رمضان کا مقدس مہینہ سایہ فگن ہونے کو ہے۔ اس مہینے کو پانے کیلیے سلف کئی مہینوں قبل ہی دعائیں شروع کر دیا کرتے تھے۔ پھر جب یہ رخصت ہوتا تو اس میں کیے گئے اعمال کی قبولیت کیلیے بھی کئی مہینے دعائیں کرتے۔ امام ابنِ جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”تالله، لو قيل لأهل القبور تمنوا ؛ لتمنوا يوماً من رمضان.!“ ۔ ([1]) "اللہ کی قسم! اگر قبر والوں سے کہا جائے کہ آرزو کرو تو وہ رمضان کے ایک دن کی آرزو کریں!”
ہمیں اللہ تعالی کی اس نعمت کا پوری طرح احساس ہونا چاہیے۔ ذیل میں اس ماہ کے حوالے سے بعض تنبیہات کا ذکر ہے، جو اس ماہ کو مزید بابرکت اور مفید بنانے میں معاون ہو سکتی ہیں۔
1) جس طرح رمضان میں نیکی کا اجر زیادہ ہے، اس طرح برائی پر گناہ بھی زیادہ ہے۔
جس طرح زمان و مکان کی فضیلت کے ساتھ نیکی کا اجر بڑھتا ہے، اسی طرح گناہ کی سنگینی بھی بڑھ جاتی ہے۔ شیخ ابنِ باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں : "اگر مہینہ فضیلت والا ہو یا جگہ فضیلت والی ہو تو ایک نیکی پر کئی نیکیوں کا ثواب ملتا ہے، اسی طرح برائیوں کا گناہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ پس رمضان میں کی گئی برائی کا گناہ غیر رمضان میں کی گئی برائی سے بڑھ کر ہے، جیسے رمضان میں کی گئی نیکی کا ثواب رمضان کے علاوہ کی گئی نیکی سے ذیادہ ہے۔” ([2])
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس رمضان میں نجاشی نامی شخص کو لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی۔ آپ نے اسے نشہ اترنے تک چھوڑ دیا، پھر اسے اَسّی کوڑے مارے اور قید کر دیا۔ اگلے دن قید سے نکال کر مزید بیس کوڑے مارے اور فرمایا : ”ثمانين للخمر، وعشرين لجرأتك على الله في رمضان!“۔ ([3]) "اَسّی کوڑے شراب کی حد ہے اور بیس اس لیے کہ تم نے رمضان میں بھی اللہ کے سامنے اس قدر جرات دکھائی (کہ شراب پی لی!)۔”
سو اس بات سے بہت ہشیار رہنا چاہیے کہ عام دنوں میں جو لہو و لعب کے کام ہم معمولی سمجھ کر انجام دیتے ہیں، ان سے پوری طرح کنارہ کش ہو کر عبادات کی طرف خوب دھیان رکھا جائے۔
2) رمضان میں اخلاقی معاملات خصوصی توجہ مانگتے ہیں۔
روزے میں انسان بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے، نفسانی خواہشات سے رکا رہتا ہے۔ چنانچہ وہ مزاج میں چڑچڑاپن محسوس کرتا ہے۔ روزے میں انسان کے لڑنے بِھڑنے اور گالم گلوچ کے قوی پوری طرح ایکٹو ہوتے ہیں جو بھوک پیاس کی شدت کے ساتھ شدید تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اسی مزاج کی تربیت و اصلاح کا نام روزہ ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا فَلا يَرْفُثْ ، وَلا يَجْهَلْ ، فَإِنْ امْرُؤٌ شَاتَمَهُ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ“۔ ([4]) "جب تم میں سے کوئی روزہ رکھے تو فحش باتیں نہ کرے، نہ بدتمیزی کرے، اگر کوئی شخص اس سے گالم گلوچ یا جھگڑا کرے تو اسے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں۔”
فقیہِ زمانہ شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”إني أُفتيكم الإبتسامة في رمضان لا تفطر ، واعلموا أن البشاشة وطلاقة الوجه لإخوانكم من الأمور التي تثابون عليها.“۔ ([5]) "میں آپ کو فتوی دیتا ہوں کہ رمضان میں مسکرانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ خوب جان لو کہ اپنے بھائیوں کے ساتھ خوش طبعی اور ان سے خوشگوار چہرے کے ساتھ ملنا ایسے امور ہیں جن پر آپ کو ثواب دیا جاتا ہے!”
