ڈاکٹر یوسف بن عبد اللہ قرضاوی عالم اسلام کی ایک نہایت معروف اور متنازع شخصیت، نیز بہت ہی قابل، صلاحیت مند، اور لکھنے پڑھنے والے آدمی تھے، موصوف نے بہت ساری کتابیں تالیف کیں اور بہت سارے اہم کاموں میں عملی طور پر شریک بھی ہوئے، لیکن ان سب کے باوجود آپ کے کئی سارے افکار و نظریات ایسے تھے جن پر خاموشی کسی طور پر جائز نہیں ہے اور نہ ہی اجتہادی غلطی کا نام دے کر آپ کو بری کیا جا سکتا ہے، بلکہ ان میں سے بعض چیزیں کفر اکبر تک پہنچانے والی ہیں جیسا کہ کبار علمائے عرب نے آپ کے بعض اقوال کے تعلق سے صراحت فرمائی ہے۔
محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:”یوسف قرضاوی کی تعلیم ازہری ہے کتاب وسنت پر قائم منہجی تعلیم نہیں ہے، وہ لوگوں کو ایسے ایسے فتوے دیتا ہے جو قرآن و حدیث کے خلاف ہیں، اس کا ایک نہایت ہی خطرناک فلسفہ ہے کہ جب شریعت میں کوئی حرام چیز آتی ہے تو وہ اس تحریم سے یہ کہہ کر جان چھڑا لیتا ہے کہ اس کی حرمت پر دلالت کرنے والی کوئی قطعی دلیل نہیں ہے اسی وجہ سے اس نے گانا سننا جائز قرار دیا ہے اسی طرح اس انگریز کے لیے جس نے اسلام قبول کر لیا ہے اور جو برطانیہ کے بڑے گلو کاروں گویوں میں سے تھا اپنے پیشے سے بدستور جڑے رہنا اور اس کی کمائی کھانا جائز قرار دیا ہے اور قرضاوی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ گانے اور آلات طرب کی تحریم کے سلسلے میں کوئی نص قاطع نہیں ہے۔
حالانکہ اس کی یہ بات علمائے امت کے اجماع کے بالکل خلاف ہے؛ کیونکہ احکام شرعیہ میں نص قاطع کا ہونا شرط نہیں ہے… اس کی دلیل یہ ہے کہ علما کرام اور خود قرضاوی بھی کہتے ہیں کہ دلائل(شرعیہ) کتاب وسنت، اجماع اور قیاس ہے، جبکہ قیاس قطعی دلیل نہیں ہے کیونکہ قیاس اجتہاد ہے اور اجتہاد میں خطا وصواب دونوں کا امکان ہے جیسا کہ یہ بات صحیح حدیث سے ثابت ہے. (شريط ” صوفيات حسن البنا والقرضاوى ” من تسجيلات سلسلة الهدى والنور برقم: ٢٦٢)
علامہ مقبل بن ہادی الوادعی رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں:” هذا رجل لو كفره شخص عندي ما انتقدته لكن أنا أقول : إنه ضال ضلالا مبينا” (البركان لنسف جامعة الإيمان ص:١٧٨)
اگر اس شخص کو میرے سامنے کوئی کافر قرار دے تو میں اس پر تنقید نہیں کروں گا، لیکن میں کہتا ہوں کہ: وہ سخت گمراہ انسان ہے۔
نیز لکھتے ہیں:”ہمارے اس زمانے میں گمراہی کی دعوت دینے والوں میں سے ایک مفتی قطر یوسف بن عبد اللّٰہ قرضاوی ہے، وہ دشمنان اسلام کا ایجنٹ بن گیا ہے، چنانچہ اس نے اپنی زبان وقلم کو دین اسلام کی مخالفت کے لیے وقف کر دیا ہے۔ (رفع اللثام عن مخالفة القرضاوي لشريعة الإسلام ص:٤)
فرماتے ہیں"إمام من أئمة الضلال….أجهل من حمار أهله…ألح علي في الرد على القرضاوي مرارا ، حتى سمعت ما لا يجوز أن يسكت عنه وسميت الرد "إسكات الكلب العاوي يوسف بن عبد الله القرضاوي”سيقول بعض الحزبيين: عالم من العلماء وسميته كلبا عاويا أما هذه فكبيرة يا أبا عبد الرحمن عالم من العلماء ومفتي قطر إسمعوا الى قول الله عز وجل:
﴿وَٱتل عَلَیۡهِم نَبَأَ الّذیۤ ءَاتَینَـٰهُ ءَایَـتِنَا فَٱنسَلَخَ مِنۡهَا فَأتۡبَعَهُ ٱلشَّیۡطَـٰن فَكَانَ مِنَ ٱلۡغَاوِینَ وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنَـٰهُ بِهَا ولَـٰكِنّهُۥۤ أَخۡلَدَ إِلَى ٱلۡأَرۡض وَٱتبَع هوَاهُ فَمثلُهۥ كَمَثَلِ ٱلكلبِ إِن تَحۡمِلۡ علیۡهِ یَلۡهَثۡ أَوۡ تَتۡرُكه یَلۡهَثۚ ذَّ ٰلِكَ مَثَلُ ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِین كذبوا۟ بِـَٔایـٰتناۚ فَٱقصصِ ٱلۡقَصَصَ لَعَلَّهُمۡ یَتَفَكَّرُونَ(سورة الأعراف: ١٧٥-١٧٦) ﴿مَثَل ٱلَّذِين حُمّلُوا۟ ٱلتَّوۡرَىٰةَ ثُمَّ لَمۡ یَحۡملوهَا كَمَثَلِ ٱلۡحِمَار یَحۡمِلُ أَسۡفَارَا﴾ (سورة الجمعة :٥) (البركان لنسف جامعة الإيمان ص:١٠٩)
گمراہی کے اماموں میں سے ایک ہے۔
وہ اپنے گھر کے گدھے سے زیادہ بڑا جاہل ہے۔
قرضاوی پر رد کرنے کے لیے مجھ سے باربار اصرار کیا گیا یہاں تک کہ میں نے قرضاوی کے تعلق سے ایسی بات سنی جس پر خاموشی جائز نہیں چنانچہ میں نے رد کا نام "بھونکتے ہوئے کتے یوسف بن عبد اللّٰہ القرضاوی کو چپ کرانا” رکھا بعض حزبی لوگ کہیں گے کہ :ایک عالم دین کو آپ نے بھونکنے والا کتا کہا یہ بہت بڑی بات ہے ائے ابو عبد الرحمن! ایک عالم اور قطر کا مفتی!! آپ لوگ اللّٰہ کے اس قول کو سنئے…
فرماتے ہیں:"منحرف زائغ” (البركان لنسف جامعة الإيمان ص:١٦٥) منحرف اور گمراہ ہے
نیز فرماتے ہیں:"حزبي مبتدع” (تحفة المجيب للإمام الوادعي ص:٨٩) حزبی اور بدعتی ہے۔
نیز فرماتے ہیں:"متعصب لإخوان المسلمين وهو متعصب أعمى (قمع المعاند للإمام الوادعي ص:٣٤٧)
اخوان المسلمین کے لیے بہت ہی زیادہ متعصب ہے وہ اندھا(سخت) تعصب پرست ہے۔
نیز فرماتے ہیں: لا يعتمد على فتاويه ولا على وعظه ولا على دعوته (فضائح ونصائح للإمام الوادعي ص:٢٨٠)
اس کے فتووں پر اس کے وعظ پر اور اس کی دعوت وتبلیغ پر اعتماد نہیں کیا جائے گا۔
اور فرماتے ہیں:”واجب ہے لازم ہے اور ضروی ہے کہ قرضاوی پر پابندی عائد کر دی جائے؛ یہاں تک کہ کوئی ماہر نفسیات اس کی جانچ کر لے، خدشہ ہے کہ کہیں دشمنان اسلام نے اس کا برین واش نہ کر دیا ہو، جس کی وجہ سے وہ خبط وخلط اور اضطراب کا شکار ہوگیا ہے۔(البركان لنسف جامعة الإيمان ص:١٣١)
اور فرماتے ہیں:"كفرت يا قرضاوي أو قاربت؟ (البركان لنسف جامعة الإيمان ص:١١٢) تم کافر ہو گیے ائے قرضاوی یا کفر سے قریب ہو گیے؟
علامہ محمد امان الجامی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:”عقل پرست حضرات اپنی عقلوں کے مخالف آحادیث کو محض رد ہی نہیں کرتے بلکہ ان کی اور ان کے حاملین (یعنی محدثین) کی تنقیص بھی کرتے ہیں، عہد صحابہ سے لیکر آج تک عقل پرستوں کا یہ منہج رہا ہے کہ وہ علمائے حدیث پر حملے کرتے ہیں، اس وقت ان عقل پرستوں کا آخری ٹھکانہ یونائٹڈ اسٹیٹ ہے، ان لوگوں نے اسلامی ممالک کو چھوڑ کر اسے اپنا ٹھکانا بنایا ہے، ہر عقل پرست وہاں ہجرت کر جاتا ہے یا تو مال وعقل دونوں کے ساتھ یا صرف عقل کے ساتھ چنانچہ انہیں وہاں سے وظیفہ دیا جاتا ہے کام سونپا جاتا ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ وہ سنت اور اہل سنت اور علمائے حدیث کے خلاف لکھیں تاکہ اس سے حدیث اور اہل حدیث کی تنقیص ہو، نصیحت وضاحت اور حقائق سے پردہ اٹھانے کے غرض سے ان کے ایجنٹوں میں سے چند کا میں یہاں ذکر کروں گا لہذا تم ان کی کتابوں کے تعلق سے چوکنا ہو جاؤ جو کہ اس وقت بازاروں میں بہت زیادہ ہیں، ان وظیفہ خوروں میں سب سے آگے محمد غزالی ہے اور اس وقت اس کے بعد ڈاکٹر یوسف القرضاوی کا نمبر ہے۔ (هل تعلمون ما هي وظيفة يوسف القرضاوي ؟https://youtu.be/fFRL6HKv_oQ?si=Z2ZpQISfACORwfg7)
علامہ عبید بن عبد اللّٰہ الجابری رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:” میں یوسف قرضاوی کی ایک بات ذکر کروں گا وہ قرضاوی جو پیدائش کے اعتبار سے مصری اور اقامت وسکونت کے اعتبار سے قطری ہے اللہ تعالیٰ قطر کو اس سے پاک کرے, میرے پاس اس شخص کے تعلق سے چند کفریہ باتیں ہیں اللہ کی قسم میں یہ اپنے سے نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ ان میں سے بعض چیزیں اس کے ویب سائٹ پر ہیں اور بعض چیزیں اس سے منقول ہو کر صحیفوں میں چھپی ہوئی ہیں یہ ان چیزوں کا مقام نہیں ہے…. میں تم لوگوں سے یہ بات نہیں چھپانا چاہتا کہ میں اس کی تکفیر کی طرف مائل ہوں لیکن میں اس کی جرأت نہیں کر پا رہا ہوں "(شريط بعنوان: جديد وخطير https://youtu.be/fAhgn8MezQE?si=CCm3M4VLmgaaHVhi)
