فکری انحراف کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود انسانی تاریخ ، جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور فرشتوں کو سجدہ تعظیمی بجا لا نے کا حکم فرمایا تو ابلیس وہ پہلا شخص تھا جس نے فکری کج روی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اس حکم سے سرتابی کی اور اپنی بغاوت اور فکری انحراف کا مظاہرہ کرتے ہو ئے برملا بول اٹھا کہ وہ آگ سے پیدا کیا گیا ہے جو مٹی سے برتر ہے، بھلا برتر، کمتر کو کیوں کر سجدہ کرسکتا ہے ۔ یہ فکری انحراف اور حکم ربانی کے مقابلہ میں قیاس فاسد کی پہلی مثال تھی جو شیطان لعین نےپیش کی۔ جس کے باعث وہ راندہ درگاہ اور دائمی لعنت کا شکار ہوا۔
اعتدال اور وسطیت کی راہ کو چھوڑ کر ایسی راہ اختیار کرنا جو دین ، فرد اور معاشرے کے لئے ضرر رساں ہو؛ فکری انحراف کہلاتا ہے ۔ دنیا میں فساد وبگاڑ کا کوئی بھی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کے پیچھے یہی فکری کج روی پنہاں ہوتی ہے، فکری انحرافات نے دنیا میں فساد وبگاڑ کے پھیلاؤ میں کیا رول ادا کیا ہے؛ اگر ہم تاریخی اعتبار سے اسکا جائزہ لیں تو یہ مضمون خاصا طویل ہوسکتا ہے۔ تا ہم اسکی سنگینی کو واضح کرنے کے لئے اسے مختلف ادوار میں تقسیمِ کرکے اس کا مختصر جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں:
فکری انحراف اسلام کی آمد سے پہلے:
دنیا میں شرک و بت پرستی پھیلنے کے اسباب وعلل کو تلاش کرنے پر یہ بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ انسانوں نے خالق کائنات کی عبادت وبندگی چھوڑ کر، اصنام واوثان کو اسی وقت اپنا معبود بنایا جب انکے انداز فکر میں کجی آئی ورنہ نوح علیہ السلام کی قوم سے پہلے دس صدیوں تک لوگ صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی خالص عبادت اور اس کی وحدانیت پر قائم تھے، اللہ تعالی فرماتا ہے، "كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيّنَ مُبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ”۔([1]) شیطان نے جب نوح علیہ السلام کی قوم کو صلحاء پرستی کے جال میں پھنسایا تو سب سے پہلے انکی برین واشنگ کی اور انکے انداز فکر کو بدلا اور پھر اگلے مرحلے میں آسانی سے انہیں شرک کے دلدل میں دھکیل دیا ، اور یوں دنیا میں اللہ کو چھوڑ کر معبودان باطلہ کی پرستش کا آغاز ہوا۔
بنی اسرائیل میں فکری انحرافات:
بنی اسرائیل کی تاریخ کا جب ہم بغور جائزہ لیتے ہیں تو جا بجا ہمیں انکی فکری کج روی کا مظاہرہ ديكهنے کو ملتا ہے ۔ فرعون اور اس کے لشکر کی غرق آبی کے بعد جب بنی اسرائیل بدترین قسم کے عذاب سے نجات پاگئے، تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے شکرگزار ہوتے، لیکن انکی فکری انحطاط اور ناشکری کی بدترین مثال دیکھئے کہ جیسے ہی وہ مصر سے نکلے اور مشرک قوم سے انکا سامنا ہوا، انہوں نے فوراً حضرت موسی علیہ السلام سے اپنے لئے معبود مقرر کردینے کی مانگ کی: "اجۡعَلْ لَّـنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ قَالَ اِنَّكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ”۔([2]) "ہمارے لئے معبود مقرر کردیں جیسے ان لوگوں کے لئے ہے۔ موسی علیہ السلام نے کہا کہ تم جاہل لوگ ہو "۔
انکے فکری انحرافات سے موسی علیہ السلام ہمیشہ پریشان رہے ، انکی کج روی کی مثالیں سورہ بقرہ، اعراف، یونس اور طہ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ حضرت موسی علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل نے اپنے انبیا اور رسولوں میں سے بہت سوں کو قتل کیا اور دیگر تمام کو اذیتیں دیں ، حتی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر کے قتل کے درپے ہوئے ، اور جب اللہ تعالٰی نے انہیں اپنی طرف جسم وروح کے ساتھ زندہ اٹھا لیا تو انکی ذات میں افراط و تفریط کا ایسا مظاہرہ کیا جس نے انکی فکری زبوں حالی اقوام عالم کے سامنے واضح کردی۔ نصاری میں کسی نے نعوذ باللہ انہیں اللہ کہا، تو کسی نے اللہ کا بیٹا اور کسی نے انہیں تین خداؤں میں سے ایک گردانا ، جبکہ غضب الہی کی شکار قوم یہود نے انہیں ولد الزنا تک کہہ دیا۔ قاتلهم الله أنى يؤفكون –
فکری انحراف اسلام کی آمد کے بعد:
(الف)- عہد نبوت: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت کے فورا بعد سے صحابہ کرام کی اخلاقی، روحانی اور فکری تربیت کا آغاز کردیا تھا۔ جب آپ کو صحابہ کرام میں سے کسی کی فکر کے اندر بے اعتدالی کی جھلک دکھائی دیتی، آپ فورا انکی اصلاح فرماتے ، سیرت طیبہ میں ایسی بہت ساری مثالیں ملتی ہیں ، چند مثالیں ملاحظہ ہوں :
دعوت دین میں جلد بازی سے بچنے کی تلقین:
(۱)- جب مکہ میں مسلمانوں پر قریش کی ایذا رسانیاں سخت ہوگئیں اور مسلمان مصیبتوں میں گھرگئے، تو انہوں نے فورا اللہ سے قریش کے خلاف التجائیں کیں ،جن میں قریش کے خلاف عذاب کی التجا بھی تھی ، اللہ سبحانہ وتعالی کو مسلمانوں کا یہ استعجال پسند نہیں آیا ، ہونا تو چاہیے تھا کہ مسلمان ان مصائب و مشکلات پر صبرکرتے لیکن وہ اپنے اعدا کے خلاف عذاب کے نزول کے خواہشمند ہوگئے۔ اللہ کہتا ہے: "اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَـنَّةَ وَ لَمَّا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَه مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ”۔([3]) "کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تم پر وہ حالات نہیں آئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئے تھے انہیں بیماریاں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایمان والے کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن رکھو کہ اللہ کی مدد قریب ہی ہے”۔
خود پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی سرزنش کی جب وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قریش کی ایذا رسانیوں کی شکایت کرنے آئے اور آپ سے یہ فریاد کی کہ آپ اللہ سے قریش کے خلاف مدد کی دعا فرمائیں آپ نے فرمایا کہ تم سے پہلے جو لوگ تھے ان میں اہل ایمان کی یہ شان تھی کہ جب وہ اپنے ایمان سے پھر جانے سے انکار کر دیتے تو ان میں سے کسی کو زمین میں گاڑ کر آرے سے دو ٹکڑے کردیا جاتا تھا، یا اسکے جسم کے گوشت کو، لوہے کی کنگھیوں سے الگ کردیا جاتا پھر بھی ان کے پائے استقامت میں لرزش نہیں آتی تھی ۔ اللہ کی قسم اللہ اپنے اس دین کی تکمیل کرکے رہے گا، یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک سفر کرےگا اور اسے سوائے اللہ کے، اور اپنی بکریوں پر سوائے بھیڑیوں کے کسی اور کا خوف نہ ہوگا۔ لیکن تم لوگ جلد بازی کر رہے ہو۔ ([4])
جب بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر انصاری صحابی عباس بن عبادہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا کہ اے اللہ کے رسول اگر آپ اجازت دیں تو ہم اپنی تلواروں کے ساتھ اہل منی( قریشیوں) پر ٹوٹ پڑیں ، آپ نے سختی سے انہیں منع فرمایا اور کہا کہ اپنے خیموں کی طرف لوٹ جاؤ ۔([5])
ان دو واقعات پر اگر غور کریں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان دونوں صحابی کی تجاویز پر عمل درآمد کی صورت میں اسلام اور مسلمانوں کے لئے کیا کیا پریشانیاں اٹھ کھڑی ہوتیں، ان کا ادراک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی طرح سے تھا اسلئے انکی تجاویز کو رد کرکے انکے انداز فکر کو آپ نے صحیح سمت دی، اور دین کی نشر واشاعت میں صبر وتحمل کی اہمیت کو انکی نگاہوں کے سامنے واضح انداز میں رکھا ، اس قسم کی مثالیں ہمیں مدنی دور میں بھی ملتی ہیں جنگ احد میں مسلمانوں کو جن نقصانات سے دوچار ہونا پڑا اسکی واحد وجہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانب سے جلدبازی میں قائم کی جانے والی رائے تھی کہ مشرکوں کو شکست ہوگئی ہے اور اب ہمیں اس پہاڑی کی حفاظت کرنے کی ضرورت نہیں ہے جس پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متعین فرمایا تھا۔ حتی کہ عبادات کے باب میں بھی جب بعض صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کو کم گردانتے ہوئے اپنے آپ کو بعض عبادت کا سخت پابند کرنا چاھا تو نہ صرف آپ نے انکی شدت پسندی پر ان کی زبردست سرزنش کی بلکہ اپنے آپ کو انکے لئے اسوہ اور نمونہ قرار دیا ۔([6])
ایک بار صحابہ کرام تقدیر کے مسئلے پر آپس میں بحث ومباحثہ کررہے تھے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جب آپ نے تقدیر جیسے مہتم بالشان مسئلے پر جھگڑتے دیکھا تو آپ کا چہرہ مبارک غصے سے سرخ ہوگیا اور آپ نے ان سے مخاطب ہوکر فرمایا : میں تمہیں تقدیر کے مسئلے پر بحث ومباحثہ سے سختی سے منع کرتا ہوں۔ ([7])
اس تربیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ پھر صحابہ کرام نے اس مسئلے پر لب کشائی کرنے سے نہ صرف گریز کیا بلکہ بعد میں لوگوں کو اس مسئلے پر بحث ومباحثہ کرنے سے روکا اور انکے انداز فکر کو صحیح راہ دی۔ صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: جب ان کے پاس یحی بن یعمراور عبدالرحمن حمیری آئے اور ان سے کہا کہ: ہمارے علاقے میں(عراق کے شہر بصرہ میں ) کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں( معبد جھنی اور انکے ہمنوا)، تو ابن عمر نے کہا: کہ جب تم لوٹ کے جانا تو انہیں کہہ دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابن عمر کی جان ہے اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو اور وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے، تو اس وقت تک اللہ اسے قبول نہیں کرے گا جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہیں لاتا۔ ۔۔پھر انہوں نے اپنے والد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی حديث جو حدیث جبريل سے جانی جاتی ہے، سنائی۔([8])
([5]) ( مسند احمد: 15798 والبیھقی فی دلائل النبوہ: 2/449)۔