شیخ نے یہ بات لطفاً ارشاد فرمائی ہے مگر در حقیقت بہت ہی زبردست اور اہم بات ہے۔ روزہ رکھ کر ہمارے اخلاقی رویوں میں جو خشکی اور درشتی در آتی ہے، وہ روزے کے اجر کیلیے زہرِ قاتل ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے صیام و قیام محض بھوک اور تھکاوٹ شمار نہ ہوں تو ہمیں عبادات کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاقی رویوں پر بھی خصوصی محنت کرنی چاہیے!
3) رمضان کی راتیں بھی دنوں کی طرح یا بعض اعتبارات سے ان سے بڑھ کر فضیلت والی ہوتی ہیں۔
ہماری عمومی روٹین بن گئی ہے کہ راتیں جاگتے ہیں اور دن سوتے ہیں۔ پھر رمضان میں تو یہ روٹین مزید پختہ ہو جاتی ہے۔ رمضان کی راتوں کا جاگنا بہت خوب ہے، اگر راتیں مصلے پر یا مصحف کے ساتھ گزریں۔ لیکن عملاً یہ ہوتا ہے کہ تراویح کے بعد سے سحری تک ہم اپنے نفس کے شیطان کو کھلی چھوٹ دے دیتے ہیں گویا یہ دورانیہ رمضان کا ہے ہی نہیں۔
حافظ ابنِ رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں : "نبی صلى اللہ عليہ وسلم اور جبریل علیہ السلام آپس میں قرآن مجید کا دور رات کے وقت کیا کرتے تھے۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رمضان کی راتوں میں بہت ذیادہ تلاوت کرنا مستحب ہے ؛ کیونکہ رات کو دنیاوی جھمیلوں سے خلاصی ہو جاتی ہے، ہمتیں جمع ہو جاتی ہیں اور دل و زبان قرآن پر تدبر کیلیے آمادہ ہوتے ہیں۔ اور جیسا کہ اللہ تعالى نے فرمایا : (إن ناشئة الليل هي أشد وطأ وأقوم قيلا) بیشک رات کو (عبادت کیلیے) اٹھنا نفس کو سخت کچلنے والا اور بات کو ذیادہ درست کرنے والا ہے!” ([6])
لہذا یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ شباب و کباب سے بھرپور رَت جگے، لہو و لعب اور ڈراموں (خواہ وہ دین کے نام پر ہوں) میں وقت صرف کرنا درحقیقت روزے کی حکمت کو مار دینے اور روزے کی خیر و برکت کو ختم کر دینے کے مترادف ہے۔ آپ خود سوچیے کہ سلف صالحین تو رمضان میں مجالسِ علم تک ترک کر دیا کرتے تھے جو عین عبادت ہیں۔ اور ہم ڈرامے اور سیریلز جو منکرات سے بھرپور ہیں، انہیں چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ پھر نفس نے ہمیں پٹیاں اور تاویلیں بھی عجیب عجیب پڑھا رکھی ہیں کہ ہمیں گناہ کو گناہ کہنا یا سمجھنا چٹان منتقل کرنے سے زیادہ مشکل لگتا ہے۔ اللہ ہمارے احوال پر رحم فرمائے۔
4) صیام و قیام میں ”ایمان“ اور ”احتساب“ کو ملحوظِ خاطر رکھنا ضروری ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. ومَنْ قَامَ رَمضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابا، غفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ منْ ذَنْبِهِ.“ ([7]) "جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اس کے سابقہ (صغیرہ) گناہ معاف کر دییے جاتے ہیں۔ اور جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کا قیام (تراویح) کیا، اس کے سابقہ (صغیرہ) گناہ معاف کر دییے جاتے ہیں۔”
تو صیام و قیام میں یہ دو بنیادی چیزیں یعنی ایمان اور احتساب کو ملحوظ خاطر رکھیں گے تو ہی فضیلت کو پا سکیں گے، وگرنہ یہ بھوک اور تھکاوٹ کی ایک یومیہ مشق ہے جو آپ بجا لاتے ہیں۔ لیکن یہ ایمان اور احتساب ہے کیا؟
شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : "ایمان اس بات پر کہ روزے کا حکم اللہ کی طرف سے ہے اور اسی نے اس کو واجب قرار دیا ہے۔ جبکہ احتساب یہ ہے کہ صیام و قیام کو اخلاص اور ثواب پانے کی نیت سے انجام دیا جائے۔” ([8])