مفتی مدینہ علامہ صالح السحیمی حفظہ اللّٰہ فرماتے ہیں:” ایک آدمی ضروری ہے کہ میں اس کا نام لوں (میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں) کیونکہ وہ ان دنوں گمراہ فاسد چینلز کے ذریعے امت کو فتنے میں مبتلا کر رہا ہے جن میں سب سے زیادہ تباہ کن الجزیرہ نامی ہے وہ شخص یوسف القرضاوی ہے ائے اللّٰہ تو اس کا بدیل عطا کر یا اسے بدل دے کیونکہ اس نے ان دنوں امت کو بہت سارے فتنوں میں مبتلا کر رکھا ہے”
(ملف العلاقة السرية بين الإخوان المسلمين بالصهيونية العالمية)
شیخ محمد بن سعید رسلان فرماتے ہیں :” بیشک قرضاوی اللہ اس کی زبان کاٹ ڈالے صلیبیوں کو مصر میں دراندازی کی دعوت دیتا ہے…. تم قطر کے رہنے والے ہو لہذا تم تاریخ اور جغرافیہ کے اسی کھوئے ہوئے نقطے پر برقرار رہو, تم مغمور ومجہول منبوذ ومطرود اور کتے کا سا دھتکارا رہو، تمہارا اسلام اور مسلمانوں سے کیا تعلق؟ تم سٹھیا گئے ہو, بڑھاپے کی وجہ سے اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے اس پر پابندی عائد کر دینی چاہیے یہ اس کے حق میں بہتر ہے اگر اس وقت اس پر روک لگا دیا جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اسے بڑی خیانت اور دین دشمنی سے متہم کیا جائے کیونکہ جو دین دشمنی کا مرتکب ہوتا ہے اس کا حکم معروف ہے اور جو مسلمانوں کے خلاف کفار سے مدد طلب کرتا ہے اس کا حکم بھی معروف ہے یہ نواقض اسلام میں سے ہے, کب یہ نواقض اسلام میں سے نہیں تھا؟
یہ نواقض اسلام سے واقف نہیں ہے, یہ جاہل ہے کیونکہ یہ پیدائشی بدعتی ہے , یہ بچپن سے جاہل ہے یہ ایسا آدمی ہے جس کی عصبیت اسے بھڑکاتی ہے یہ سخت متعصب آدمی ہے عاملہ اللہ بعدلہ..
اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ اس کی عمر لمبی کر دے، اسے اندھا کر دے، اسے فتنوں اور مصیبتوں میں مبتلا کر دے اور سارے جہان کے لیے اسے نشان عبرت بنا دے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (شريط بعنوان: أوصلوا هذه الرسالة إلى القرضاوي الضالhttps://youtu.be/jyMFDFr8ecY?si=3Mpyx7AH0APhcho7)
علامہ مقبل الوادعی کے شاگرد فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن یحییٰ البرعی لکھتے ہیں:” قرضاوی نے اخوان المسلمون کے منہج سے سر مو انحراف نہیں کیا , میں کہا کرتا تھا اور اب بھی کہہ رہا ہوں کہ اخوان المسلمین کے پاس علوم شریعت میں مرجع کی حیثیت رکھنے والا کوئی عالم دین نہیں ہے اور اگر ان میں کوئی قابل استفادہ عالم ہو تو یہ ضروری ہے کہ اس نے اخوانیوں کے علاوہ دوسروں سے علم حاصل کیا ہے ، اگر ایسا ہوا کہ کسی نے اخوانیوں سے علم حاصل کیا اور وہ عالم بھی ہے تو وہ ضرور منحرف ہے اور میں اس کے لیے قرضاوی اور غزالی کو بطور مثال پیش کیا کرتا تھا "(رفع اللثام عن مخالفة القرضاوي لشريعة الإسلام ص:١٠)
ذیل میں اختصار کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کے چند گمراہ کن افکار و نظریات کا تذکرہ کیا جاتا ہے، ملاحظہ فرمائیں:
١- ڈاکٹر صاحب اپنی تحریر و تقریر اور عملی اقدامات کے ذریعے تقارب بین الادیان یعنی مختلف اہل مذاہب کے مابین دوستانہ تعلقات قائم کرنے اور آپسی قربت بڑھانے کی دعوت دیتے ہیں، جو کہ عقیدہ ولاء وبراء کے صریح منافی ہے۔ (غير المسلمين في المجتمع الإسلامي ص:٦٦، الحلال والحرام في الإسلام ص:٣٠٧، الإسلام والغرب مع القرضاوي ص:١٦، ٨٨)
٢- لکھتے ہیں کہ غیر اللّٰہ کے لیے جانور ذبح کرنا اور نذر ماننا شرک اکبر نہیں محض حرام اور شرک اصغر کے زمرے میں آتا ہے۔ (حقيقة التوحيد للقرضاوي ص:٦٠- ٦٣)
٣- لکھتے ہیں کہ زندگی میں ایک سے زائد دین، ثقافت اور کلچر کی گنجائش ہے، نیز دین و تقافت کا یہ تنوع انسانیت کے مفاد کی خاطر ہے، اور تمام دنیا پر ایک ہی دین مسلط کرنا ممکن نہیں ہے۔ (رفع اللثام ص:٧٨)
٤- قرضاوی صاحب عصر حاضر کے معروف عقلانی محمد غزالی کے شاگرد رشید ہیں اس لیے آپ بھی دینی معاملات میں عقل پرستی کو فروغ دیتے ہیں اور کئی سارے مسائل میں معتزلہ کی موافقت کرتے ہیں۔
٥- اہل کتاب کی تعریف کرتے ہیں، ان سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، دوسروں کو ان سے محبت کرنے کی دعوت دیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ان سے محبت شرعاً جائز ہے۔ (الحلال والحرام في الإسلام ص:٤٧، ٢٤٧)
٦- اسرائیل کے جمہوری نظام کی تعریف اور عربوں کے نظام بیعت پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسرائیل کا ایک شخص شمعون پیریس ایک چھوٹی سی جماعت کی ووٹنگ اور تائید کے بغیر ہار جاتا ہے، جب کہ ہمارے عرب ممالک میں حکام ٩٩.٩٩ فیصد ووٹ حاصل کرتے ہیں، یہ کیا ہے؟ حالانکہ اگر خود اللّٰہ تعالیٰ بھی اپنے آپ کو ووٹ کے لیے بطور نمائندہ پیش کرے تو وہ بھی اتنا فیصد ووٹ حاصل نہ پائے!! (https://youtu.be/J3y65zbWHr4?si=ocJ6DGZUTiwPsbgu)
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللّٰہ اس قول پر رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ارتداد ہے اگر قائل توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دینا چاہیے۔
٧- لکھتے ہیں کہ جمہوریت شرعی طرز حکمرانی ہے، اور جمہوریت وشورائیت ایک سکے کے دو رخ ہیں، حتی کہ عورتوں کے لیے الیکشن لڑنا اور قیادت کرنا جائز قرار دیتے ہیں۔(جريدة الشرق عدد ٢٧١٩، ٢٥/٨/ ١٩٩٥م، مجلة الوطن ٢١ أكتوبر ١٩٩٥م عدد ٤٩)
٨- لکھتے ہیں کہ اسلام میں جہاد صرف دفاع کے لیے مشروع ہے نہ کہ اپنی طرف سے اقدام کر کے دنیا فتح کرنے کے لیے۔ (الإسلام والغرب مع القرضاوي ص:١٩، فقه الجهاد ص:١٣٥٥، الأمة الإسلامية حقيقة لا وهم ص: ٧٠)
٩- مناہج وافکار میں اختلافات کے باوجود اسلام میں متعدد فرقوں کے وجود کو جائز اور درست قرار دیتے ہیں۔(الراية عدد ٤٧٢١، ٢٣/ ٢/ ١٩٩٥)
١٠-مختلف اسالیب میں احادیث نبویہ سے اعراض کرتے ہیں اور ان کی دلالت کو باطل قرار دیتے ہیں، چنانچہ بعض ایسی حدیثوں کی صحت کے بارے میں توقف کرتے نظر آتے ہیں جو صحیحین میں ہیں اور بہت ساری ایسی حدیثوں کے ظاہری مفاہیم کو تسلیم نہیں کرتے ہیں جنہیں حقیقت پر محمول کرنا ان کے زعم میں عقل اور واقع کے خلاف ہو اس لیے انہیں مجاز یا فنی تصویر وتمثیل پر محمول کرتے ہیں۔(كيف نتعامل مع السنة ص:٩٧-٩٨، ١٦٠-١٦١) نیز ہر اس حدیث کا انکار کرتے ہیں جو انہیں قرآن یا عقل کے مخالف معلوم ہوتی ہے۔(فتاوى معاصرة ٢/ ٤٢، السنة مصدرا للمعرفة والحضارة ص:٧١)
اسی بنیاد پر انہوں نے حدیث "لا يفلح قوم ولّو أمرهم امرأة” اور حدیث "لا يقتل مسلم بكافر” کا انکار کیا ہے اور حدیث "الهرولة” حديث "الصورة” حديث "فتح روما” حديث "نطق الحجر” حديث "شكوى النار” حديث "الرحِم” حديث”إن أبي وأباك في النار” حدیث "(يؤتى بالموت كهيئة كبش أملح” حدیث”ما رأيت من ناقصات عقل ودين أسلب للب الرجل الحازم منكم” اور حدیث "الوائدة والموؤدة في النار” وغیرہ احادیث کی تاویلیں کی ہیں۔
١٣- آپ متعدد مقامات پر لکھتے ہیں کہ یہود ونصاریٰ اور اسی طرح دیگر اہل مذاہب ہمارے بھائی ہیں، حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ نے بھائی چارہ اور اخویت کو صرف مسلمانوں میں محصور کر رکھا ہے۔ (فتاوى معاصرة ٢/ ٦٦٨، ٦٧٠، نحو وحدة فكرية للعالمين للإسلام ص:٨١، الخصائص العامة للإسلام ص:٩٠-٩٢)
١٤- فرماتے ہیں کہ:” ہم یہود سے دین اور عقیدہ کی خاطر جہاد نہیں کرتے بلکہ زمین کے حصول کے لیے جہاد کرتے ہیں، نیز ہم کفار سے اس لیے جنگ نہیں کرتے کہ وہ کفار ہیں بلکہ اس لیے کیونکہ انہوں نے ہماری زمینیں ہڑپ لی ہیں”۔ (مجلة الراية عدد ٤٦٩٦، ٢٥/ ١/ ١٩٩٥م، مجلة البيان عدد ١٢٤)
١٥- لکھتے ہیں کہ مسلم اگر غیر مسلم سے محبت کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (غيرالمسلمين في المجتمع الإسلامي ص:٦٨)
١٦-لکھتے ہیں کہ کفار کو ان کے تہواروں میں مبارکباد پیش کرنا جائز ہے۔ (برنامج الشريعة والحياة، حلقة غيرالمسلمين في ظل الشـريعة الإسـلامية، فتاوى معاصرة ٢ /٦١٧)
١٧- ان کا عقیدہ ہے کہ اشاعرہ اور ماتریدیہ اہل السنہ والجماعہ میں سے ہیں۔ (المرجعية العليا في الإسلام ص: ٣٢٠ −٣٥٢ السـنة مصـدرا للمعرفـة والحضارة ص: ٩٥)
١٨- ان کا گمان ہے کہ وہ اسماء و صفات کے باب میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰہ کی طرح منہج سلف پر قائم ہیں لیکن جب وہ صفات کے باب میں منہج سلف کا تذکرہ کرتے ہیں تو اسے تفویض المعانی سے تعبیر کرتے ہیں اور یہ باور کراتے ہیں کہ سلف صالحین کیفیات کے ساتھ ساتھ معانی کی بھی تفویض کرتے تھے، اور سلف کے حقیقی مسلک (کہ نصوص صفات کی تاویل نہیں کی جائے گی بلکہ وہ اپنے ظواہر پر محمول ہوں گے) کو مشبّہ کا مسلک قرار دیا ہے۔(المرجعية العليا في الإسلام ص:٣٠١)
١٩- مسلمان عورت کے لیے چند شرائط کے ساتھ فلموں اور ڈراموں میں اداکاری کرنا جائز قرار دیتے ہیں۔ (مجلة المجتمع عدد ١٣١٩)
٢٠- گانا گانے اور موسیقی سننے کو جائز قرار دیتے ہیں، نیز سنیما گھروں میں جاکر فلمیں دیکھنا بھی جائز سمجھتے ہیں۔(الحلال والحرام في الإسلام ص:٢٧٣، ٢٧٩، جريدة سيدتي عدد ٦٧٨) اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ آپ خود بھی فلمیں، ڈرامے اور کامیڈی شوز دیکھتے ہیں جیسے فلم "الإرهاب والكباب” "ليالي الحلمية” "رأفت الهجان” اور غوار، نور الشريف اور معالي زايد وغیرہ کی فلمیں۔ (جريدة الراية، عدد ٥٩٦٩)
٢١- لکھتے ہیں کہ وہ بات جس پر دل مطمئن ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ عورتوں کو چھونا حرام نہیں ہے، اور اس فتویٰ کی خاطر اول تو تحریم پر دلالت کرنے والی کسی بھی دلیل کے وجود کی نفی کرتے ہیں، پھر حدیث "لأن يطعن في رأس الرجل بمخيط من حديد خير من أن يمس امرأة لا تحل له” کو ضعیف قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں، پھر مایوس ہو کر کہتے ہیں کہ حرمت صرف ایسی قطعی دلیل سے ثابت ہوتی ہے جس میں کسی قسم کا شبہ نہ ہو جیسے قرآن، احادیث متواترہ اور مشہورہ، اور اخیر میں کہتے ہیں کہ اگر حدیث کو صحیح مان بھی لیں تو اس کی دلالت واضح نہیں ہے کیونکہ لفظ "يمس” سے مراد جماع ہے۔ (فتاوى معاصرة ٢/ ٢٩٣-٢٩٦)
٢٢- صوفیت کی دعوت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں سلفیت کو صوفیت اور صوفیت کو سلفیت کے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہا ہوں اور میں نے اس سلسلے میں تین کتابیں بھی تصنیف کی ہے۔(جريدة الوطن عدد ٥١ نقلا من رفع الملام ص: ١٤٢)
٢٣- اہل کتاب کے علاوہ دوسرے کفار جیسے ہندوؤں، بدھسٹوں اور مجوسیوں کا بھی ذبیحہ حلال قرار دیتے ہیں جبکہ اللّٰہ رب العالمین نے اس کو حرام قرار دیا ہے۔(جريدة الشرق الأوسط ١٦/ ٥/ ١٩٩٧م نقلا من رفع الملام ص:١٨١)
٢٤- شیعہ روافض اور اہل سنت کے مابین تفریق کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نہ کوئی شیعہ ہے نہ کوئی سنی سب کتاب اللّٰہ کو ماننے والے مسلمان ہیں۔ (الخصائص العامة للإسلام ص:٢٠٩)
٢٥- سور کے گوشت سے مل کر بنے ہوئے مصنوعات کو حلال قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ استحالہ ہے اور استحالہ باعث تطہیر ہے۔ (جريدة الشرق ١٦/ ٥/ ١٩٩٧م نقلا من رفع الملام ص:١٨٦)
٢٦- اختلاط کے جواز پر بات کرتے ہوئے فخریہ انداز میں ذکر کرتے ہیں کہ میری بیٹیاں مغربی ممالک میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ (مجلة سيدتهم العدد ٦٧٨)
٢٧- کفار کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے اپنی شادی کی سالگرہ مناتے ہیں، فخریہ انداز میں اس کا تذکرہ فرماتے ہیں اور ایسا کرنا جائز قرار دیتے ہیں۔(جريدة الراية عدد ٥٩٧)
٢٨- فرماتے ہیں کہ: دکانوں میں سور کے گوشت اور شراب کی خرید وفروخت جائز ہے۔
٢٩- کمپٹیشن میں شرکت کی خاطر یونیورسٹی کے طالبات کے لیے تنگ لباس پہن کر سوئمنگ کرنا جائز قرار دیتے ہیں۔
٣٠- فرماتے ہیں کہ:”اگر محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی دوبارہ اس دور میں بھیجے جاتے تو آپ بھی ناٹو کے ساتھ معاہدہ کر لیتے”۔
٣١- فرماتے ہیں کہ:”اجمالی طور پر مسلمانوں اور یہود و نصاریٰ کا ایمان برابر ہے”۔
٣٢- دین اور سیاست وحکومت کے مابین تفریق کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ حکومت سے دین کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
٣٣- اشاعرہ اور معتزلہ کی طرح اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ اسلامی عقائد کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ عقل کے موافق ہوں۔
٣٤- فرماتے ہیں:”اللّٰہ کی قسم میں فتنہ بھڑکانے والے خطیبوں میں سے ہوں، اور جب تک یہ فتنہ باقی ہے میں ہر گز ان فتنہ پھیلانے والی تقریروں سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، ائے اللّٰہ تو مجھے فتنہ پھیلانے والے خطیبوں میں شامل کر دے، مجھے انہیں کے ساتھ موت دینا اور بروز محشر انہیں کے ساتھ اٹھانا” (فتنہ سے آپ کی مراد حاکم کے خلاف خروج وبغاوت، احتجاج ومظاہرات اور سیریا ولیبیا میں ہونے والا جہاد وفساد جس کے بارے میں آپ لکھتے ہیں کہ:” میں نے سیریا اور لیبیا میں جہاد کا فتویٰ دیا تھا لیکن میں اسرائیل میں جہاد کا فتویٰ نہیں دوں گا کیونکہ وہ اہل کتاب اور روادار قوم ہے”) (https://youtu.be/PcN1E1mts_c)
٣٥-ڈاکٹر صاحب کے نزدیک آزادی نفاذ شریعت پر مقدم ہے۔
فرماتے ہیں:”میں آزادی کو تنفیذ شریعت پر مقدم سمجھتا ہوں” (یعنی اگر کسی کی حریت فکر وعقیدہ نفاذ شریعت کے آڑے آ جائے تو اس کی رائے کا احترام کرتے ہوئے آزادی کی تنفیذ شریعت پر مقدم سمجھتا ہوں، مطلب شریعت سے کمپرومائز کر سکتے ہیں آزادی سے نہیں ۔(https://twitter.com/s_hm2030/status/1574362272822169601?t=T0-xhPIBm0Zvn3diU_Qmdw&s=09)
نیز فرماتے ہیں:”حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے علاوہ کسی اور چیز کے ذریعے اس امت کا علاج ممکن نہیں ہے، اسی لئے میں نے اپنے بعض پروگراموں میں کہا ہے کہ میں آزادی کو نفاذ شریعت اسلامیہ پر مقدم سمجھتا ہوں، یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ آزادی مفقود ہو اور شریعت کی تنفیذ ہو جائے، ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو آزادی دیں،…وہ آزادی اور شورائیت جس کی تعبیر ڈیموکریسی سے کی جاتی ہے،…اس کے بعد جمہوریت اور ڈیموکریسی کی فضیلت بیان کرتے ہیں اور فخر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:”مصر ان ممالک میں سے ہے جنہوں نے سب سے پہلے ڈیموکریسی نافذ کیا اور اپنا الگ دستور بنایا” (https://youtu.be/pBn0yfO93k4)
مزید کہتے ہیں:”اور میں نے کئی سالوں سے اپنے مختلف پروگراموں میں بہتوں بار کہا ہے کہ میں محض نفاذ شریعت کو حصولِ آزادی سے افضل سمجھتا ہوں اور آزادی کو نفاذ شریعت پر ترجیح دیتا ہوں”(https://youtu.be/t6CtOaTvPLY)
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللّٰہ سے سوال کیا گیا کہ آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو کہتا ہے کہ آزادی شریعت سے بہتر ہے تو آپ نے فرمایا:” کیا تم لوگوں کو اس کے کافر ہونے میں شک ہے؟ جو کہتا ہے کہ حریت تنفیذ شریعت سے بہتر ہے ،نعوذ باللّٰہ یہ شدید ترین کفر کا مرتکب کافر ہے” (https://youtu.be/m6EFlg-d_88)
قرضاوی صاحب کہتے ہیں:”لوگ کہتے ہیں کہ یہ لوگ دینی حکومت چاہتے انہیں دینی حکومت کی تلاش ہے، اللّٰہ کی قسم ہم دینی حکومت نہیں چاہتے ہیں، اور کوئی بھی دینی حکومت نہیں چاہتا ہے، دینی حکومت ہمارے نزدیک نامنظور اور مرفوض ہے، بلکہ ہم تو سول حکومت چاہتے ہیں” ( https://youtu.be/l9oy8q1GfL0)
معروف اخوانی خطیب محمد حسان کہتے ہیں:”ہم دینی حکومت کا مطالبہ نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی ہمیں دینی حکومت چاہیے یعنی سقراطی مفہوم (پرانی سوچ) کے مطابق اور حکم الٰہی کے معنی میں، اور نہ ہی روئے زمین پر موجود کوئی عقلمند مسلم اس کا مطالبہ کرتا ہے، بلکہ ہم سول حکومت چاہتے ہیں میں اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ ہم سول حکومت چاہتے ہیں سول حکومت!” (https://youtu.be/l9oy8q1GfL0)
معروف اخوانی صحافی طارق السویدان استہزائیہ انداز میں کہتا ہے:”نوجوانوں کچھ لوگ ابھی تک پہلی ہجری صدیوں والی ذہنیت اور ماحول میں جی رہے ہیں، اسلامی فتوحات اور ایک ہی خلیفہ جو کئی بر اعظموں پر حکومت کرتا ہو!!! اللّٰہ کے واسطے ان چیزوں سے اوپر اٹھو ان چیزوں کا دور ختم ہو گیا ہے، ان کا زمانہ گذر گیا ہے”۔ (https://youtu.be/l9oy8q1GfL0)
مشہور اخوانی عالم سلمان العودہ کہتا ہے:” بسااوقات بہت سارے ایسے نوجوانوں سے تمہارا سابقہ پڑتا ہے کہ جب وہ بیداری اور نشأت ثانیہ کی بات کرتے ہیں تو اسے لفظ خلافت سے ملا دیتے ہیں یا اس کا مترادف قرار دیتے ہیں،چنانچہ میں نے اپنے مقالہ میں ایک بات لکھی ہے جس کا عنوان ہے "حلم الخلافة” خلافت کے خواب، اس کے اندر میں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ میری نظر میں بیداری اور نشأت ثانیہ کا یہ مفہوم ایک فکری لغزش اور واضح غلطی ہے”(https://youtu.be/l9oy8q1GfL0)
اسی طرح اخوانیوں کے مصری خلیفہ محمد مرسی کہتا ہے کہ:”اسلام میں اور پوری دنیا میں دینی حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، میں اس بات کی تاکید کر دوں کہ ہم لوگ مصری قومی ڈیموکریٹک دستوری حکومت چاہتے ہیں” ( https://youtu.be/l9oy8q1GfL0)
یہ ہے اخوانی قائدین علما اور دعات کے نزدیک اقامت دین، نفاذ شریعت اور قیام خلافت کی حقیقت اور حیثیت، لیکن افسوس کہ ہمارے نوجوان اور متدین لوگ ان باتوں کو سمجھتے نہیں ہیں اور ان جیسوں کی بڑی بڑی باتوں کے جھانسے میں پھنس جاتے ہیں اور اپنی دنیا و آخرت تباہ کر لیتے ہیں ، اللہ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے آمین۔
٣٦- ڈاکٹر صاحب عیسائیوں کے سب سے بڑے مذہبی رہنما ویٹیکن کلیسا کے پاپائے اعظم جان پال دوئم کی موت پر تعزیت کرتے ہوئے کہتے ہیں:”…اما بعد: عادت کے مطابق عام طور پر ہم اس پروگرام میں مسلمانوں کے بڑے علما کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں جب وہ اس دار فانی سے دار آخرت کی طرف کوچ کر جاتے ہیں، لیکن اس کے برعکس آج ہم کسی عظیم مسلم ہستی کے بجائے ایک گراں مایہ مسیحی شخصیت کے بارے میں بات کریں گے اور وہ حبر اعظم، ویٹیکن شہر اور کیتھولک کلیسا کے سب سے بڑے پوپ، پاپا جان پال دوئم ہیں،جنہیں مسیحی مذہب کی سب سے عظیم شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
کل آپ فوت ہو گئے اور اس وفات کی خبر پوری دنیا کے اخباروں میں نقل کی گئی، لہٰذا ہمارا یہ حق بنتا ہے یا یوں کہیں کہ ہمارا یہ فریضہ بنتا ہے کہ ہم ویٹیکن اور ویٹیکن کے علاوہ دنیا کے مختلف گوشوں میں موجود مسیحی قوم اور مسیحی علما کو تعزیت پیش کریں، ان میں سے بعض ہمارے دوست ہیں، ہم نے کئی کانفرنسوں، متعدد پروگراموں اور ڈائلاگس کے موقع پر ان سے ملاقاتیں کی ہیں، ہم اس حبر اعظم (سب سے بڑے عالم) کی وفات کے موقع پر ان کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں، جس جلیل القدر عالم کا انتخاب عام طور پر مسیحی حضرات اپنی آزادانہ انتخاب کے ذریعے کرتے ہیں، ہم مسلمان بھی اسی طرح کا خواب دیکھتے ہیں کہ علمائے امت آزادانہ طور پر اپنے شیخ اکبر یا امام اکبر کا انتخاب کر سکیں، نہ کہ کسی حکومت یا سلطنت کی جانب سے تعیین کر دی جائے، ہم اس پوپ کے تعلق سے تعزیت پیش کرتے ہیں جن کے بہت سارے ایسے کارنامے ہیں جن کو ذکر کیا جانا چاہئے اور آپ کا شکریہ ادا کیا جانا چاہئے، بعض مسلمان یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے صلیبی جنگوں میں مسلمانوں کو جن مصائب و مشکلات سے دو چار کیا گیا تھا ان کی وجہ سے مسلمانوں سے معذرت نہیں کی جیسا کہ یہودیوں سے معذرت کی، اسی طرح بعض لوگ بعض دوسری چیزوں کی وجہ سے ان پر اعتراض کر سکتے ہیں، لیکن بہرحال اس شخص کے عمومی کارنامے، اور اپنے مذہب کی نشر و اشاعت میں اخلاص اور نشاط، حتی کہ بڑھاپا اور کبر سنی کے باوجود پوری دنیا کا دورہ اور مختلف ممالک بالخصوص مسلم ممالک کی زیارت، (ان کے حسنات میں شمار کئے جا سکتے ہیں) چنانچہ وہ اپنے دین کے تئیں مخلص، اور اس کی دعوت کو عام کرنے اور اس کے پیغام پر ایمان لانے کے سلسلے میں انتہائی متحرک ترین انسانوں میں سے ایک تھے، ان کے بہت سارے سیاسی کارنامے بھی تھے جنہیں ان کے حسنات میں شمار کیا جا سکتا ہے، جیسے عام طور پر جنگوں کے تعلق سے ان کی کاوشیں۔ پس آپ امن و شانتی کے پیکر اور امن و سلامتی کے داعی تھے، عراق کی جنگ کے خلاف کھڑے رہے، فلسطین کے بیچ دیوار کھڑی کرنے کے خلاف کھڑے رہے یہاں تک کہ یہودیوں کو جھکنے پر مجبور کر دیا،..ان کے ان جیسے اور بھی کارنامے ہیں جنہیں یاد کیا جانا چاہئے اور آپ کا احسان مند ہونا چاہئے، ہم صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ ہم اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ان پر رحم فرمائے، اور جس قدر انہوں نے انسانیت کی بھلائیاں کی ہیں انہیں ان کا ثواب عطا فرمائے(https://youtu.be/508PxByYJcM)
اس کلام میں غور کرنے سے درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:
١- ڈاکٹر صاحب اپنے اور مسلمانوں کے اوپر ایک عیسائی کافر بلکہ عیسائیوں کے سب سے بڑے عالم کی وفات پر تعزیت پیش کرنا واجب قرار دے رہے ہیں ۔
٢- ایک کافر کی اشاعت کفر کے تعلق سے اخلاص اور جد و جہد کی حد درجہ تعریفیں کر رہے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ قرضاوی صاحب نصرانیت کی نشر و اشاعت کی مدح سرائی فرما رہے ہیں، حالانکہ یہ تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی مسلمان کفر وشرک کی اشاعت کو پسند کرے چہ جائیکہ ایسا کرنے والے کی تعریفوں کے پل باندھے۔
