اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
﴿ إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ، فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيم﴾
”یقیناً ہم نے اس قرآن کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا ہے،بیشک ہم ڈرانے والے ہیں ، اسی رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔“ ([1])
لیلہ مبارکہ یعنی بابرکت رات اور فیصلوں والی رات سے مراد لیلۃ القدر ہے ، جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لیلۃ القدر اور لیلہ مبارکہ دو الگ الگ راتیں ہیں اور لیلہ مبارکہ سے مراد پندرہ شعبان کی رات ہے، حالانکہ سیاقِ کلام اس بات کی واضح نفی کرتا ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسی رات میں نزولِ قرآن کی طرف اشارہ فرمایا اور نزولِ قرآن بلا شک وریب رمضان المبارک میں لیلۃ القدر میں نازل ہوا ۔ ([2])
اس آیت سے نصف شعبان کی رات مراد لینے کے حوالے سے عمومی طور پر بعض آثار کا سہارا لیا جاتا ہے:
1۔ امام عکرمہ تابعی رحمہ اللہ کا یہ قول پیش کیا جاتا ہے کہ انہوں نے فرمایا:
لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، يُدَبَّرُ أَمْرُ السَّنَةِ، وَتُنْسَخُ الْأَمْوَاتُ مِنَ الْأَحْيَاءِ، وَيُكْتَبُ الْحَاجُّ، فَلَا يَنْقُصُ مِنْهُمْ وَلَا يَزِيدُ فِيهِمْ أَحَدٌ.
”پندرہ شعبان وہ رات ہے کہ جس میں سارے سال کے معاملات کا فیصلہ ہوتا ہے، زندگی وموت کے فیصلے(لوحِ محفوظ سے) نقل کیے جاتے ہیں، اس سال حج کرنے والوں کےنام لکھے جاتے ہیں، جس میں کسی ایک بھی فرد کی کمی بیشی نہیں ہوتی۔“ ([3])
تبصرہ:
(1) یہ قول عکرمہ رحمہ اللہ سے ثابت نہیں،اس کے راوی ابو مغیرہ نضر بن اسماعیل ضعیف ہیں۔ان پر امام احمد([4]) ، یحیی بن معین ([5]) ،نسائی ([6]) ،ابوزرعہ ([7]) یعقوب بن سفیان ([8]) اور ابن حبان ([9]) وغیرہم نے جرح کر رکھی ہے۔
اگرچہ امام دارقطنی ([10]) ، عجلی ([11]) ، ابن عدی ([12]) نے ان کی توثیق کی طرف اشارہ کیا ہے ، لیکن یہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہی ہیں، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں : یہ راوی قوی نہیں۔ ([13])
تنبیہ : تفسیر طبری میں نضر بن اسماعیل کی بجائے الحسن بن اسماعیل ہے جو کہ تصحیف ہے۔ ([14])
(2) دوسری بات یہ ہے کہ عکرمہ رحمہ اللہ سے اس کے برعکس بھی مروی ہے، چنانچہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ (911ھ) نے تفسیر ابن ابی حاتم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عطاء الخراسانی بیان کرتے ہیں عکرمہ رحمہ اللہ نے اس آیت کے متعلق فرمایا: يُقْضَي فِـی لَيْلَةِ الْقَدْرِ كُلُّ أَمْرٍ مُـحْكَمٍ. ”شبِ قدر میں ہر محکم کام کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ([15])
سیوطی رحمہ اللہ نے اسی متعلق ایک دوسرا قول ذرا مختلف الفاظ سے بھی نقل کیا ہے۔(ایضا)
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں: عَلَى مَا رُوِيَ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ ذَلِكَ فِيْ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَالرِّوَايَةُ عَنْهُ بِذَلِكَ مُضْطَرِبَةٌ قَدْ خُوْلِفَ الرَّاوِي لَهـَا، فَرُوِيَ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ قَالَ: فِـيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَعَلَى هَذَا الْـمُفَسِّرُوْنُ.
”عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی قول کے مطابق اس رات سے مراد پندرہ شعبان کی رات ہے، لیکن ان سے مروی یہ قول مضطرب ہے کیونکہ اسے روایت کرنے میں اس راوی کی مخالفت کی گئی ہےکہ عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ بھی روایت کیا گیا کہ اس رات سے مراد لیلۃ القدر ہے اور یہی دیگرمفسرین کی رائے ہے۔ ([16])
2۔ ابو الضحیٰ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
أَنَّ اللَّهَ يَقْضِي الْأَقْضِيَةَ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَيُسَلِّمُهَا إِلَى أَرْبَابِهَا فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ. ”اللہ تعالیٰ پندرہ شعبان کی رات فیصلے فرماتے ہیں اور شبِ قدر کو اس فیصلے پرمامور فرشتے کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ([17])
تبصرہ: اسے حافظ ابو اسحاق ثعلبی رحمہ اللہ (427ھ) اور علامہ بغوی (510ھ) نے بلاسند ذکر کیا ہے، جبکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے صحیح ثابت ہے کہ فیصلوں کے طے کرنے کی رات لیلۃ القدر ہے ، جیسا کہ آگے تفصیل آئے گی۔
جب یہ ثابت ہوا کہ اس آیت سے پندرہ شعبان پر دلیل لینے کے حوالے سے کوئی اثر ثابت نہیں تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سلف وخلف میں علماء ومفسرین کی اس آیت کے متعلق رائے نقل کردی جائے۔
ذیل میں تفصیلا آثار واقوال پیشِ خدمت ہیں:
1۔ ترجمان القرآن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ، إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ﴾ يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَفِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ يُفْرَقُ أَمْرُ الدُّنْيَا إِلَى مِثْلِهَا مِنْ قَابِلٍ. ”یقیناً ہم نے اس قرآن کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا ہے،بیشک ہم ڈرانے والے ہیں ، اسی رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے،اس سے مراد لیلۃ القدر ہے اور اسی رات آئندہ سال تک کے دنیاوی معاملات کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔“ ([18])
امام حاکم نے اسکی سند کوصحیح کہا ہے اور امام ضیاء المقدسی نے بھی صحیح کہا۔ ([19])
2۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ لیلۃ القدر کے متعلق فرماتے ہیں : إِنَّهَا اللَّيْلَةُ الَّتِيْ يُفْرَقُ فِيْهَا كُلُّ أَمْرٍ حَكِيْمٍ. ”یہی وہ رات ہے جس میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔“ ([20])
3۔ امام قتادہ بن دعامہ السدوسی تابعی رحمہ اللہ ،لیلہ مبارکہ “ کے متعلق فرماتے ہیں : هِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ. ”یہ شبِ قدر ہے۔“ ([21])
4۔ امام مجاہد بن جبر تابعی رحمہ اللہ اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں: فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ كُلُّ أَمْرٍ يَكُونُ فِي السَّنَةِ إِلَى السَّنَةِ: الْحَيَاةُ وَالْمَوْتُ، يُقَدَّرُ فِيهَا الْمَعَايِشُ وَالْمَصَائِبُ كُلُّهَا ۔ ”ایک سال سے اگلے سال تک ہونے والے تمام معاملات کے لیلۃ القدر کوفیصلے کیے جاتے ہیں ، زندگی وموت اور معیشت ومصائب غرضیکہ ہر معاملے کے حوالے سے تقدیر لکھی جاتی ہے۔“ ([22])
