہ نے کہا: «أحرِّج عليك إن كنت مسلمًا لما قمت عنِّي، أو قال: أن تجالسني». ( فورا میری مجلس سے چلے جاؤ، اور آئندہ میری مجلس میں مت آنا)۔ ([6])
3- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ابو صالح ذکوان السمان سے کہا: «لا تجالس أهل الأهواء ، فإن مجالستهم ممرضة للقلوب». (بدعتیوں کی ہم نشینی مت اختیار کرنا، کیونکہ ان کے ساتھ رہنے اور اٹھنے بیٹھنے سے دل بیمار ہو جاتا ہے اور شبہات کا مرض لاحق ہو جاتا ہے)۔ ([7])
4- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: «إن نجدة يقول كذا وكذا، فجعل لا يسمع منه كراهية أن يقع في قلبه منه». (نجدہ نامی بدعتی ایسا ایسا کہتا ہے، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس بات کو ان سنی کردیا کہ کہیں ان کے دل میں وہ بدعت گھر نہ کر جائے)۔([8])
5- ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: «لا أشركت أمة قط إلا كان بدوه تكذيب بالقدر، وإنكم ستبلون بهم – أيتها الأمة! – فإن لقيتموهم فلا تمكّنوهم؛ فيدخلوا عليكم الشبهات». (ہر امت میں شرک کی شروعات تقدیر کی تکذیب سے ہوئی ہے، اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے اندر بھی اس قسم کے لوگ پیدا ہو سکتے ہیں، اگر ان سے ملاقات ہو تو ان سے سوال و جواب نہ کرنا اور نہ انہیں کرنے کا موقع دینا ورنہ وہ اپنے شبہات تمہارے دل میں بٹھا دیں گے۔ ([9])
مذکورہ بالا آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل بدعت کے ساتھ کس طرح پیش آیا جائے:
1- اہل بدعت سے براءت کا اعلان کیا جائے، اور ان سے دوری اختیار کی جائے۔
2- اگر وہ اہل سنت کی مجالس میں آکر شبہات پھیلانے کی کوشش کریں تو انہیں مجلس سے بھگا یا جائے۔
3- ان کی ہم نشینی اختیار نہ کی جائے۔
4- ان کی گفتگو نہ سنی جائے۔
کسی ایک صحابی سے بھی کہیں ثابت نہیں ہے کہ وہ اہل بدعت کی مجالست اختیار کرتے تھے، یا ان کی مجلس میں شریک ہوتے تھے، یا ان کی حق بات کو مانتے تھے اور ان کے باطل کو در گذر کرتے تھے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا اس بات پر اجماع تھا کہ اہل بدعت کے کی مجلس میں شریک ہونا یا ان کی گفتگو سننا یا ان کے ساتھ رہنا جائز نہیں ہے، کیونکہ مذکورہ صحابہ کرام کی کسی صحابی نے مخالفت نہیں کی ہے، اور اسی کو اجماع کہتے ہیں۔
امام بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین، تابعین عظام، تبع تابعین اور اہل سنت والجماعت کے تمام علماء کا اہل بدعت کے تئیں بغض و عداوت اور ان سے قطع تعلقی پر اتفاق ہے۔ ([10])
اور ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: سلف صالحین اہل بدعت کی ہم نشینی سے، ان کی کتابوں کو پڑھنے سے اور ان کی گفتگو سننے منع کیا کرتے تھے۔ ([11])
یہی معاملہ تابعین رحمہم اللہ کے یہاں بھی تھا، چنانچہ امام اوزاعی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ: ایک شخص کہتا ہے کہ میں اہل سنت کی مجلس میں بھی بیٹھتا ہوں اور اہل بدعت کی مجلس میں بھی بیٹھتا ہوں، اس شخص کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
امام اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ ایسا شخص ہے جو حق وباطل کو یکساں سمجھتا ہے، اور اس کے درمیان مساوات کا خواہاں ہے۔ ([12])
بدعت اور اہل بدعت پر رد کرنے کے متعلق شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "جو شخص بدعت کا داعی ہو لوگوں کے سامنے اس کی گمراہیوں کو بیان کرنا واجب ہے، کیونکہ ایسے شخص کا فتنہ و فساد چور او ڈاکو کے فتنہ و فساد سے بھی بڑھ کر ہے”۔ ([13])
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں: "بدعتی (علما، داعی و خطیب اور مؤلف وغیرہ) گمراہیوں کو بیان کرنا اور امت کو ان سے دور رہنے کی تلقین کرنا واجب ہے، اور اس بات پر مسلمانوں کا اتفاق ہے، امام احمد رحمہ اللہ سے کہا گیا: جو شخص نمازیں پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، اعتکاف کرتا ہے آپ کے نزدیک وہ زیادہ بہتر ہے یا جو شخص اہل بدعت کی گمراہیوں کو بیان کرتا ہے اور لوگوں کو ان سے دور رہنے کی تلقین کرتا وہ بہتر ہے؟
امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا: نماز، روزہ اور اعتکاف وغیرہ تو انسان اپنی ذات کیلئے کرتا ہے، (یعنی اس کا فائدہ صرف کی ذات کو پہنچتا ہے)، لیکن جو شخص اہل بدعت کی گمراہیوں کو واضح کرتا ہے، لوگوں کے سامنے اسے بیان کرتا ہے، اور انہیں ان سے دور رہنے کی تلقین کرتا ہے وہ مسلمانوں کی خیر خواہی کر رہا ہوتا ہے، اور مسلمانوں کا خیر خواہ میرے نزدیک بہتر اور افضل ہے”…….