٣- ایک کافر ومشرک کے حسنات گنوا رہے ہیں حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ بھی شرک کریں تو آپ کے اعمال بھی ضائع کر دئے جائیں گے"وَلَقَدۡ أُوحِیَ إِلَیۡكَ وَإِلَى ٱلَّذِینَ مِن قَبۡلِكَ لَىِٕنۡ أَشۡرَكۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡخَـٰسِرِینَ”(الزمر:٦٥)
مزید فرمایا:"وَقَدِمۡنَاۤ إِلَىٰ مَا عَمِلُوا۟ مِنۡ عَمَلࣲ فَجَعَلۡنَـٰهُ هَبَاۤءࣰ مَّنثُورًا”(الفرقان: ٢٣)
اور انہوں نے دنیا میں جو عمل کیا ہوگا ہم اس کی طرف متوجہ ہوں گے اور اسے اڑتا ہوا غبار بنا دیں گے۔
٤- ایک کافر ومشرک اور اللّٰہ کے دشمن کے لئے رحمت اور ثواب کی دعائیں کر رہے ہیں حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ فرمایا ہے:"مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ أَن يَسْتَغْفِرُواْ لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُواْ أُوْلِي قُرْبَى مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ”(سورة التوبة:١١٣) پیغمبر اور دوسرے مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے کہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں، اس امر کے ظاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں۔
اسی طرح حدیث نبوی میں ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کے استغفار کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت نہیں دی اور میں نے اس سے ان کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دے دی۔” صحیح مسلم: ٩٧٦) غور کریں جب اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ماں کے لئے استغفار اور دعائے رحمت کی اجازت نہ دی جائے جو کہ اسلام آنے سے قبل زمانہ جاہلیت ہی میں فوت ہو گئی تھیں تو کسی سب سے بڑے عیسائی عالم کے لئے رحمت اور مغفرت کی دعا کیسے کی جا سکتی ہے ۔
٥- کہتے ہیں کہ نصرانیوں میں ہمارے کئی دوست بھی ہیں حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:” لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ” (المجادلة: ٢٢) جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، انہیں آپ ان لوگوں سے محبت کرتے ہوئے نہیں پائیں گے جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، چاہے وہ ان کے باپ ہوں، یا بیٹے ہوں، یا ان کے بھائی ہوں، یا ان کے عزیز و اقارب ہوں۔
مزید فرمایا:"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ”الممتحنة: ١) اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو! میرے اور (خود) اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ قرضاوی صاحب کے مذکورہ بالا کلام کو اخوانیوں کے ایک محبوب عالم دین شیخ ابو اسحاق الحوینی نے کفر صریح قرار دیا ہے اور لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ قرضاوی سے نہ تو عقیدہ کا علم لے اور نہ ان سے کسی قسم کا فتویٰ پوچھے!!!(https://youtu.be/J0HR6bVS9ls)
٣٧- قرضاوی صاحب کے نزدیک ایک مسلمان کو اپنا مذہب تبدیل کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
ڈاکٹر قرضاوی سے کسی انٹرویو میں سوال کیا گیا کہ شیخ قرضاوی مجھے صراحت کے ساتھ ایک بات کہنے دیں کہ کیا آپ حریت عقیدہ اور حریت ادیان کے ساتھ ہیں(یعنی کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کوئی بھی عقیدہ اور دین اختیار کرنے میں آزاد ہے)؟ تو آپ نے جواب دیا:”ہاں میں ہر قسم کی آزادی کے ساتھ ہوں، میں آزادی کو مقدس سمجھتا ہوں، یہاں تک کہ میں نے بہتوں بار ایک بات کہی ہے جس سے اسلام پسند لوگ ناراض ہو گئے کہ”آزادی نفاذ شریعت پر مقدم ہے-"(https://youtu.be/zY5eRsMqKus)
اسی انٹرویو میں آپ سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی مسلمان عیسائی بننا چاہے تو کیا آپ اسے عقیدے کی آزادی سمجھیں گے یا اس پر موافقت نہیں کریں گے؟ تو جواب دیا کہ:” نہیں جب ایک انسان حقیقی طور پر آزاد ہے تو اس کا یہ حق ہے کہ اپنا مذہب تبدیل کر لے، لیکن ہمیں اسے مہلت دینی چاہیے اور اسے رجوع کرنے کا موقع دینا چاہیے اور غور کرنا چاہیے کہ وہ کیوں اپنا مذہب تبدیل کر رہا ہے…”(https://youtu.be/zY5eRsMqKus)
حریت عقیدہ اور حریت ادیان کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی بھی دین اور مذہب کو اپنانے میں آزاد ہے، اگر کوئی مسلمان ہے لیکن اسے اسلام کی کوئی چیز سمجھ میں نہیں آتی ہے یا اسے اسلام اچھا نہیں لگتا ہے اور وہ اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب اپنانا چاہتا ہے تو اسے پورا اختیار اور مکمل آزادی ہے، نہ کسی قسم کی رکاوٹ ہے اور نہ ہی کوئی ملامت، جیسا کہ جمہوریت اور ڈیموکریسی کی طرف سے دئے گئے فنڈا مینٹل رائٹس میں اس چیز کی صراحت ہے، اور چونکہ قرضاوی صاحب جمہوریت کے داعی اور ثنا خواں ہیں اس لئے آپ بھی وہی فرما رہے ہیں، قرضاوی صاحب کے نزدیک اسلام چھوڑ کر عیسائیت اپنانے والوں کو زیادہ سے زیادہ نصیحت کر سکتے ہیں اور ان سے دین پر قائم رہنے کی گزارش کر سکتے ہیں اس کے علاوہ کچھ اور نہیں کر سکتے کیونکہ وہ آزاد ہیں، آپ نے "جريمة الردة وعقوبة المرتد” کے نام سے مرتد کی سزا پر کتاب تالیف کی ہے، لیکن تعجب ہے کہ کس خوبصورتی کے ساتھ تلبیسات کا سہارا لے کر مرتد کی قرآن وحدیث سے ثابت مجمع علیہ سزا کا انکار کر بیٹھے اور کہا کہ: مرتد کی دو قسمیں ہیں:اول: ردت مغلظہ کا مرتک مرتد یعنی جو لوگوں کو ارتداد کی دعوت دیتا ہو اور زمین میں فساد پھیلاتا ہو جیسے سلمان رشدی چنانچہ ایسے لوگوں کو قتل کیا جائے گا، پھر اس کے بعد اس پر دلیل دیتے ہوئے محاربین کے تعلق سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا قول نقل کرتے ہیں،(حالانکہ محارِب اور مرتد میں کافی فرق ہے اور دونوں کا حکم الگ ہے، محارب دہشتگرد یا حکومت کے مسلح اور ہتھیار بند باغی کو کہتے ہیں جس کی سخت ترین سزا قرآن میں موجود ہے حتیٰ کہ ایسا شخص اگر توبہ بھی کرے پھر بھی وہ قتل سے نہیں بچ پائے گا۔) دوم: ایسا مرتد جو ارتداد کی نشر و اشاعت کی کوشش نہیں کرتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کے فتنے کا باعث بنتا ہے چنانچہ ایسے مرتد کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے سمجھانے کی کوشش کی جائے گی…!!!انتہی
حالانکہ یہی اصل مرتد ہے جس کے بارے میں صحیح بخاری کی حدیث ہے:”جو اپنا مذہب تبدیل کر لے اسے قتل کر دو”(صحيح البخاري:٣٠١٧)
اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:”کسی مسلمان کا، جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، خون حلال نہیں، مگر تین میں سے کسی ایک صورت میں (حلال ہے) : شادی شدہ زنا کرنے والا، جان کے بدلے میں جان (قصاص کی صورت میں) اور اپنے دین کو چھوڑ کر جماعت سے الگ ہو جانے والا۔” (صحیح البخاري:٦٧٨٧، صحیح مسلم: ١٦٧٦)
امام ابن عبد البر رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:”جو اپنے دین سے پھر جائے اس کا خون حلال ہو جاتا ہے، لہٰذا اس کی گردن مار دینی چاہیے، امت کا اس بات پر اجماع ہے”۔ (التمهيد لابن عبد البر ٥/ ٣٠٦)