ہم سب کو اپنے صیام و قیام میں ایمان اور احتساب کو لازمی مد نظر رکھنا چاہیے۔ روزانہ ایک دفعہ اپنے آپ سے پوچھ لیں کہ یہ عمل میں کیوں کر رہا ہوں؟ اس سبق کو بار بار دہرائیں، حتی کہ یہ ہر عمل کا جزوِ لا ینفک بن جائے۔
5) سحری تبھی سحری کہلائے گی جب مشروع وقت پر کی جائے۔
سحری ایک بابرکات اور فضیلت والا کھانا ہے، مسلمانوں کا شعار ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تَسَحَّرُوا ؛ فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً.“ ([9]) "سحری کیا کرو ؛ بیشک سحری میں برکت ہے۔”
سحری دراصل اس کھانے کو کہتے ہیں جو بوقتِ سحر کھایا جاتا ہے۔ اہلِ علم فرماتے ہیں کہ سحر کا وقت فجرِ کاذب اور فجرِ صادق کے درمیان ہوتا ہے، اس وقت کے علاوہ کھایا جانے والا کھانا سحری شمار نہیں ہو گا اور نہ ہی اس سے سحری کے فضائل حاصل ہوں گے۔ جبکہ لوگوں کی ایک بڑی اکثریت بہت پہلے کھانا کھا لیتی ہے۔
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ اس بات پر تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : "کچھ لوگ سحری پہلے کر لیتے ہیں کیونکہ رات بھر وہ جاگتے ہیں، سو فجر کی اذان سے کہیں پہلے سحری کر کے سو جاتے ہیں۔ یہ لوگ کئی غلطیاں کرتے ہیں : ایک تو سحری کو وقت سے پہلے کر لیتے ہیں۔ دوسرا فجر کو مسجد میں جماعت سے ادا نہیں کرتے اور اللہ کی نافرمانی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ بعض دفعہ فجر قضا ہی کر لیتے ہیں جو کہیں بڑا جرم اور گناہ ہے۔” ([10])
اس لیے اپنا معمول ایسا بنائیں کہ سحری کو اس کے آخری وقت پر کریں جو مسنون ہے، پھر فجر باجماعت ادا کریں اور ذکر و تلاوت کر کے سوئیں۔
6) افطار کی وجہ سے نماز مغرب میں سستی کرنا سنگین غلطی ہے۔
بہت سے لوگ جب افطاری کے دسترخوان پر بیٹھتے ہیں تو مغرب کا وقت نکلنے کے بعد ہی اٹھتے ہیں۔ یہ روش خطرناک اور سلف صالحین کے طریقے کے خلاف ہے۔ شیخ عبد الله ناصر رحمانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں : "کچھ لوگ افطار کے دسترخوان پر مسلسل کھاتے رہتے ہیں حتی کہ رات کا کھانا بھی کھا لیتے ہیں، اور مسجد میں مغرب کی باجماعت نماز تک چھوڑ دیتے ہیں، یہ بہت بڑی غلطی کے مرتکب ہیں، چنانچہ مسجد اور جماعت کی نماز کو چھوڑ کر ثوابِ عظیم سے محرومی اور مختلف سزاؤں اور وعیدوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ امرِ مشروع یہ ہے کہ پہلے روزہ افطار کر لیا جائے، پھر نمازِ مغرب ادا کی جائے، پھر رات کا کھانا تناول کیا جائے۔” ([11])
7) تراویح میں محض خوبصورت آوازوں کے پیچھے بھاگنا عبادت کی روح کو ختم کر دیتا ہے۔
تراویح قرآن کے پڑھنے سننے کا مہینہ ہے۔ لیکن اگر یہ سننا سنانا ایک فیشن، دوڑ اور ٹرینڈ بن جائے تو وبال بھی بن سکتا ہے۔ نبی صلى اللہ عليہ وسلم نے قربِ قیامت واقع ہونے والے امور کا ذکر کیا تو فرمایا : ”ونشوا يتخذون القرآن مزامير، يقدمون الرجل ليس بأفقههم ولا أعلمهم، ما يقدمونه إلا ليغنيهم.“ ([12]) ۔ "قرآن کریم کو محض کیف و سرور کی خاطر پڑھا اور سنا جائے گا اور کسی کو امام بناتے وقت علم اور فقاہت کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ اُسے امام بنایا جائے گا جو گا گا کر قرآن سنائے!”