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ آگے فرماتے ہیں: "بدعت اور اہل بدعت کی ذریعہ جنم لینے والا فساد اور ان کے ذریعہ پھیلائی گئی ضلالت و گمراہی دوران جنگ دشمنوں کے مسلمانوں پر مسلط ہونے سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ جب دشمن مسلمانوں پر غالب آتے ہیں تو عقائد و ایمان اور دین و اسلام میں بگاڑ پیدا نہیں کرتے، جب کہ اہل بدعت لوگوں کے عقائد و ایمان اور دین اسلام میں ہی فساد و بگاڑ پیدا کرتے ہیں”۔ ([14])
کتاب و سنت، اجماع امت، سلف صالحین اور محقق اہل علم کے کلام کی روشنی میں بالکل واضح ہے کہ دین و ایمان اور عقیدہ کی حفاظت کی خاطر بدعت اہل بدعت پر رد کرنا واجب ہے، اور لوگوں کو ان سے دور رہنے کی تلقین کرنا بھی ضروری ہے۔
ہر زمانے میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوئے جو اسلام کے نام پر غیر شرعی افکار و نظریات کی ترویج کرتے رہے، اور اسی کو تحقیق کا نام دیتے رہے، ہمارا زمانہ بھی ان مزعومہ مفکرین سے خالی نہیں، سیدھی سادھی عوام، بلکہ خواص کا وہ طبقہ جو ان مفکرین کی حقیقت سے واقف نہیں، وہ ان کے دام فریب میں آکر ان کی باتوں کو سراہتے ہیں، ان کا دفاع کرتے ہیں، اور لوگوں کو ان مفکرین کو پڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں، ان مفکرین میں سے بعض کا تذکرہ ان کے افکار و نظریات کے ساتھ نہایت مختصر انداز میں کرتا چلوں تاکہ حقیقت واضح ہو سکے:
- مولانا مودودی: انہوں نے اشاعرہ و ماتریدیہ کے طرز پر صفات الہی کی تاویل کی، معتزلہ کے طرز پر بعض صفات الہی کا انکار کیا، معتزلہ کے طرز پر ہی بعض احادیث رسول کا انکار، وحدت الوجود کے کفریہ عقیدہ کو فروغ دیا، خوارج کے طرز پر امت مسلمہ کی تکفیر کی، روافض کے طرز پر بعض صحابہ کرام پر تنقید کی، اور بعض انبیائے کرام کے متعلق نازیبا جملے کا استعمال بھی کیا۔
- ڈاکٹر اسرار: وحدت الوجود جیسے کفریہ عقیدہ کے داعی تھے، اہل بدعت کے طرز پر تفسیر بالرائے کیا کرتے تھے، دور حاضر کے خوارج کے طرز پر توحید حاکمیت کے قائل تھے، خوارج کے طرز پر معصیت کے مرتکب کو ہمیشہ ہمیش کا جہنمی قرار دیا کرتے تھے، اہل حدیث اور سلفیوں سے بغض و عداوت رکھا کرتے تھے، روافض اور ان کی طرز حکومت کی تعریف کیا کرتے تھے اور اسی جیسی حکومت کا خواب دیکھا کرتے تھے۔
- وحید الدین خان: خالص وحدت الوجود کے قائل تھے، جن کے نزدیک رب کی صفات انسانوں کی صفات کے جیسی تھی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل نمونہ نہیں مانتے تھے، ان کے خیال میں اسلامی شریعت کے بعض اجزاء عصر حاضر کیلئے مناسب نہیں تھے، بقول ان کے نصاری کی شریعت کے بعض احکام پر عمل کرنا درست تھا، امام مہدی، عیسی علیہ الصلاۃ والسلام وغیرہ کا ظہور انہیں ایک خیال لگتا تھا، بہت سی قیامت کی نشانیوں کو وہ حقیقی نہیں مانتے تھے، وہ کہتے تھے شاتم رسول کی کوئی سزا نہیں تھی، نیز ان کا دعوی تھا کہ نبی اکرم ﷺ کے بعد سے آج تک کسی نے نبوت کا دعوی نہیں کیا تھا، حتی کہ مرزا غلام قادیانی نے بھی نہیں کیا تھا، یعنی اس تعلق سے جو احادیث ہیں وہ سب کی سب لا یعنی ٹھہریں، اور یہ بھی دعوی کرتے تھے کہ ان کی تنظیم میں وہ تمام صفات موجود ہیں جو صحابہ کرام میں تھیں، اور بھی بہت سے اسلامی احکام کی الگ تعبیرات ہیں ان کے نزدیک۔
ہم میں سے بعض احباب ان کا کھل کر دفاع کرتے نظر آتے ہیں، بلکہ ان کا دفاع کرنے میں اہل حدیث اور اہل حدیثیت کو بھی نشانہ بنانے سے نہیں چوکتے، جماعت و جمعیت ہمیشہ ان کی تنقید کی زد میں ہوتی، ایسے احباب ان کے دفاع میں چند اعتراضات بھی پیش کرتے ہیں جنہیں میں ان شاء اللہ مفصل انداز میں ذکر کرنے کی کوشش کروں گا ۔ (جاری)۔
([2]) [تفسیر الطبری (9/ 321)]۔
([3]) [سنن ابی داود (7/ 204)]۔
([6]) [الإيمان، للقاسم بن سلام (ص: 34)، تفسیر الطبری (1/ 80)]۔
([7]) [القدر للفريابي (ص: 229)]۔
([8]) [شرح أصول اعتقاد أهل السنة (1/ 137)]۔
([9]) [شرح أصول اعتقاد أهل السنة (1/ 138)]۔
([11]) [لمعة الاعتقاد (ص: 40)] ۔
([12]) الابانہ لابن بطہ: (۲/۴۵٦)۔


