بعض احباب نے رؤیتِ وحدت کے سلسلے میں شیخ البانی رحمہ اللہ کے قول کا سہارا لے کر اختلاف مطلع کے قول کو شاذ قرار دیا ہے، ہم یہاں پر شیخ البانی رحمہ اللہ کے شاذ کہنے پر گفتگو نہیں کریں گے کیوں کہ فقہاء کی اصطلاح میں شاذ کئی معنوں میں مستعمل ہوتا ہے، ان میں سے کسی ایک پر شیخ رحمہ اللہ کا قول محمول کیا جا سکتا ہے، لیکن جو لوگ تحقیق و اجتہاد کا نقاب چہرے پر سجائے گھومتے ہیں ان کے دعوے کی قلعی کھل جاتی ہے، اور وہ اپنے ادعاء میں کھوکھلے نظر آتے ہیں، کوئی دعوی کرتا ہے کہ وہ وحدتِ رؤیت کیلئے دس سال سے مسلسل جد وجہد میں لگا ہے، اور اپنے دعوی پر شیخ البانی اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہما اللہ کا کلام بطور دلیل پیش کرتا ہے، لیکن تفتیش کے بعد پتہ چلتا ہے کہ وہ نہ شیخ البانی کے قول پر عمل کر رہا تھا اور نہ ہی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے قول پر، بلکہ ان دونوں بزرگان دین کے قول کا جتنا حصہ ان کے دعوی کی تائید میں تھا اسے انہوں نے لے لیا اور باقی کو پسِ پشت ڈال دیا، جس کی وضاحت میں نے دو الگ الگ پوسٹ میں کردی ہے جسے میرے وال پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
ان کا طریقہ استدلال اس بات کا غماز ہے کے یہ تقلید جمود اور خواہشات نفسانی کی پیروی کے مرض میں مبتلا ہیں۔
تقلید جمود بایں معنی کہ انہوں نے اگر اختلاف مطالع کے قائلین کے اقوال کا جائزہ لیا ہوتا تو اس نتیجہ پر پہونچتے کہ اختلاف مطلع کا قول شاذ نہیں بلکہ مشہور ہے، بلکہ بیشتر علماء اسی کے قائل ہیں ( ان شاء اللہ اس کا تفصیلی بیان ذیل میں آئے گا)۔
اور خواہشات نفسانی کی پروی ااس طور پر کہ شیخ البانی رحمہ اللہ کے قول سے شرحِ صدر ہونے کا دعوی ہے لیکن ان کے قول پر سرے سے عمل ہی نہیں، تو اسے ہوائے نفس سے تعبیر نہ کیا جائے تو اور کیا کہا جائے، اگر حقیقی طور پر شیخ البانی رحمہ اللہ کی رائے سے انہیں شرحِ صدر ہوا ہوتا تو وہ وحدتِ رؤیت کے قائل ہونے کے باوجود اختلاف مطالع کے قائلین کے ساتھ روزہ اور عید مناتے، جیسا کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے وضاحت کی ہے۔
محترم قارئین! ایک ہوتی ہے تحقیق اور ایک ہوتی ہے تحکیک، اول الذکر پر عمل کرنے والے جوہر بکھیرتے ہیں، جب کہ آخر الذکر جن کے مقدر میں ہوتی ہے وہ اپنا خون نکالتے ہیں، ویسے ہی ایک چیز ہوتی ہے "جہد”، اور ایک ہوتی ہے”جحد”، جہد کی راہ کو اپنا نے والے تقلید مذموم سے بچتے ہیں جبکہ جحد کا راستہ اختیار کرنے والے تقلید جمود کے عمیق غار میں اندھیروں کا سفر کرتے ہیں۔
اور ان کے تعامل سے ایسا لگتا ہے کہ ان کے نصیبے میں دونو آخر الذکر شی ہے۔
بہرحال ہم آج اختلاف مطلع کے قول کے شاذ ہونے کی حقیقت سے پردہ اٹھانے کی کوشش کریں گے ان شاء اللہ، جس سے یہ عیاں ہو جائے گا کہ بعض لوگوں نے دس سال صرف تقلید وتحکیک اور جحود کیلئے ہی محنت صرف کی ہے۔
اختلاف مطلع کے قائلین۔
عبد اللہ بن عباس رضی عنہما، سالم بن عبد اللہ بن عمر، قاسم بن محمد، عکرمہ،
عبد اللہ بن مبارک، امام مالک، المغیرۃ،
ابن دینار، ابن الماجشون، اسحاق بن راہویہ (الاستذکار لابن عبد البر 10/29، بدایۃ المجتہد لابن رشد 1/287، المجموع للنووی 6/273).