عبد اللہ بن ابی نجیح نے مجاہد رحمہ اللہ کی تفسیر قاسم بن ابی بزہ کے نسخے سے نقل کی تھی۔ ([23]) اور قاسم ثقہ ہیں ، لہذا اس کی سند صحیح ہے۔اس اثر کی ایک دوسری سند بھی ہے ۔ ([24])
5۔ امام ابو عبد الرحمن السلمی تابعی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : يُدَبَّرُ أَمْرُ السَّنَةِ فِىْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ. ”شبِ قدر کو پورے سال کے معاملے کی تدبیر کی جاتی ہے۔“ ([25])
6۔ امام ابو الجوزاء اوس بن عبد اللہ الربعی تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: هِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ يُجَاءُ بالدِّيوانِ الْأَعْظَمِ السَّنَةَ إِلَى السَّنَةِ، فَيَغْفِرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ شَاءَ. ”اس سے مراد شبِ قدر ہی ہے کہ جس میں ایک سال سے دوسرے سال تک کا بڑا رجسٹر لایا جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ جسےچاہتے ہیں معاف کر دیتے ہیں۔“ ([26])
7۔ حافظ ابو جعفر الطحاوی حنفی رحمہ اللہ (321ھ)فرماتے ہیں: فَأَخْبَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ اللَّيْلَةَ الَّتِي يُفْرَقُ فِيهَا كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ فَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ , وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أُنْزِلَ فِيهَا الْقُرْآنُ. ”اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ جس رات ہر محکم کام کے فیصلے کیے جاتے ہیں وہ لیلۃ القدر ہے اور یہی وہ رات ہے جس میں قرآنِ مجید نازل ہوا۔“ ([27])
8۔ امام ابو بکر ابن عزیر سجستانی رحمہ اللہ (330ھ) فرماتے ہیں: ”لیلۃ مبارکہ لیلۃ القدر ہے۔“ ([28])
9۔ امام ابن ابی زمنین مالکی رحمہ اللہ (399ھ) فرماتے ہیں : ”بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر۔“
نیز فرماتے ہیں : ”اس رات یعنی لیلۃ القدر کو ہر محکم کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔“ ([29])
10۔ امام ابو جعفر النحاس رحمہ اللہ (338ھ) فرماتے ہیں: وَقَدْ ذَكَرْنَا عَنِ الْعُلَمَاءِ أَنَّهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ. ”ہم نے علماء سےبیان کردیا ہے کہ اس رات سے مراد لیلۃ القدر ہی ہے۔“ ([30])
11۔ امام ابوبکر احمد بن الحسین بیہقی رحمہ اللہ (458ھ) فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر کو بابرکت رات فرمایا ہے یعنی اولیاء اللہ کے لیے اس رات میں بڑی برکت ہوتی ہے کہ اگر وہ اسے اللہ کی عبادت میں بیدار رہیں ، اسے نماز اور تلاوت وذکر میں گزاریں تو یہ ہزار سال کے ہزار سال سے بھی بہتر قرار دی گئی ہےاور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ اس رات محکم فیصلے کیے جاتے ہیں یعنی حکمت ودرستگی پر مبنی فیصلے ہوتے ہیں۔“ ([31])
مزید فرماتے ہیں : ”یہ بھی کہا گیا ہے کہ شبِ قدر میں یہ فیصلہ ہوتا تھا کہ اگلے سال تک کتنا قرآن نازل ہونا ہے جبکہ فرشتوں نے اہلِ زمین کے لیے جو معاملات کرنے ہوتے ہیں اس کا فیصلہ پندرہ شعبان کی رات ہوتا ہے۔“ ([32]) لیکن یہ بات بلا دلیل ہے۔
12۔ حافظ ابو الحسن الواحدی شافعی رحمہ اللہ (468ھ) فرماتے ہیں : ”بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر۔“ ([33])
13۔ علامہ زمخشری معتزلی علیہ الرحمہ (538ھ) فرماتے ہیں : ”اکثر علماء کی رائے یہی ہے کہ اس بابرکت رات سے مراد لیلۃ القدر ہے۔“ ([34])