امام نووی رحمہ اللّٰہ صحیحین کے اندر موجود حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ عنہ کی حدیث ” …جب حضرت معاذ بن جبل ابو موسیٰ اشعری کے پاس (یمن) پہنچے تو حضرت ابو موسیٰ رضی اللّٰہ عنہ نے کہا: تشریف لائیے اور ان کے بیٹھنے کے لیے ایک گدا بچھایا، تو وہاں اس وقت ایک شخص رسیوں سے بندھا ہوا تھا، حضرت معاذ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ (حضرت ابو موسیٰ نے کہا: ایک یہودی تھا، پھر مسلمان ہو گیا اور اب پھر اپنے دین، برائی کے دین پر لوٹ گیا ہے اور یہودی ہو گیا ہے۔ حضرت معاذ نے کہا: میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک اس کو قتل نہ کر دیا جائے، یہی اللہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔ حضرت ابو موسیٰ نے کہا: ہاں، (ہم اس کو قتل کرتے ہیں) آپ بیٹھیے، معاذ بن جبل رضی اللّٰہ عنہ نے کہا: میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک اس شخص کو قتل نہیں کر دیا جاتا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے، تین (مرتبہ یہی مکالمہ ہوا) حضرت ابو موسیٰ نے حکم دیا، اس شخص کو قتل کر دیا گیا…” کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:”اس میں مرتد کو قتل کرنے کے واجب ہونے کی دلیل ہے، علما نے مرتد کا قتل واجب ہونے پر اجماع کیا ہے، البتہ اس بات میں اختلاف کئے ہیں کہ اس سے توبہ کروانا واجب ہے یا مستحب؟ اور کتنی بار توبہ کرائی جائے گی اور کیا اس کی توبہ قبول کی جائے گی یا نہیں”(شرح صحيح مسلم للنووي:١٢ /٢٠٨)
امام ابن قدامہ رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:”اہل علم نے مرتد کا قتل واجب ہونے پر اجماع کیا ہے، اور
یہ ابو بکر، عمر ،عثمان ، علی ، معاذ ، ابو موسیٰ ، ابن عباس اور خالد (بن الولید) وغیرہم سے مروی ہے اور کسی نے اس کا انکار بھی نہیں کیا ہے لہٰذا یہ اجماع ہے” (المغني لابن قدامة: ٩/ ٣)
امام ابن باز رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:” قرآن کریم اور سنت مطہرہ میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ اگر مرتد توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:” فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ” (التوبة: ٥) "پس اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکاۃ دیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو”
اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو توبہ نہ کرے اس کا راستہ نہیں چھوڑا جائے گا،
اور صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:”جو اپنا دین بدل لے اسے قتل کر ڈالو” اسی طرح صحیحین کے اندر معاذ بن جبل رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ نے یمن میں ابو موسیٰ اشعری کے پاس ایک مرتد کو دیکھا تو فرمایا کہ: میں اپنی سواری سے نہیں اتروں گا جب تک کہ اسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے قتل نہ کر دیا جائے”
چنانچہ اس سلسلے میں دلائل بہت زیادہ ہیں، اہل علم نے مرتد کے حکم کے بیان میں اس کی وضاحت فرمائی ہے،لہذا جو جاننا چاہے مذکورہ موضوع کا مراجعہ کرے، پس جو اس کا انکار کرے وہ یا تو جاہل ہے یا گمراہ! اس کی بات پر توجہ دینا جائز نہیں ہے بلکہ اس کو نصیحت کرنا اور سکھانا واجب ہے شاید کہ وہ راہ راست پر آ جائے۔(مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز ٩ /٣٠٣).
امام ابن عثیمین رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:”جو کوئی بھی اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ انسان عقیدہ کے اعتبار سے آزاد ہو جائے اور جو دین چاہے اپنائے اس کے تعلق سے ہماری رائے یہ ہے کہ وہ کافر ہے، کیونکہ جو بھی اس بات کا عقیدہ رکھے کہ کسی کے لئے محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دین کے علاوہ کسی اور دین کو اپنانا جائز ہے وہ کافر ہے، اس سے توبہ کرائی جائے گی، اگر توبہ کر لے تو ٹھیک ورنہ اس کو قتل کرنا واجب ہو جائے گا،… جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ: جو بھی اس بات کا عقیدہ رکھے کہ کسی بھی شخص کے لئے کوئی بھی دین اختیار کرنا جائز ہے، اور اسے اپنا مذہب چننے میں آزادی ہے، تو وہ کافر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:"وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ” (سورة آل عمران: ٨٥)
"اور جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین چاہے گا، تو اس کی طرف سے قبول نہیں کیا جائے گا۔” مزید فرماتے ہیں:"إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ”(سورة آل عمران: ١٩) "بے شک دین برحق اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔”
لہٰذا کسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو اپنانا درست قرار دے، اور اس بات کو جائز کہے کہ اسلام کے علاوہ کسی اور دین کے ذریعے اللّٰہ کی عبادت کرنا جائز ہے، بلکہ اگر کوئی اس چیز کا عقیدہ رکھے گا تو اہل علم نے صراحت کی ہے کہ وہ کافر اور دین سے خارج ہو جائے گا”(مجموع فتاوى ورسائل فضيلة الشيخ ابن عثيمين: ٣ /٩٩-١٠٠)
مزید فرماتے ہیں:”مرتد کو اس کے ارتداد پر نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ اسے یا تو اسلام کی طرف لوٹ آنے پر مجبور کیا جائے گا یا قتل کر دیا جائے گا، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو اپنا دین بدل لے اسے قتل کر ڈالو”۔(تفسير سورة آل عمران ١/ ٥٠٢)
امام ابن باز رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:”اسلام حریت عقیدہ کو نہیں مانتا ہے، بلکہ اسلام تو عقیدہ صحیحہ کو اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے، اس کو لوگوں کے لئے لازم اور فرض قرار دیتا ہے، انسان کو یہ آزادی نہیں دیتا کہ جو دین چاہے اختیار کرے، نہیں، یہ کہنا کہ اسلام حریت اعتقاد کو جائز قرار دیتا ہے بالکل غلط ہے،…”( فتاوى نور على الدرب بعناية الشويعر: ١/ ٣٠٤)
٣٨-
مسلم حکمرانوں کی اطاعت کا وجوب اور ان کے خلاف خروج بغاوت اور احتجاج ومظاہرات کی حرمت جو کہ اہل السنہ والجماعہ کا متفقہ عقیدہ اور اصول ہے اور جس کے اثبات میں قرآن و حدیث اور اقوال سلف صالحین کے دلائل بھرے پڑے ہیں، اس کا انکار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”مجھے ان دیندار لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو علم کے دعویدار ہیں اور صحیح مسلم کی اس حدیث پر اعتماد کرتے ہیں جو حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے جس میں اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:"تسمع وتطيع للأمير، وإن ضرب ظهرك، وأخذ مالك فاسمع وأطع "...اگر تم ایسے زمانے کو پا لو تو تم حاکم کی باتیں سننا اور اس کی اطاعت کرنا، اگرچہ وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے برسائے اور تمہارا مال چھین لے، پر اس کی بات سنتے رہنا اور اس کا حکم مانتے رہنا”