اس میں سننے اور سنانے والے دونوں کیلیے انتباہ ہے۔ کوئی شک نہیں کہ قرآن کو خوبصورت لہجے میں پڑھنا مطلوب ہے۔ امام بھی خوبصورت آواز والا ہونا چاہیے۔ لیکن محض اسی بنیاد پر مقابلے کی فضا اور قراء کے مابین ریٹنگ وغیرہ کے سلسلے غلط ہیں۔ امام آجری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”ينبغي لمن رَزَقَه اللهُ حُسْنَ الصَّوتِ بالقرآنِ ان يَقرأْ للهِ لا للمخلوقين!“۔ ([13]) ۔ "جسے اللہ نے خوبصورت آواز سے نوازا ہے، اسے چاہیے کہ مخلوق کی بجائے اللہ کیلیے پڑھے۔”
اور جب قرآن اللہ کیلیے پڑھا جاتا ہے تو اس کی تاثیر ہی الگ ہوتی ہے۔ ورنہ کئی لوگ سارا رمضان قیام کرتے ہیں، روتے بھی ہیں۔ اہتمام سے قاری صاحب کو بتاتے بھی ہیں کہ آج بہت مزہ آیا۔ مگر حقیقت میں قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا۔ شب و روز پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ نہ تو سنانے والا اللہ کیلیے سناتا ہے، اور نہ ہی سننے والے کی نیت محض لطافتِ سمع کے کچھ اور ہوتی ہے!!
8) قنوت اور دعاؤں میں مشروع آداب سے تجاوز کرنا غلط ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”إنه سيكون في هذه الأمة قوم يعتدون في الطهور والدعاء“۔ ([14]) "میری امت میں کچھ لوگ آئیں گے جو طہارت اور دعا میں (مشروع حد سے) تجاوز کرنے لگیں گے۔”
دعا میں تجاوز کی بہت سی صورتیں ہیں جیسے حرام امور کے متعلق دعائیں، اللہ تعالی پر قسمیں اور وعدے ڈال کر دعائیں جیسے وہ ہمارا پابند ہو، یا دعا میں بال کی کھال اتارنا جیسے یا اللہ مجھے جنت میں دائیں طرف سفید رنگ کا محل دے جس کی فلاں فلاں خصوصیت ہو، یا ردیف اور قافیے ملا کر خود ساختہ لمبی لمبی دعائیں، یا دعاؤں میں خشوع و تضرع کی بجائے طرب و سماع کا پہلو۔ پھر زیادہ تر یہ کام ائمہ مساجد قنوت کے دوران کرتے ہیں۔
شیخ ابنِ عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں : "دعائے قنوت کو خطبے اور وعظ کی شکل دے دینا کہ جنت، جہنم، قبر اور فراقِ احباب کے تذکرے کیے جائیں ؛ خلافِ سنت ہے۔ کیونکہ وعظ کیلیے الگ وقت ہے اور دعا کیلیے الگ ہے۔ امام کو تو یہ زیب نہیں دیتا کہ لمبی لمبی دعاؤں کے ذریعے مقتدیوں کو مشقت میں ڈالے، چہ جائیکہ وہ دعا کو خطبے اور وعظ کی طرز پر پڑھ کر مقتدیوں کی مشقت میں کہیں اضافہ کرے!” ([15])
سو اس امر پر بھی متنبہ رہیں کہ اللہ سے مانگنا ہے تو دل کھول کر مانگنا ہے مگر ضروری آداب کے ساتھ، عاجزی اور تضرع کے ساتھ، دلجمعی کے ساتھ؛ تاکہ دعا بارگاہِ الہی میں پیش ہو اور راستے سے نہ پلٹ آئے۔
9) شبِ قدر میں فکروں اور دعاؤں کا محور دنیا نہیں آخرت ہونی چاہیے۔
شب قدر افضل ترین رات ہے۔ اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”من قام ليلة القدر إيمانًا واحتسابًا، غُفِر له ما تقدَّم من ذنبه.“۔ ([16]) "جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ لیلۃ القدر کا قیام کیا اس کے سابقہ گناہ معاف کر دییے جاتے ہیں۔”
اس حوالے سے ایک بہت خوبصورت اور لطیف تنبیہ میری نظر سے گزری ہے، جو پیش خدمت کیے دیتا ہوں۔ شیخ ابن بادیس الجزائری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "لیلۃ القدر میں دنیا کی بجائے آخرت طلب کرنی چاہیے۔ بیشتر لوگوں کی تمنا ہوتی ہے کہ کاش ہم لیلۃ القدر پا لیں تو اللہ سے خوب دنیا طلب کریں۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ اس برے خیال پر اللہ سے توبہ کریں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے : (مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبِِ) ۔ ([17]) جو شخص آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہو ہم اس کے لیے اس کھیتی میں برکت دیں گے، اور جو کوئی دنیا کی کھیتی چاہتا ہو تو ہم اسے وہ بھی دے دیں گے اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا!