14۔ امام ابن العربی مالکی رحمہ اللہ (543ھ)فرماتے ہیں: جُمْهُورُ الْعُلَمَاءِ عَلَى أَنَّهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: إنَّهَا لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ؛ وَهُوَ بَاطِلٌ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ الصَّادِقِ الْقَاطِعِ: ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ﴾ [البقرة: 185] فَنَصَّ عَلَى أَنَّ مِيقَاتَ نُزُولِهِ رَمَضَانُ، ثُمَّ عَبَّرَ عَنْ زَمَانِيَّةِ اللَّيْلِ هَاهُنَا بِقَوْلِهِ: ﴿فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ﴾ [الدخان: 3] فَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ فِي غَيْرِهِ فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ عَلَى اللَّهِ، وَلَيْسَ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ حَدِيثٌ يُعَوَّلُ عَلَيْهِ، لَا فِي فَضْلِهَا، وَلَا فِي نَسْخِ الْآجَالِ فِيهَا، فَلَا تَلْتَفِتُوا إلَيْهَا. ”جمہور علماء کا یہی موقف ہےکہ بابرکت رات )لیلۃ القدر ہی ہے، بعض نے کہا کہ یہ رات پندرہ شعبان ہے لیکن یہ قول بالکل باطل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی سچی و قاطع کتاب میں فرمایا: رمضان وہ مہینہ ہے کہ جس میں قرآن نازل کیا گیا۔ اللہ نے واضح بیان کر دیا کہ نزولِ قرآن کا مہینہ رمضان ہےپھر یہاں اس رات کے وقت کو بابرکت رات کہہ کر بیان کیا ہےلہذا جو یہ سمجھے کہ یہ بابرکت رات رمضان کے علاوہ کسی دوسرے مہینے میں ہے تو وہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھتا ہےاور پندرہ شعبان کے متعلق کوئی بھی قابلِ اعتماد حدیث نہیں ، نہ اس کی فضیلت میں اور نہ ہی اس میں زندگی وموت لکھے جانے کے حوالے سے، اس لیے آپ ان (ضعیف روایات) پر بالکل توجہ نہ دیں۔“ ([35])
15۔ علامہ فخر الدین رازی(606ھ) کہتے ہیں : أَمَّا الْقَائِلُونَ بِأَنَّ الْمُرَادَ مِنَ اللَّيْلَةِ الْمُبَارَكَةِ الْمَذْكُورَةِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ، هِيَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَمَا رَأَيْتُ لَهُمْ فِيهِ دَلِيلًا يُعَوَّلُ عَلَيْهِ، وَإِنَّمَا قَنِعُوا فِيهِ بِأَنْ نَقَلُوهُ عَنْ بَعْضِ النَّاسِ، فَإِنْ صَحَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ كَلَامٌ فَلَا مَزِيدَ عَلَيْهِ، وَإِلَّا فَالْحَقُّ هُوَ الْأَوَّلُ. ”آیتِ مذکورہ میں لیلہ مبارکہ سے پندرہ شعبان مراد لینے والوں کے پاس میرے علم کے مطابق کوئی قابلِ اعتماد دلیل نہیں، بلکہ انہوں بعض لوگوں سے منقول بات پر ہی اکتفاء کر لیا ہے،اگر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائے تو اس پر مزید بات ہوسکتی ہے وگرنہ پہلا قول ہی حق ہے۔(کہ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے۔)“ ([36])
16۔ علامہ شمس الدین قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں : اَلصَّحِيْحُ أَنَّ اللَّيْلَةَ الَّتِيْ يُفْرَقُ فِيْهَا كُلُّ أَمْرٍ حَكِيْمٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ مِنْ شَهْرِ رَمْضَانَ. ”درست بات یہ ہے کہ جس رات ہر محکم کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے وہ رات ماہِ رمضان میں شبِ قدر ہے۔“ ([37])
