منکرین سنت کا ظہور نشان نبوت کا حصہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے متعلق پہلے پیشن گوئی کی تھی اور ان کی بعض صفات کا ذکر بھی کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ((ألا إني أوتيت الكتاب ومثله معه ألا يوشك رجل شبعان على أريكته يقول عليكم بهذا القرآن فما وجدتم فيه من حلال فأحلوه وما وجدتم فيه من حرام فحرموه ألا لا يحل لكم لحم الحمار الأهلي ولا كل ذي ناب من السبع ولا لقطة معاهد إلا أن يستغني عنها صاحبها ومن نزل بقوم فعليهم أن يقروه فإن لم يقروه فله أن يعقبهم بمثل قراه)).([1])
ترجمہ: سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "خبردار! مجھے قرآن کے ساتھ اس جیسی ایک اور چیز بھی دی گئی ہے۔ عنقریب ایسے ہو گا کہ ایک پیٹ بھرا (آسودہ حال) آدمی اپنے تخت یا دیوان پر بیٹھا کہے گا کہ اسی قرآن کو اختیار کر لو، جو اس میں حلال ہے اسے حلال جانو اور جو اس میں حرام ہے اسے حرام سمجھو۔ خبردار! تمہارے لیے پالتو گدھے، نیش دار درندے اور کسی ذمی (کافر) کا گرا پڑا مال اٹھا لینا حلال نہیں، الا یہ کہ اس کا مالک اس سے بے پروا ہو۔ اور جو کوئی کسی قوم کے پاس جائے تو ان پر واجب ہے کہ اس کی مہمانی کریں، اگر وہ اس کی مہمانی نہ کریں تو اسے حق حاصل ہے کہ اپنی مہمانی کے مثل ان سے بذریعہ طاقت حاصل کر لے۔”
ایک دوسری روایت میں آپ ﷺ نے کچھ یوں فرمایا: ((لا ألفين أحدكم متكئا على أريكته يأتيه الأمر من أمري مما أمرت به ونهيت عنه، يقول: لا أدري، ما وجدنا في كتاب الله اتبعناه)).([2])
ترجمہ: سیدنا ابورافع t سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہرگز ایسا نہ ہو کہ میں تم میں سے کسی کو اس حال میں پاؤں کہ وہ اپنے تخت یا دیوان پر بیٹھا ہو اور اس کے پاس میرے احکام میں سے کوئی حکم پہنچے، جس کا میں نے حکم دیا ہو یا اس سے منع کیا ہو تو وہ کہنے لگے کہ ہم نہیں جانتے، ہم تو کتاب اللہ میں جو پائیں گے، اسی پر عمل کریں گے۔“
أعداء اسلام شروع سے اس فراق میں تھے کہ کب موقع ملے اور فتنے کا آغاز کیا جائے، ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کے دور میں ان کے عزم وحزم کی وجہ سے ممکن نہیں ہو سکا، اسی طرح عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی ان کی حکیمانہ سیاست کی وجہ یہ لوگ اپنے افکار باطلہ کی ترویج میں ناکام رہے، لیکن عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد گویا کہ فتنے کے دروازے کے دونوں پٹ کھل گئے ہوں، نت نئے خطرناک قسم کے فتنے جنم لینے لگے، فتنوں کی اس سوداگری کے پیچھے یہود وفلاسفہ کا ہاتھ تھا، جن لوگوں نے اس دور میں ظاہراً اسلام کا لبادہ اوڑھ کر سنت مطہرہ کے خلاف شکوک وشبہات پھیلانے شروع کئے ان میں:
عبد اللہ بن سبا (یہودی)، سوسن نصرانی جس سے معبد الجہنی نے تقدیر کے انکار کی بدعت سیکھی، ابراہیم النظام المعتزلی، بشر المریسی اور جہم بن صفوان وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
یہ اور ان کے پیرو کاروں نے سنت کے خلاف ایک محاذ قائم کیا اور سنت کے انکار کے کئی طریقے ایجاد کئے، جن میں سے:
۱- عقل کو بنیاد بنا کر سنت کا انکار کرنا۔
۲- حدیث کے راویوں میں بلا وجہ عیوب نکالنا اور جھوٹی تہمت لگانا۔
۳- جھوٹی احادیث اپنی طرف سے بنا لینا تاکہ ائمہ حدیث کے اوپر الزام لگایا جا سکے۔
خوارج اور روافض نے احادیث کو رد کرنے میں پہل کی، خوارج نے ان تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی مرویات کو ماننے سے انکار کردیا جنہوں نے جنگ صفین میں ثالثی سے رضامندی ظاہر کی۔
اور رافضیوں نے چند ایک صحابہ کو چھوڑ کر تمام صحابہ کرام کی احادیث کو ماننے سے انکار کردیا، کیوں کہ ان کے نزدیک علی رضی اللہ عنہ خلافت کے زیادہ حقدار تھے لیکن نعوذ باللہ ابوبکر صدیق، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین نے ان کے حق کو غصب کرلیا اور ان پر زیادتی کی۔
پھر دوسری صدی ہجری میں یونانی اور فارسی کتابوں کے عربی ترجمہ نے فساد برپا کردیا، یہ کتابیں منطق و فلسفہ سے بھری ہوئی تھیں، اسی منطق وفلسفہ کے سہارے بعض بد دین احادیث کو نشانے بنانے لگے، اور اس کی حجیت کو مشکوک کرنے سعی میں مصروف ہو گئے، جیسے نظام معتزلی، ابو الہذیل العلاف اور محمد بن جہم البرمکی وغیرہ، یہ سنت میں تشکیک پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ساتھ دین کا اور اسلامی شعائر کا مذاق بھی اڑاتے تھے۔
سنت کا مطلق انکار کرنے والے کا وجود ہر زمانے میں رہا ہے، البتہ فرقے کی شکل میں ان کا وجود انیسویں اور بیسویں صدی میں آیا، بر صغیر میں عبد اللہ چکڑالوی، احمد الدین امرتسری اور غلام احمد پرویز نے اس فکر پروان چڑھایا، چنانچہ عبد اللہ چکڑالوی نے لاہور ایک فرقے کی بنیاد "فرقہ اہل القرآن” کے نام سے رکھی، ہند وستان میں احمد الدین امرتسری نے فرقہ "امت مسلم” کی بنیاد رکھی، اور غلام احمد پرویز نے "طلوع اسلام” کی بنیاد ڈالی اور اس کے ماننے والے پرویزی کہلائے۔
مصر میں محمد عبدہ، توفیق صدقی، ابو ریہ وغیرہ نے سنت سے بیزاری کا بالکل یہ اعلان کیا، اور قرآن اکیلا ہی کافی ہے کا نعرہ لگایا۔
شبہات پر رد کرنے کے بعض اصول و ضوابط:
شبہ کسے کہتے ہیں: دو متشابہ چیزوں کے مابین فرق نہ کرپانے کو شبہ کہتے ہیں، یعنی باطل پر حق کا رنگ چڑھا کر ایسا پیش کیا جائے کہ وہ بظاہر حق لگے، لیکن جب اسے کی جانچ پڑتال کی جائے تب جا کر اس کی حقیقت سے پردہ اٹھے۔
شبہ کے ازالہ کی اہمیت: شبہات کا ازالہ کرنا اصول دین کا حصہ ہے، کیونکہ اللہ رب العالمين نے مشرکین پر رد کرتے ہوئے ان کے شبہات کی تار پود بکھیر کر رکھ دی ہے، اللہ رب العالمین نے فرمایا: ﴿وَالَّذينَ يُحاجّونَ فِي اللَّهِ مِن بَعدِ مَا استُجيبَ لَهُ حُجَّتُهُم داحِضَةٌ عِندَ رَبِّهِم وَعَلَيهِم غَضَبٌ وَلَهُم عَذابٌ شَديدٌ﴾۔([3])
ترجمہ: اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی باتوں میں جھگڑا ڈالتے ہیں اس کے بعد کہ (مخلوق) انہیں مان چکی ان کی خواہ مخواہ کی حجت اللہ کے نزدیک باطل ہے اور ان پر غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے۔
اہل باطل اور بدعتیوں پر رد کرنا ایک قسم کا جہاد ہے، اللہ رب العالمین میں مکی دور میں کفار پر رد کرنے کو جہاد سے تعبیر کیا ہے، باری تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ﴿فَلا تُطِعِ الكافِرينَ وَجاهِدهُم بِهِ جِهادًا كَبيرًا﴾۔([4])
ترجمہ: پس آپ کافروں کا کہنا نہ مانیں اور قرآن کے ذریعے ان سے پوری طاقت سے بڑا جہاد کریں۔
اہل باطل کے شبہات پر رد کرنا اور حق بیان کرنا فرض کفایہ ہے، اور فرض کفایہ کا مطلب یہ ہے کہ: بعض لوگ اگر اس عمل کو انجام دیں تو سب کی جانب سے وہ ذمہ داری ادا ہوگی، لیکن اگر کسی نے اس عمل کو انجام نہیں دیا تو پھر سب کے سب گنہ گار ٹھہریں گے، مثال کے طور پر کسی مجلس بعض صحابی کہ شان میں گستاخی کی گئی اور سب لوگ خاموش رہے، مجلس ختم ہوگئی اور کسی ایک نے بھی اس صحابی کا دفاع نہیں کیا تو اس مجلس کے سب کے سب لوگ گنہ گار ٹھہریں گے، اور اگر اسی مجلس میں کسی ایک نے اس پر رد کر دیا اور اس صحابی کا دفاع کر دیا تو سب کے سب لوگ گناہ سے بچ جائیں گے۔
جن اسباب کی بنیاد پر شبہات وجود میں آتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:
۱- جہالت۔
۲- ہر چیز میں عقل کو داخل کرنا۔
۳- ہوائے نفس کی پیروی کرنا۔
یاد رہے کہ شبہ کی حیثیت بیماری کے جیسی ہے اس لئے جس طرح بیماری کو لوگوں کے مابین پھیلانا عقل ودانش کے خلاف ہے اسی طرح شبہ کو بھی عوام کے درمیان نشر کرنا عقل ودانش کے خلاف ہے۔
بعض سلف نے بدعت اور اہل بدعت کو اس شخص سے تشبیہ دی ہے جسے خارش کی بیماری ہوتی ہے، اور ہمہ دم یہ خطرہ منڈلاتا رہتا ہے کہ یہ جس کی صحبت اختیار کرے گا اسے یہ بیماری سرایت کر جائے گی، کیوں کہ شبہ دل کے امراض میں سے ایک مرض ہے، نیز شبہ بدعت کی طرف رہنمائی کرتا ہے، جبکہ بدعت کفر کی طرف، اس لئے بدعت اور اہل بدعت سے دوری بنائے رکھنا ضروری ہے، اور جو لوگ ان بدعات پر رد کرنے کی استطاعت رکھتے ہوں انہیں رد کرنا چاہیے۔
شبہات کی تردید سے قبل جن ضوابط کی آگہی ضروری ہے وہ درج ذیل ہیں:
پہلا ضابطہ: شبہات پر رد وہی کریں جن کے پاس کتاب و سنت، اقوال سلف صالحین کا گہرا علم، فہم و فراست اور ذہانت و فطانت ہو، ہر کوئی شبہات پر رد کرنے کی کوشش نہ کرے، کیونکہ اس سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا۔