یہ ان حدیثوں میں سے نہیں ہے جنہیں مسلم (رحمہ اللّٰہ) "اصول” میں بیان کرتے ہیں، صحیح مسلم میں دو قسم کی حدیثیں ہیں:کچھ وہ حدیثیں جنہیں مسلم اصلا اور استقلالا بیان کرتے ہیں اور کچھ وہ حدیثیں جنہیں متابعات کے طور پر بیان کرتے ہیں، پس مسلم رحمہ اللّٰہ متابعات کے طور پر ذکر کی جانے والی حدیثوں میں اس طرح کی تدقیق نہیں کرتے ہیں جس طرح اصول کے طور پر ذکر کی جانے والی حدیثوں میں کرتے ہیں، اور یہ حدیث انہیں متابعات کے طور پر ذکر کی گئی حدیثوں میں سے ہے،…یہ حدیث گرچہ صحیح مسلم کے اندر ہے لیکن اس کے باوجود صحیح نہیں ہے، کیونکہ یہ متابعات میں سے ہے اور مرسل ہے، امام دارقطنی رحمہ اللّٰہ اپنی کتاب "الإلزامات والتتبع” کے اندر فرماتے ہیں:” مسلم رحمہ اللّٰہ نے "معاوية بن سلام عن زید عن أبي سلام قال: قال حذيفة…” کی سند سے روایت کیا ہے، اس کے بعد آپ پوری حدیث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:”یہ حدیث میرے نزدیک مرسل ہے، کیونکہ ابو سلام نے حذیفہ سے نہیں سنا،(پھر مرسل کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں) یعنی منقطع ہے، کیونکہ حدیث کے صحیح ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ اسے عادل وضابط انسان روایت کرے، عادل یعنی دینی اعتبار سے مامون ہو، ضابط یعنی اچھی طرح یاد رکھتا ہو، اس کا حافظہ مکمل طور پر درست ہو اور پورے اتقان کے ساتھ چیزوں کو یاد رکھتا ہو، اور شروع سے لے کر اخیر تک مکمل سند متصل ہو، چنانچہ اتصال سند صحت حدیث کے لئے شرط ہے، جبکہ یہ حدیث متصل نہیں ہے کیونکہ یہ ابو سلام جنہوں نے اس حدیث کو حذیفہ سے روایت کیا ہے محدثین کہتے ہیں کہ انہوں نے حذیفہ سے نہیں سنا ہے، پس یہ منقطع ہے ابو سلام نے حذیفہ سے نہیں سنا ہے جیسا کہ دارقطنی ابنِ حجر اور (جمال الدین) مزی وغیرہم بہت سارے علما نے ذکر کیا ہے، چنانچہ اسی حدیث پر اکثر لوگوں کا اعتماد ہے کیونکہ یہ صحیح مسلم میں ہے، لیکن کیا یہ اصول کے طور پر ہے یا متابع کے طور پر ؟ انہوں نے اس کی تحقیق نہیں کی ہے، قرآن ظالموں سے چوکنا رہنے کی دعوت دیتا ہے، ان کی طرف مائل ہونے سے روکتا ہے اور لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ فرعون کا لشکر نہ بنے کیا ان چیزوں کو چھوڑ دیا جائے اور بہت ساری دیگر احادیث کو چھوڑ دیا جائے (جن میں حاکم کے خلاف جہاد کرنے ان کے سامنے کلمہ حق کہنے اور اسے راہ راست پر لانے کی باتیں کہی گئیں ہیں)، افسوس کی بات ہے یہ کہ بہت سارے اہلِ علم فقہ الموازنات، فقہ المقاصد اور فقہ الاولویات کو صحیح سے سمجھتے نہیں ہیں اور نتیجتاً التباس اور خلط مبحث کے شکار ہو جاتے ہیں۔ (https://youtu.be/wwIiBQLoJJs )
صحیح مسلم کی جس حدیث کی طرف قرضاوی صاحب اشارہ کر رہے ہیں اور اسے ضعیف قرار دے رہے ہیں وہ درج ذیل ہے: ابوسلام سے روایت ہے، کہتے ہیں: حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللّٰہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم شر میں مبتلا تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں خیر عطا فرمائی، ہم اس خیر کی حالت میں ہیں، کیا اس خیر کے بعد شر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔” میں نے عرض کیا: کیا اس شر کے بعد خیر ہے؟ آپ نے فرمایا: "ہاں۔” میں نے پوچھا: کیا اس خیر کے بعد پھر شر ہو گا؟ فرمایا: "ہاں۔” میں نے پوچھا: وہ کس طرح ہو گا؟ آپ نے فرمایا: "میرے بعد ایسے امام (حکمران اور رہنما) ہوں گے جو زندگی گزارنے کے میرے طریقے پر نہیں چلیں گے اور میری سنت کو نہیں اپنائیں گے اور جلد ہی ان میں ایسے لوگ کھڑے ہوں گے جن کی وضع قطع انسانی ہو گی، دل شیطانوں کے دل ہوں گے۔” (حضرت حذیفہ رضی اللّٰہ عنہ نے) کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! اگر میں وہ زمانہ پاؤں (تو کیا کروں)؟ آپ نے فرمایا: "امیر کا حکم سننا اور اس کی اطاعت کرنا، چاہے تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں اور تمہارا مال چھین لیا جائے پھر بھی سننا اور اطاعت کرنا۔” (صحيح مسلم: كتاب الْإِمارة (بَابُ الأَمْر بلُزوم الجماعة عند ظُهورِ الفِتَن وتحذير الدعاة إلى الكفر) حدیث:١٨٤٧)
اس حدیث کی شرح میں امام نووی رحمہ اللّٰہ امام دارقطنی کا مذکورہ بالا قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:”یہ سند ویسی ہی ہے جیسا کہ دارقطنی نے کہا ہے، لیکن متنِ حدیث پہلی سند سے صحیح اور متصل ہے، مسلم رحمہ اللّٰہ نے اسے متابعت کے طور پر ذکر کیا ہے جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، اور ہم نے مقدمہ وغیرہ میں اس بات کی وضاحت کر دی ہے کہ مرسل حدیث جب دوسری سند سے متصلاً آ جائے تو اس کی صحت معلوم ہو جاتی ہے اور اس سے حجت پکڑنا بھی جائز ہو جاتا ہے اور (گویا) مسئلے میں دو صحیح حدیثیں ہو جاتی ہیں”(شرح النووي على صحيح مسلم ١٢/ ٢٣٥-٢٣٦)
امام رشید العطار رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:” اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللّٰہ نے اپنی "صحیح” کے اندر دوسری سند سے متصلاً روایت کیا ہے، بُسْر بن عبد الله الحضرمي الشامي، عن أبي إدريس الخولانيّ، عن حذيفة کے طریق سے، اور وہ ابو سلام کی حدیث کے مقابلے میں زیادہ کامل ہے، اسی طرح اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللّٰہ نے بھی اپنی "صحیح” کے اندر روایت کیا ہے، پس اگر ثابت بھی ہو جائے کہ ابو سلام نے حذیفہ سے نہیں سنا ہے تو (بھی کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ) ہم نے صراحت کر دی ہے کہ حدیث "صحیحین” کے اندر "ابو ادریس الخولانی عن حذیفہ” کی سند سے متصلاً ثابت ہے وباللہ التوفیق۔(غرر الفوائد المجموعة في بيان ما وقع في صحيح مسلم من الأحاديث المقطوعة ص: ٥٣)
امام نووی اور رشید العطار جس متصل الاسناد صحیح حدیث کی بات کر رہے ہیں وہ درج ذیل ہے:
ابو ادریس خولانی نے کہا: میں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللّٰہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں اس خوف سے کہ کہیں میں اس میں مبتلا نہ ہو جاؤں، آپ سے شر کے متعلق پوچھا کرتا تھا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم جاہلیت اور شر میں تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ خیر (اسلام) عطا کی، تو کیا اس خیر کے بعد پھر سے شر ہو گا؟ آپ نے فرمایا: "ہاں۔” میں نے کہا: کیا اس شر کے بعد پھر خیر ہو گی؟ آپ نے فرمایا: "ہاں، لیکن اس (خیر) میں کچھ دھندلاہٹ ہو گی۔” میں نے عرض کیا: اس کی دھندلاہٹ کیا ہو گی؟ آپ نے فرمایا: "ایسے لوگ ہوں گے جو میری سنت کے بجائے دوسرا طرزِ عمل اختیار کریں گے اور میرے نمونہ عمل کے بجائے دوسرے طریقوں پر چلیں گے، تم ان میں اچھائی بھی دیکھو گے اور برائی بھی دیکھو گے۔” میں نے عرض کیا: کیا اس خیر کے بعد، پھر کوئی شر ہو گا؟ آپ نے فرمایا: "ہاں، جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہو کر بلانے والے، جو ان کی بات مان لے گا وہ اس کو جہنم میں پھینک دیں گے۔” میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے سامنے ان کی (بری) صفات بیان کیجیے۔ آپ نے فرمایا: "ہاں، وہ لوگ بظاہر ہماری طرح کے ہوں گے اور ہماری ہی طرح گفتگو کریں گے۔” میں نے کہا: اللّٰہ کے رسول! اگر وہ زمانہ میری زندگی میں آ جائے تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: :تم مسلمانوں کی جماعت اور مسلمانوں کے امام کے ساتھ وابستہ رہنا۔” میں نے کہا: اگر اس وقت مسلمانوں کی جماعت اور امام نہ ہو؟ آپ نے فرمایا: "تم ان تمام فرقوں (بٹے ہوئے گروہوں) سے الگ رہنا، چاہے تمہیں درخت کی جڑیں چبانی پڑیں یہاں تک کہ تمہیں موت آئے تو تم اسی حال میں ہو۔”(صحيح مسلم: كتاب الْإِمارة (بَابُ الأَمْر بلُزوم الجماعة عند ظُهورِ الفِتَن وتحذير الدعاة إلى الكفر) حدیث:١٨٤٧)