ہم دنیا کو مشروع ذرائع سے طلب کرنے کے منکر نہیں ہیں۔ ہم اس بات کے منکر ہیں کہ دنیا اس قدر آدمی کی فکروں کا محور ہو کہ وہ لیلۃ القدر کی تمنا بھی اس لیے کرے کہ میں اپنی دنیا سنوار لوں اور آخرت سے یکسر غافل رہے!!” ۔ ([18])
درحقیقت یہ بہت ہی پتے کی بات ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سیدہ عائشہ کو جو دعا دکھلائی اس میں اللہ سے عفو و درگزر کا سوال کیا گیا ہے۔ کہ اے اللہ گناہوں سے، خطاؤں سے معافی دے۔ جب اللہ معاف کر کے راضی ہو گا تو یقینا معاش و سماج کے مسائل بھی حل کر دے گا۔
10) گناہوں سے توبہ محض رمضان کیلیے نہ ہو، بلکہ مستقل بنیادوں پر ہو۔
یہ آخری اور سب سے اہم تنبیہ ہے۔ دیکھیے رمضان ماہ غفران ہے۔ بہت سے لوگ اس میں برائیوں سے توبہ تائب ہوتے ہیں۔ لیکن ان کے لاشعور میں ایک بات ہوتی ہے کہ رمضان گزر جائے تو سابقہ حالت پر لوٹ جائیں گے۔ یعنی وہ توبہ کے وقت (غیر ارادی) نیت ہی ایک ماہ کی کرتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک مسئلہ اور توفیق الہی سے محرومی والی بات ہے۔ اس لاشعوری کیفیت کو بھگائیں اور پورے خلوص دل سے نیت کریں کہ اے اللہ میں زندگی بھر کیلیے فلاں فلاں گناہ سے توبہ کرتا ہوں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : "جو شخص گناہوں کو صرف ماہِ رمضان میں چھوڑنے کا ارادہ رکھتا ہو تو ایسا شخص مطلق توبہ کرنے والوں میں شمار نہیں ہو گا۔ لیکن اگر وہ یہ (رمضان میں گناہوں کو چھوڑنا) اللہ کی رضا کیلیے، اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتے ہوئے اور اللہ کی محرمات سے بچنے کی خاطر کرے تو ثواب کا مستحق ضرور ہے، مگر اس کا شمار ان توبہ کرنے والوں میں نہیں جن کی مطلق بخشش کر دی جاتی ہے!” ([19])
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ اس ماہ مبارک کو فی الواقع ہمارے لیے مبارک بنا دے۔ ہم عبادات میں لطف لینا سیکھ لیں۔ ہم اپنے نظریات اور اعمال میں قرون اولی کے پاکباز نفوس کی مانند ہو جائیں۔ میڈیا اور اس کے فتنوں کے دور میں کتاب و سنت کو تھامنے والے بن جائیں۔ اللہ ہماری تمام عبادات قبول فرمائے۔ آمین۔
[1] (التبصرة : ٨٥/٢)۔
[2] (مجموع فتاوی ومقالات : ٤٤٦/١٥) ۔
[3] (مصنف ابن أبي شیبہ : ٢٨٦٢٤) ۔
[4] (صحيح البخاري : ١٨٩٤)۔
[5] (الضياء اللامع : ١٠٧) ۔
[6] (لطائف المعارف : ٣١٥)۔
[7] (صحيح البخاري : ٥٩،٦٠ ، صحيح مسلم : ٧٥٩،٧٦٠)۔
[8] (جامع المسائل : ١٦١/١)۔
[9] صحیح البخاری: 1923۔
[10] (الملخص الفقہی : ٣٧٩/١)۔
[11] (خطباتِ رحمانی : ٣۹۰) ۔
[12] (سلسة الأحاديث الصحيحة : ٩٧٩) ۔
[13] (أخلاق أهل القرآن :١٦١)۔
[14] (سنن أبي داود : ٩٦ ،صححه الألباني) ۔
[15] (اللقاءات الرمضانية : ٣٧٠) ۔
[16] (صحيح البخاري : ٢٥٥/٤ ، صحيح مسلم : ٧٥٩)۔
[17] – سورۃ الشورى : ٢٠ –
[18] (آثار ابن باديس : ٣٢٩/٢)۔
[19] (مجموع الفتاوى : ٧٤٤/١٠)۔