نیز فرماتے ہیں : اَللَّيْلَةُ الْـمُبَارَكَةُ لَيْلَةُ الْقَدْرِ. وَيُقَالُ: لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ……..وَالْـأَوَّلُ أَصَحُّ. ”لیلہ مبارکہ دراصل لیلۃ القدر ہے، اور ایک قول ہے کہ یہ پندرہ شعبا ن ہے۔۔۔۔اور پہلی بات ہی زیادہ صحیح ہے۔“ ([38])
اسی طرح فرماتے ہیں: اَلصَّحِيْحُ إِنَّمّـا هِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ عَلَى مَا بَيَّنَّـاهُ. ”جیسا کہ ہم نے بیان کر دیا ہے کہ صحیح یہی ہے کہ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے۔“ ([39])
17۔ حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هَذِهِ هِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ قَطْعاً لِقَوْلِهِ تَعَالى: ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾ وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهَا لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقَدْ غَلِطَ. ”یہ فیصلے والی رات قطعی طور پر لیلۃ القدر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:ہم نے اس قرآن کو شبِ قدر میں نازل کیا ہے۔ اور جس کا خیال ہے کہ اس رات سے مراد پندرہ شعبان ہے تو وہ غلطی پر ہے۔“ ([40])
18۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ)فرماتے ہیں :
وَمَنْ قَالَ: إِنَّهَا لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ….فَقَدْ أَبْعَدَ النَّجْعَة فَإِنَّ نَصَّ الْقُرْآنِ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ. ”جس نے کہا کہ اس رات سے مراد پندرہ شعبا ن ہے تو وہ دور کی کوڑی لایا ہے حالانکہ قرآنی الفاظ واضح ہیں کہ یہ رات رمضان میں ہے۔“ ([41])
19۔ علامہ بدر الدین زرکشی رحمہ اللہ (794ھ) فرماتے ہیں: لَيْلَةٌ مُبَارَكَةٌ هِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ. ”لیلہ مبارکہ (بابرکت رات) شبِ قدر ہی ہے۔ “ ([42])
20۔ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ (795ھ) فرماتے ہیں : ”جمہور علماء کا موقف ہے کہ یہ فیصلے والی رات لیلۃ القدر ہے اور یہی بات صحیح ہے۔“ ([43])
21۔ علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ) فرماتے ہیں : اَلْـحَقُّ مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الْـجُمْهُوْرُ مِنْ أَنَّ هَذِهِ اللَّيْلَةَ الْـمُبَارَكَةَ هِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَـا لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، لِـأَنَّ اللهَ سُبْحَانَهُ أَجْمَلَهَا هُنَا وَبَيَّنَهَا فِـيْ سُوْرَةِ الْبَقَرَةِ. ”جمہور اہلِ علم نے جس مؤقف کو اختیار کیا ہے وہی حق ہے کہ اس لیلہ مبارکہ سے مراد شبِ قدر ہے پندرہ شعبان نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں اس بات کو یہاں اجمالاًذکر کیا ہے اور سورہ البقرہ میں واضح بیان کر دیا ہے۔“ ([44])
22۔ علامہ صدیق حسن خان بھوپالی رحمہ اللہ (1307ھ)فرماتے ہیں : اَلْـحَقُّ مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الْـجُمْهُوْرُ مِنْ أَنَّ هَذِهِ اللَّيْلَةَ الْـمُبَارَكَةَ هِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَـا لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ. ”جمہور علماء کی رائے ہی حق ہے کہ اس لیلہ مبارکہ سے مراد لیلۃ القدر ہے ، پندرہ شعبان نہیں۔“ ([45])
23۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ(1948ء) فرماتے ہیں: ” لیلۃ مبارکہ : اس آیت کی تفسیر میں اختلاف ہے مگر ہم نے جو معنی لکھے ہیں یہ معنی دونوں گروہوں (محدثین اور متکلین) کے نزدیک معتبر ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ : (لیلۃ مبارکۃ) رمضان کی لیلۃ القدر ہے۔۔۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے اس قرآن کو لیلۃ القدر میں اتارا اور یہ رمضان کے مہینے میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے رمضان کے مہینے میں قرآن نازل ہوا ہے اس کے خلاف جو روایت آئی ہے وہ ضعیف ہے) وغیرہ،تفسیر کبیر میں لیلۃ القدر کے معنی لکھ کر امام فرماتے ہیں۔۔۔جو لوگ لیلۃ مبارکہ سے شعبان کے وسط کی رات کہتے ہیں میں نے ان کے پاس اس دعوی پر کوئی معقول دلیل نہیں پائی۔ یہ ہے دونوں گروہوں کا اتفاق۔(فالحمد للہ) “ ([46])
خلاصہء کلام:
سلف وخلف کی ان واضح تصریحات کی روشنی میں معلوم ہوا کہ وہ رات جسے اللہ تعالیٰ نے بابرکت قرار دیا ہے اور جس میں سالانہ فیصلے اور مقادیر طے کی جاتی ہیں وہ لیلۃ القدر ہے۔ وللہ الحمد۔وصلی اللہ علی نبینا محمد۔
[1] (سورۃ الدخان ،آیت نمبر: 3 )۔
[2] (سورہ البقرہ:185، سورہ القدر)۔
[3] (فضائل رمضان لابن ابی الدنیا: 7، تفسیر ابن جریر طبری: 21/9)۔
[4] (العلل ومعرفۃ الرجال،روایۃ عبد اللہ:5319، روایۃ مروزی وغیرہ:218)۔
[5] (تاریخہ روایۃ الدوری : 1311)۔
[6] (الضعفاء والمتروکون)۔
[7] (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم :8/474)۔
[8] (المعرفۃ والتاریخ :3/55)۔
[9] (المجروحین:3/51)۔
[10] (تاریخ بغداد: 15/597وسندہ صحیح)۔
[11] (الثقات:1690)۔
[12] (الکامل:8/267)۔
[13] (تقریب التہذیب :7130)۔
[14] (المعجم الصغیر لرواۃ الامام ابن جریر:1/112 ، ت:740)۔
[15] (الدر المنثور في التفسير بالمأثور:7/ 399) ۔
[16] (زاد المسير في علم التفسير:4/ 87)۔
[17] (تفسیر ثعلبی : 10/248،تفسير بغوی:4/ 174)۔
[18] (المستدرک للحاکم :2/487 ، شعب الايمان للبیہقی :5/254 وسندہ حسن)۔
[19] (المختارۃ:10/236)۔
[20] (تفسیرابن جریر طبری : 7/21 وسندہ حسن)۔
[21] (تفسیرابن جریر طبری : 6/21 وسندہ صحیح)۔
[22] (تفسیر ابن جریر طبری :21/8 وسندہ صحیح)۔
[23] (مشاہیر علماء الامصار لابن حبان ،ص:146،ت:1153)۔
[24] (تفسیر ابن جریرطبری : 21/9،القضاء والقدر للبیہقی : 258)۔
[25] (تفسیر ابن جریرطبری :21/8 وسنده حسن، شعب الايمان للبیہقی : 5/255)۔
[26] (شعب الإيمان :5/ 255وسندہ حسن)۔
[27] (شرح معانی الآثار: 3/93)۔
[28] (غريب القرآن للسجستانی،ص: 404)۔
[29] (تفسیر ابن ابی زمنین :4/198)۔
[30] (اعراب القرآن: 4/83)۔
[31] (شعب الایمان : 5/ 253، فضائل الاوقات :212)۔
[32] (شعب الایمان : 5/253)۔
[33] (الوسيط فى تفسير القرآن المجيد : 85/4)۔
[34] (الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل : 270/4)۔
[35] (احکام القرآن لابن العربی:4/ 117)۔
[36] (مفاتيح الغيب : 27/353)۔
[37] (التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة، ص: 250)۔
[38] (الجامع لأحكام القرآن :16/126)۔
[39] (الجامع لأحكام القرآن :16/127)۔
[40] (شفاء العلیل ،ص:22)۔
[41] (تفسير ابن كثير : 7/246)۔
[42] (البرهان فی علوم القرآن :1/ 230)۔
[43] (لطائف المعارف : 140)۔
[44] (فتح القدیر :4/653)۔
[45] (فتح البیان فی مقاصد القرآن : 12/389)۔
[46] (تفسیر ثنائی : 3/228)۔