اسی طرح قرضاوی صاحب سے جب سؤال کیا گیا کہ:علما کے کچھ ایسے فتاوے بھی ہیں جو (یمن تونس لیبیا اور مصر میں ہونے والے ان) مظاہروں اور دھرنوں کو حرام قرار دیتے ہیں اور انہیں فساد باور کراتے ہیں، بلکہ ان میں سے بعض نے تو ان مظاہروں میں شامل ہونے والوں کو خوارج تک کہا ہے تو آپ نے جواب دیا:”اللّٰہ کی قسم یہ حقیقت ہے اور صحیح میں کچھ لوگ ایسا کہتے ہیں،اور مجھے اس چیز سے بڑی مایوسی اور بڑا افسوس ہوتا کہ کچھ لوگ جو دین اور علم سے نسبت رکھتے ہیں ان کے سامنے حقائق اباطیل کے ساتھ خلط ملط ہو گئے ہیں، چنانچہ انہوں نے ان نوجوانوں کو خوارج قرار دیا ہے…یہ لوگ جو اپنے آپ کو علماء کہلاتے ہیں حقیقت میں انہوں نے متشابہات کی پیروی کی ہے اور محکم اور واضح چیزوں کو چھوڑ دیا ہے، انہوں نے فروع کو ان کے اصول کی طرف، جزئیات کو ان کے کلیات کی طرف اور ظنیات کو قطعیات کی طرف نہیں لوٹایا ہے، اور انہوں نے باتوں کی تحریف کر ڈالی ہے اور چیزوں کو الٹے سیدھے نام دے دئے ہیں، انہوں نے ان مظاہروں کو خروج کا نام دیا ہے جبکہ فقہ اسلامی کے اندر جب لفظ "خروج” بولا جاتا ہے تو اس کا مطلب "مسلح بغاوت” ہوتا ہے، کیا ان نوجوانوں نے کسی قسم کے ہتھیار اٹھائے تھے؟ انہوں نے کوئی ہتھیار نہیں اٹھائے، جب وہ نکلے ان کے ہاتھوں میں کچھ نہ تھا سوائے بعض کے ہاتھوں میں موجود قرآن اور چھوٹی چھوٹی چیزوں کے، ان کے ساتھ بس ان کی زبانیں تھیں اور وہ آواز بلند کر رہے تھے، بعض لوگوں نے ان مظاہروں کو بدعت قرار دیا ہے یہ بھی ناقابل قبول ہے۔(https://youtu.be/ZT1SF_XHLMQ)
اسی طرح جب سلفی علما خروج وبغاوت اور احتجاج ومظاہرات کو فتنہ اور ان کی طرف دعوت دینے والوں کو "دعاۃ الفتن” قرار دیتے تھے تو ان کا استہزاء کرتے ہوئے فرماتے تھے:”اللّٰہ کی قسم میں فتنہ بھڑکانے والے سب سے پہلے خطیبوں میں سے ہوں، اور جب تک یہ فتنہ باقی ہے میں ہر گز ان فتنہ پھیلانے والی تقریروں سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، ائے اللّٰہ تو مجھے فتنہ پھیلانے والے خطیبوں میں شامل کر دے، مجھے انہیں کے ساتھ موت دینا اور بروز محشر انہیں کے ساتھ اٹھانا” (https://youtu.be/PcN1E1mts_c)
ایک طرف یہ زور دار اور دھماکہ خیز فتاوے ہیں جن میں مظاہروں کو اقامت دین کی راہ میں جہاد، مظاہرین کو معصوم مجاہدین، حکام کے خلاف نعرے بازی کو کلمۃ حق عند سلطان جائر اور خروج اور دھرنے کو حرام قرار دینے والے علما کو مختلط، متشابہات کے پیروکار اور افسوسناک قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف جب مصر میں اخوانی لیڈر "محمد المرسی” کی حکومت آتی ہے اور وہی لوگ جو پہلے ان کے ساتھ مل کر احتجاج ومظاہرات کر رہے تھے مرسی کی حکومت اور پالیسیوں سے نالاں ہو کر خود ان کے خلاف مظاہرے کرنے لگتے ہیں تو یہ سارے فتاوے منسوخ ہو جاتے ہیں، مظاہرہ "خروج” ہو جاتا ہے، حاکم کے خلاف نعرہ بازی حرام ہو جاتی ہے، مظاہرہ کرنے والے خوارج بن جاتے ہیں اور ان کا قتل تک جائز ہو جاتا ہے، ولی الامر کی اطاعت واجب ہو جاتی ہے، وہ سارے آیات واحادیث محکم اور صحیح وثابت ہو جاتی ہیں جن میں خروج کی ممانعت آئی ہے، اور ملک کی سلامتی اور امن وامان کی فکر ستانے لگتی ہے۔
ملاحظہ فرمائیں!
قرضاوی صاحب کہتے ہیں:”یہاں خوارج وہ ہیں جنہوں نے”محمد مرسی” کے خلاف خروج کیا ہے، یہ بالکل واضح ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے، جو اس کے علاوہ کچھ اور کہتا ہے وہ عالم ہی نہیں ہے، ہم کہتے ہیں کہ ان کے اوپر وہ حدیثیں صادق آتی ہیں جن میں ہے کہ "جب تمہارا نظام حکومت اتحاد کے ساتھ کسی ایک شخص کے ہاتھ میں ہو اور کوئی آکر تمارے اتحاد کی لاٹھی کو توڑنا اور تمہاری جماعت کو منتشر کرنا چاہے تو اسے قتل کر ڈالو یا تلوار کے ذریعے اس کا کام تمام کر دو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔(https://youtu.be/cj2aEvsOBNQ)
اسی طرح جب مصریوں نے محمد مرسی کے خلاف مظاہرہ کرنا شروع کیا تو انہیں اللّٰہ کا خوف دلا دلا کر، رو رو کر، دین ایمان کا واسطہ دے کر، ملک کی سلامتی اور قتل وگارت گری اور خون خرابے سے ڈرانے کے بعد (حلانکہ جب یہی لوگ اس سے پہلے دوسرے کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے تو ان کے ہاتھوں میں قرآن کے نسخے تھے اور اس وقت کسی قسم کے خون خرابے کا خطرہ نہیں تھا) فرماتے ہیں کہ:”کسی کے لئے جائز نہیں ہے کہ محمد مرسی کو نظام حکومت سے باہر کرنے کی صدا بلند بلند کرے، اس لئے کہ وہ صحیح اور قانونی انتخاب کے ذریعے منتخب کئے گئے ہیں،اور وہ مسلمان ولی الامر ہیں، اللّٰہ کے حکم کے مطابق جن کی اطاعت واجب ہے، اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں:” يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللّٰہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور ان کا بھی جو تم میں سے اقتدار والے ہیں۔ اطاعت کے کاموں میں ہم ان کی اطاعت کریں گے، معصیت کے کاموں میں ہم کسی بھی بات نہیں مانیں گے اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دیا ہے۔ … اور نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بخاری مسلم اور تمام ومسانید میں عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:”مسلمان شخص پر حاکم کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا واجب ہے،خواہ وہ بات اس کو پسند ہو یا ناپسند، سوائے اس کے کہ اسے گناہ کا حکم دیا جائے، اگر اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو اس میں سننا (روا) ہے نہ ماننا۔” …یہ آدمی (محمد مرسی) ہمیں گناہوں کا حکم نہیں دیتا ہے یہ تو ہمیں خیر کے کاموں کا اور ان باتوں کا حکم دیتا ہے جن میں خود ہمارے لئے اور ہمارے دین دنیا اہل وعیال مال و دولت اور ملک وغیرہ کے حق میں خیر اور مصلحت ہے…اس لئے میں اپنے مصری بھائیوں سے جن میں سے بہت سارے لوگ میرے دوست ہیں اور جنہیں میں جانتا ہوں یہ کہنا چاہوں گا تمہارے لئے حرام ہے، تمہارے لئے حرام ہے کہ تم لوگوں کو اس "فتنہ” کی طرف بلاؤ اور انہیں محمد مرسی کی اطاعت سے نکلنے کی دعوت دو…” (https://youtu.be/gNDgNLFOGfg مکمل سماعت فرمائیں اختصار کے غرض سے بہت ساری باتوں کو چھوڑ دیا گیا ہے، https://youtu.be/-y_Wv8Wcbq4)
ڈاکٹر صاحب کے مندرجہ بالا فرمودات پر غور کریں اور خود فیصلہ کریں کہ اس دو روئی، تلون مزاجی اور نصوص شرعیہ کے ساتھ کھلواڑ کو کس چیز سے تعبیر کی جائے کہ ایک ہی چیز جب اپنے مفاد میں ہو تو حلال ہو جاتی ہے، ممانعت پر دلالت کرنے والے سارے دلائل یا منسوخ یا ضعیف ہو جاتے ہیں یا دوسرے دلائل کی روشنی میں موازنہ مقارنہ اور مقاصد واولویات کی رعایت کرتے ہوئے حکم بدل جاتا ہے، لیکن جب اسی چیز سے اپنے مفادات پر ضرب پڑتا ہے تو وہ اس درجہ ناجائز حرام اور مہلک ہو جاتی ہے کہ اس کے مرتکب قتل کے مستحق ہو جاتے ہیں اور ان پر خوارج سے متعلق وارد نصوص منطبق ہو جاتے ہیں۔ اللّٰہ المستعان وعلیہ التکلان