امام شافعی، امام احمد (فتح الباری لابن حجر 4/123، الفتاوی الکبری لابن تیمیہ 5/375)، والإختيارات الفقهية لشيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله 1/458).
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: اہل علم کے نزدیک اختلافِ مطلع پر ہی عمل ہے(جامع ترمذی 3/67)۔
امام ابو داؤد کے طریقہ کار سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی اس کے قائل ہیں چناں چہ اپنی کتاب سنن میں ایک باب باندھتے ہیں "باب اذا رأي الهلال في بلد قبل الآخرين بليلة”، باب اس بات کے بیان میں کہ جب ایک ملک میں دوسرے ملک سے ایک دن قبل چاند نظر آجائے، اور اس باب کے تحت انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما والی حدیث ذکر کی ہے(2/299)۔
امام نسائی اپنی کتاب سنن میں باب باندھتے ہیں ” اختلاف اہل الآفاق فی الرؤیہ”، مسلمانان عالم کی رؤیت میں اختلاف، اور اس باب کے تحت ابن عباس رضی اللہ عنہما والی حدیث کو ذکر کیا ہے(4/131)۔
امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں باب باندھا ہے "باب الدلیل علی ان الواجب علی اھل کل بلدۃ صیام رمضان لرؤیتہم لا رؤیۃ غیرھم”، باب اس بات کے بیان میں کہ ہر ملک کیلئے اپنی رؤیت کے حساب سے روزہ رکھنا واجب نہ کہ دوسرے کی رؤیت کے مطابق (3/205)۔
اما الحرمین جوینی، امام بغوی،امام غزالی، امام رافعی (المجموع للنووي 6/273).
ابن تيميه(الفتاوى الكبرى 5/375).
ابن عبد البر نے اختلاف مطلع پر اجماع نقل کیا ہے(الاستذكار 3/383).
اسی طرح ابن رشد نے بھی اجماع نقل کیا ہے(بداية المجتهد ونهاية المقتصد 2/50).
امام نووی صحیح مسلم میں باب باندھتے ہیں کہ "باب بيان أن لكل بلد رؤ يتهم وأنهم إذا رأوا الهلال ببلد لا يثبت حكمه لما بعد عنهم”،باب اس بات کے بیان میں کہ ہر ملک والے اپنی اپنی رؤیت کے حساب سے روزہ رکھیں گے، چناں چہ جب ایک ملک میں چاند نظر آئے تو اس کا حکم اس سے دور والے ملک کیلئے ثابت نہیں ہوگا(7/197)۔
مذکورہ بالا محدثین اور فقہاء کرام رحمہم اللہ اجمعین کے علاوہ بھی بہت سارے لوگ اختلاف مطلع کے قائل ہیں جن کا ذکر بخوفِ طوالت ترک کیا جاتا ہے۔
کیا اتنے ائمہ کرام کے اختلاف مطلع کے قائل ہونے کے باوجود بھی یہ قول شاذ ہوگا۔
الحمد للہ میری مذکورہ تحریر سے دو بات ثابت ہوتی ہے۔
پہلی یہ کہ اللہ شکر سے میں جاہل نہیں، بلکہ اللہ نے اپنے دین کا ایک ادنی سا طالب علم بنایا ہے۔
دوسری بات یہ کہ میرے اوپر الزام لگانے والے مقلد ہیں، کیوں کہ اگر وہ محقق ہوتے تو دس سال کی تحقیق میں ان پر کم ازکم جتنے اقوال میں نے ذکر کئے ہیں ان میں سے آدھے پر تو ضرور مطلع ہوتے ۔