دوسرا ضابطہ: جو شبہ لوگوں کے درمیان رواج پا چکا ہو، احقاق حق اور ابطال باطل کیلئےاس پر رد کرنا اور لوگوں کو اس سے دور رہنے کی تلقین کرنا ضروری ہے، تاہم جس شبہ کو لوگ جانتے ہی نہ ہوں، اس پر رد کرنا درست نہیں، گر چہ وہ کسی زمانے میں لوگوں کے درمیان رائج رہا ہو، اور علمائے کرام نے اس پر رد بھی کیا ہو، لیکن جب ہمارے زمانے اور معاشرے میں عوام اس شبہ کو نہیں جانتی تو اس کا ذکر کرنا اور پھر اس پر رد کرنا درست نہیں۔
تیسرا ضابطہ: بعض اہل علم کہتے ہیں کہ شبہات پر رد کرنے سے قبل "حق کی تاصیل” ضروری ہے، یعنی عوام الناس کو عقیدہ توحید سے روشناس کرایا جائے، اسلامی عقیدہ بیان کرکے ان کے اندر پختگی پیدا کی جائے، تاکہ جب باطل پر رد کیا جائے تو انہیں حق و باطل کی تمییز ہو سکے۔
چوتھا ضابطہ: رد علمی اور قوی ہو، کتاب و سنت کے دلائل اور اقوال سلف صالحین سے مبرہن ہو جس سے باطل پرست کے شبہات کی تار و پود بکھر کر رہ جائے، لوگوں کیلئے رہنمائی کا ذریعہ بنے، نیز جذبات کے بجائے دلائل اور اس سے صحیح استدلال پر زور دیا جائے۔
پانچواں ضابطہ: شبہات پر رد کرنے میں کہاں تفصیل سے کام لینا ہے اور کہاں مختصر انداز میں رد کرنا ہے، اس کا علم بھی نہایت ضروری ہے، نیز مصلحت و مفسدت کا خیال رکھنا ان تمام پر مقدم ہے۔ اجمال و تفصیل کے تعلق سے دو اہم ضابطے یاد رکھیں:
ا- شبہات کو سرسری اور نہایت مختصر انداز میں اس وقت ذکر کیا جائے گا جب اس کے مخاطب عوام ہوں، نیز کتاب و سنت اور سلف صالحین کے اقوال سے اس شبہ پر رد اسی انداز میں کیا جائے گا جو عوام کی سمجھ میں آسکے۔
ب- شبہات کو تفصیلاً ذکر کرکے اس پر مفصل انداز میں اس وقت رد کیا جائے گا جب اس کے مخاطب اہل علم اور اہل فن ہوں، نیز غالب گمان یہ ہو کہ اس رد پر اہل علم ہی مطلع ہوں گے، یا اس رد کے مخاطب اہل زیغ و ضلال اور گمراہ ہوں۔
چھٹا ضابطہ: جیسے ہی اہل باطل شبہات پھیلانے کی شروعات کریں فوراً اسی وقت اہل علم کو ان شبہات پر رد کرنا چاہیے، تاخیر درست نہیں ہے، کیونکہ جب شبہ پر فوراً رد نہیں کیا جائے گا تو عوام اس سے متاثر ہوگی، ایک اور بات کا اضافہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ: کسی مجلس میں، یا سوشل میڈیا کے کسی گروپ میں یا کسی اور مقام پر صرف شبہ ذکر کرکے خاموش ہونا جائز نہیں ، چنانچہ سوشل میڈیا پر بعض پوسٹ کچھ اس انداز کی ہوتی ہیں:
کچھ لوگ اسلام کے بارے میں ایسا ایسا کہتے ہیں!!
کچھ لوگ فلاں حدیث کا یہ کہہ کر انکار کرتے ہیں!!
کچھ لوگ فلاں صحابی کے بارے میں اس قسم کی باتیں کرتے ہیں!!! وغیرہ وغیرہ۔
بلکہ شبہات ذکر کرنے کے بعد فوراً ان کا رد کرنا چاہئے، یا اسے استفہامیہ انداز میں پوچھنا چاہئے، اور کوشش یہ کرنی چاہیے کہ عوام الناس کے سامنے اس کا ذکر کرنے کے بجائے اہل علم کے ساتھ الگ سے بیٹھ کر اس قسم کے شبہات کا جواب معلوم کیا جائے، الا یہ کہ وہ شبہ عوام کے درمیان رائج پا چکا ہو اور اس کی تردید نا گزیر ہو تو ایسی حالت میں سب کے سامنے پوچھا جا سکتا ہے۔
([1]) أبو داؤد (4064)، ترمذي (2664) حسن۔


