جلد: ۱- شمارہ نمبر: ٦ – جمادی الثانی: ۱۴۴۵ھ، دسمبر: ۲۰۲۳ء
تعامل مع اہل البدع کی بابت جب کبھی گفتگو کی جاتی ہے، بعض فاسد الارادہ لوگ فورا عملی تطبیق اور مصالح ومفاسد کا نام لے کر اس باب میں وارد اہل سنت کے اصول کی تردید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ اہل البدعہ کی قربت کو مصلحت سمجھتے ہیں اور ان پر تردید کو مفسدہ کا نام دیتے ہیں۔
تعامل مع اہل البدع پر گفتگو کا مقصد اس باب میں وارد اہل سنت کے اصول کا بیان ہے، نیز یہ بتانا مقصود ہے کہ اس باب میں اصل کیا ہے۔ اصول سلف کو سلف صالحین نے اپنی کتابوں میں بڑے جامع انداز میں بیان کیا ہے، جن میں اہل بدعت سے دوری، ان کی کتابیں پڑھنے کی ممانعت، ان سے اخذ علم اور استفادہ کی حرمت اور ان سے عداوت وقطع تعلقی کی صراحت فرمائی ہے۔
عملی تطبیق کی مسموم تلوار سے بعض افراد اہل سنت کے اتفاقی اصولوں پر ضرب لگانا چاہتے ہیں، نیز ان کی خواہش ہے کہ سلف کے تمام اصولوں کو ان کے زمانے کے ساتھ خاص کر کے موجودہ زمانے میں ان کے خود تراشیدہ اصولوں پر عمل کی آزادی حاصل کی جائے۔ جبکہ ایک ادنی سلفی طالب علم بھی اس امر سے واقف ہے کہ تمام اصول بلا کسی زمان ومکان کی تقیید کے مذکور ہیں، لہذا ان متفقہ اصول کی درستگی کا اعتقاد رکھنا منہج سلف پر قائم رہنے کے لئے لازم اور ضروری ہے۔
رہا عملی تطبیق کا مسئلہ؛ تو تطبیق کو بنیاد بنا کر اصول پر ضرب لگانا اہل سنت کا شیوہ نہیں، نیز جن حالات کا بہانہ بنا کر اہل بدعت کی مجالست بلکہ ان سے دوستی بڑھائی جا رہی ہے بعینہ وہی امور یا اسی طرح کے حالات امام احمد اور دیگر ائمہ کرام رحمہم اللہ کے زمانے میں بھی موجود تھے، بلکہ امام احمد رحمہ اللہ پر کوڑوں کی برسات کی گئی، مگر کیا انہوں نے اہل بدعت کے تئیں کسی قسم کی نرمی کا اظہار کیا؟
جہاں تک مصلحت کی بات ہے تو مصلحت وہی معتبر ہے جسے شریعت نے مصلحت سمجھا ہے، وہ نہیں جسے آپ کی عقل نے مصلحت سمجھا ہے، اور مصالح میں سب سے اول درجہ دین کی مصلحت کا ہے، یعنی اہل بدعت کے پاس جانے کا مقصد صحیح منہج کی تبلیغ کا ہو ، یہاں یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ اگر بدعتی کے پاس منہج حق پہنچانے میں آپ کے منہج کے بگڑنے کا ذرا سا بھی اندیشہ ہو، یا یہ خوف ہو کہ عوام الناس میں اس سے غلط پیغام جائے گا تو ان کے پاس جانا جائز نہیں ہوگا۔
مگر مصلحت کوشوں کا حال یہ ہے کہ اہل بدعت کو ان کی غلطی پر تنبیہ کرنا معیوب امر سمجھتے ہیں اور ان کی نقاب کشائی کرنے والوں کے خلاف محاذ آرائی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، بلکہ معاملہ ایں جا رسید کہ اب اس نظریے کے حامل افراد اہل بدعت کو اپنے جلسوں اور اسٹوڈیو میں بلا کر ان سے علم حاصل کر رہے ہیں۔
سنت سے دوری انسان کو بدعت میں دھکیل دیتی ہے، اور اہل سنت سے دوری انسان کو اہل بدعت کی محبت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ یہ عذاب الہی کی ایک خطرناک شکل ہے۔اللہ رب العالمین ہم سب کو سلف صالحین کے منہج پر قائم رکھے۔ آمین۔
ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنک پر کلک کریں:


