اسلام نے اپنے ماننے والوں کیلئے ہر باب میں آسان اور سہل عمل کو پسند کیا ہے، تاکہ امت مشقت میں نہ پڑے، رؤیت ہلال کا مسئلہ بھی نہایت آسان بنایا ہے، چنانچہ ماہ رمضان کے روزے کی ابتدا اور اس مہینہ کی الوداع کو چاند دیکھنے سے جوڑا، تاکہ اس میں ہر فرد بلا کسی تفریق کے شامل ہو سکے، مزید آسانی کی راہ پیدا کرتے ہوئے کسی ایک عادل مسلمان کے چاند دیکھنے کی گواہی کو روزہ کی ابتداء کیلئے معتبر قرار دیا، اور دو عادل مسلمان کی گواہی پر عید منانے کو مشروع کیا۔
"صوموا لرؤيته”(1) چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اس حکم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی شروعات کو رؤیت ہلال پر معلق کیا ہے، چنانچہ اس کا مفہوم مخالف یہ ہوگا کہ چاندنظر نہ آئے توروزہ نہ رکھو، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ: "لا تصوموا حتی ترووا الهلال”(2)، جب تک چاند نہ دیکھو روزے کی شروعات نہ کرو۔
اگر آسمان ابر آلود ہو اور بادل کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو تیس دن کی گنتی مکمل کی جائے گی، جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "فان غم علیکم فکملوا العدۃ ثلاثین”(3)۔
محترم قارئین ذرا غور وفکر سے کام لیں کہ اگر ہم رویت وحدت کے قائلین کے مطابق چلیں گے تو آسمان پر بادل چھانے کے سبب چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن مکمل کرنے والی حدیث بے معنی اور بے فائدہ ہو کر رہ جائے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ وحدت رؤیت کے قائلین کے مطابق چاند دنیا کے جس کونے میں طلوع ہوگا اس کا اعتبار ہر اس جگہ پر ہوگا جہاں بادل ہے چاہے وہ جگہ اس سے لاکھوں کیلو میٹر دور ہی کیوں نہ ہو، اور پوری دنیا میں ایک ہی دن بادل آجائے اور ابر کی وجہ کر کہیں بھی چاند نظر نہ آئے یہ تو نا ممکن امر ہے، اور ہر سال اسی طریقے سے رویت ہلال پر عمل کیا جاتا رہے تو ایسی صورت میں یقیناً ابر والی حدیث بے فائدہ اور بے معنی ہو کر رہ جائے گی، بلکہ اس کا اہمال لازم آئے گا، اور یہ بات بعید از عقل و شرع ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی کوئی ایک بھی صحیح حدیث لا یعنی اور بے فائدہ ہو، کیوں کہ یہ بات وحیِ الہی کے مزاج کے خلاف ہے۔
[پہلی قسط یہاں سے پڑھیں: روزہ اور عید سب کے ساتھ یا پھر اپنے اپنے مطلع کے ساتھ؟ (پہلی قسط) – سلفی منہج (salafimanhaj.info)]
پتا یہ چلا کہ نبی صلی اللہ علیہ نے وحدت رؤیت کا نہیں بلکہ اختلاف مطلع کا اعتبار کیا ہے، کیوں کہ اگر وحدتِ رؤیت مقصود ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں کو دور دراز علاقے میں جاکر چاند کی خبر حاصل کرنے کی تلقین کرتے نہ کہ اپنے شہر میں بیٹھ کر بادل کے چھنٹنے کا اور طلوع ہلال کے انتظار کا حکم دیتے۔
"فان غم علیکم..” والی حدیث اپنے اپنے مطلع کے حساب سے روزہ رکھنے پر دلالت کرتی ہے وہ اس طرح کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کیلئے رؤیتِ وحدت چاہتے تو یہاں اس بات کی تلقین ضرور کرتے کہ ابر کی وجہ کر اگر چاند نظر نہ آئے اور تمہیں بعد میں خبر ملے کہ کسی دور دراز علاقے میں اس دن چاند نظر آیا تھا جس دن تمھارے یہاں بدلی تھی تو تم پہلے روزے کی قضا کرلینا کیوں کہ ایک جگہ کا چاند پوری دنیا کیلئے کافی ہوتا ہے، اور وہاں کے چاند کے حساب سے تمہارا پہلا روزہ چھوٹ گیا اس لئے اس کی قضا ضروری ہے، اور قاعدہ شرعیہ ہے"لا یجوز تاخیر البیان عن وقت الحاجة”، کہ جس وقت امت کو کسی مسئلے میں وضاحت کی ضرورت ہو اس وضاحت کو مؤخر نہیں کیا جا سکتا، چناں چہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس مسئلہ کو بر وقت بیان نہ کرنا، اور صحابہ کو بادل کی وجہ کر دوسرے مقامات سے چاند کی خبر معلوم کرنے کے بجائے تیس دن کی گنتی مکمل کرنے کا حکم دینا اس بات کی قوی دلیل ہے کی ہر آدمی اپنے مطلع کے اعتبار سے روزہ کی شروعات کرےگا نہ کہ وحدتِ رؤیت کا اعتبار کرےگا۔
بعض احباب نے اختلاف مطلع کے قول کو شاذ قرار دیا ہے، حالانکہ جس قول کو وہ شاذ کہہ رہے ہیں در اصل وہی مشہور ومعروف قول ہے، ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:
اختلاف مطلع کے قائلین۔
عبد اللہ بن عباس رضی عنہما، سالم بن عبد اللہ بن عمر، قاسم بن محمد، عکرمہ، عبد اللہ بن مبارک، امام مالک، المغیرۃ، ابن دینار، ابن الماجشون، اسحاق بن راہویہ (4)، امام شافعی، امام احمد(5)، امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: اہل علم کے نزدیک اختلافِ مطلع پر ہی عمل ہے(6)، امام ابو داؤد کے طریقہ کار سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی اس کے قائل ہیں چناں چہ اپنی کتاب سنن میں ایک باب باندھتے ہیں "باب اذا رأي الهلال في بلد قبل الآخرين بليلة”، باب اس بات کے بیان میں کہ جب ایک ملک میں دوسرے ملک سے ایک دن قبل چاند نظر آجائے، اور اس باب کے تحت انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما والی حدیث ذکر کی ہے(7)، امام نسائی اپنی کتاب سنن میں باب باندھتے ہیں ” اختلاف أهل الآفاق فی الرؤية”، مسلمانان عالم کی رؤیت میں اختلاف، اور اس باب کے تحت ابن عباس رضی اللہ عنہما والی حدیث کو ذکر کیا ہے(8)، امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں باب باندھا ہے "باب الدلیل علی ان الواجب علی اھل کل بلدۃ صیام رمضان لرؤيتهم لا رؤية غيرهم”، باب اس بات کے بیان میں کہ ہر ملک کیلئے اپنی رؤیت کے حساب سے روزہ رکھنا واجب نہ کہ دوسرے کی رؤیت کے مطابق(9)، اما الحرمین جوینی، امام بغوی،امام غزالی، امام رافعی (10)، ابن تيميه(11)، ابن عبد البر نے اختلاف مطلع پر اجماع نقل کیا ہے(12)، اسی طرح ابن رشد نے بھی اجماع نقل کیا ہے(13)، امام نووی صحیح مسلم میں باب باندھتے ہیں کہ "باب بيان أن لكل بلد رؤ يتهم وأنهم إذا رأوا الهلال ببلد لا يثبت حكمه لما بعد عنهم”،باب اس بات کے بیان میں کہ ہر ملک والے اپنی اپنی رؤیت کے حساب سے روزہ رکھیں گے، چناں چہ جب ایک ملک میں چاند نظر آئے تو اس کا حکم اس سے دور والے ملک کیلئے ثابت نہیں ہوگا(14)۔
مذکورہ بالا محدثین اور فقہاء کرام رحمہم اللہ اجمعین کے علاوہ بھی بہت سارے لوگ اختلاف مطلع کے قائل ہیں جن کا ذکر بخوفِ طوالت ترک کیا جاتا ہے۔ کیا اتنے ائمہ کرام کے اختلاف مطلع کے قائل ہونے کے باوجود بھی اس قول کو شاذ کہنا شرعا درست ہے؟ یا اسے حقیقت سے اعراض کہیں گے؟
کچھ احباب شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور شیخ البانی رحمہما اللہ کے اقوال سے استدلال کرتے ہوئے وحدتِ رؤیت کا نعرہ لگاتے ہیں در اصل وہ ان کے آدھے قول سے استدلال کیا کرتے ہیں جو ان کے موقف کی تائید کرتا ہے، اور جو ان کے منشا اور رائے کے خلاف ہے وہ اس سے بالکل ہی دامن بچا کر نکل جاتے ہیں۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا دو قول ہے ایک وحدت رویت کی موافقت میں اور دوسرا قول اختلاف مطلع کے قائلین کی تائید کرتا ہے، اور بعض محققین نے اسی دوسرے قول کو راجح قرار دیا ہے اور ان کے فقہی اختیارات میں شامل کیا ہے، ذیل میں الفتاوی الکبری سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی عبارت ملاحظہ ہو: ” تختلف المطالع باتفاق أهل المعرفة بهذا، فإن اتفقت لزمه الصوم وإلا فلا، وهو الأصح للشافعية وقول في مذهب أحمد”(15).
ترجمہ: ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جنہیں اختلافِ مطالع کی گہری معرفت اور اس کا علم ہے ان کا اختلاف مطلع پر اتفاق ہے، پس اگر مطلع ایک ہے تو اسی کے حساب سے روزہ رکھنا لازم ہوگا، بصورتِ دیگر اپنے اپنے مطلع کا اعتبار کرتے ہوئے روزہ رکھیں، شوافع کے یہاں یہی صحیح قول ہے، نیز حنابلہ کے یہاں بھی یہ قول موجود ہے.
شیخ البانی رحمہ اللہ کا پورا موقف ذیل میں ملاحظہ کیجئے:
شیخ البانی رحمہ اللہ تمام المنہ فی التعلیق علی فقہ السنہ میں رقم طراز ہیں: مجھے پتہ نہیں کہ (سید سابق اختلاف مطلع) کی شاذ رائے اختیار کرنے پر مجبور کیوں ہو گئے، جبکہ حدیث کا عموم رؤیت وحدت پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور ائمہ کا مذہب ہے، جیسے ابن تیمیہ، شوکانی، اور صدیق حسن خان وغیرہم رحمہم الله، اور یہی مسلک حق ہے، نیز ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث اس سے متعارض بھی نہیں ہوتی، اور عدم تعارض کے اسباب امام شوکانی نے ذکر کیا ہے، دونو حدیث میں تطبیق اس طور پر دی جا سکتی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کو اس شخص پر محمول کیا جائے جس نے اپنے ملک کی رؤیت کے اعتبار سے روزہ کی شروعات کی ہو، لیکن دورانِ رمضان اسے خبر ملی ہو کہ دوسرے ممالک کے لوگوں نے اس سے ایک دن قبل چاند دیکھا ہے تو اس حالت میں وہ ماہ رمضان کا روزہ اپنے ملک والے کے ساتھ مکمل کرے گا، اس توجیہ سے اشکال دور ہوجاتا ہے اور حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے عموم پر باقی رہ جاتی ہے، چنانچہ دنیا کے کسی بھی کونے سے چاند کی خبر آتی ہو تو پوری امت مسلمہ کیلئے قابل عمل ہوگا، آج کے زمانہ میں وحدتِ رؤیت پر عمل بہت آسان ہے، بس اسلامی ممالک کے حکام اگر اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیں تو تو معاملہ سہل ہو جائے گا، لیکن یاد رہے کہ عالمی اتحادِ رؤیت پر عمل اسی وقت کیا جائےگا جب تمام اسلامی ممالک کے حکمراں وحدتِ رؤیت پر متفق ہوں بصورتِ دیگر میری یہی رائے ہے کہ ہر ملک والے اپنے ملک کے حساب سے روزہ رکھیں، ایسا نہ ہو کہ بعض لوگ اپنے ملک کے حساب سے روزہ رکھیں اور بعض دوسرے ملک کے حساب سے تو یہ صحیح نہیں کیوں اس سے دائرہ اختلاف وسیع ہوتا ہے”(16)۔
آپ شیخ البانی رحمہ اللہ کا تورع اور احتیاط ملاحظہ کیجئے کہ اپنا موقف ذکر کرنے کے باوجود بھی مخالفین کی رائے پر عمل کرنے کی تلقین کر رہے ہیں، اسی کو فقہ فی الدین ، اور دور اندیشی کہتے ہیں، انہوں نے اپنے علم کے ذریعہ سے امت کو تقسیم نہیں کیا بلکہ امت کے اتحاد واتفاق کو اجتہادی مسئلہ پر فوقیت دی، اگر ہند وپاک میں وحدت رویت کے قائلین شیخ البانی رحمہ اللہ کے ہی منہج کو اپنا لیں تو اختلاف پیدا ہی نہیں ہوگا، اور نہ ایک دن پہلے روزہ رکھنے کی نوبت آئے گی اور نا ہی ایک دن پہلے عید منانے کی.
(1) صحیح بخاری (1909/27/3).
(2) صحيح بخاری (1906/27/3).
(3) صحیح بخاری (1907/27/3).
(4) (الاستذکار لابن عبد البر 10/29، بدایۃ المجتہد لابن رشد 1/287، المجموع للنووی 6/273).
(5) (فتح الباری لابن حجر 4/123، الفتاوی الکبری لابن تیمیہ 5/375)، والإختيارات الفقهية لشيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله 1/458).
(6) جامع ترمذی 3/67.
(7) (2/299)۔
(8) (4/131)۔
(9) (3/205)۔
(10) (المجموع للنووي 6/273).
(11) (الفتاوى الكبرى 5/375).
(12) (الاستذكار 3/383).
(13) (بداية المجتهد ونهاية المقتصد 2/50).
(14) (7/197)۔
(15) (الفتاوى الكبرى 5/375)، (والإختيارات الفقهية لشيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله 1/458).
(16) تمام المنہ فی التعلیق علی فقہ السنہ(صفحہ 398).


