گزشتہ کچھ عرصے میں اعتدال کے نام پر بعض ایسے افراد کا ظہور ہوا جنہوں نے اسلام کے صاف و شفاف چہرے اور صحیح منہج پر تشدد کا لیبل لگا کر اپنی خود ساختہ راہ اعتدال کو اسلام بنا کر پیش کیا۔ چناچہ کوئی اسلامی واجبات و فرائض میں سختی کا دعوی کر تے ہوئے من چاہا آسان راستہ نکال رہا ہے، تو کوئی اہل بدعت کے تئیں اسلام کے بے لچک موقف کو پرتشدد بتا کر ان سے تعلقات بحال رکھنے کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ اس قسم کے افراد شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام کے نزول کا مقصد ہی تشدد اور شدت پسندی کا خاتمہ ہے۔ "يُرِيۡدُ اللّٰهُ بِکُمُ الۡيُسۡرَ وَلَا يُرِيۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ” ( اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں)، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «فإذا رأيت الذين يتبعون ما تشابه منه فأولئك الذين سمى الله فاحذروهم»، (جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو متشابہات کے پیچھے لگا رہتا ہے تو جان لو کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کا تذکرہ اللہ رب العالمین نے اس آیت میں کیا ہے، لہذا ان سے دوری بنا کر رکھو)۔ [صحيح البخاري (6/ 34)]۔
منہج سلف میں ان خود ساختہ اعتدال کے مفاہیم کی کوئی جگہ نہیں، یہ منہج نبی اکرم ﷺ کا بنایا ہوا ہے جو وسطیت و اعتدال کی حقیقی تصویر ہے، یہی وہ طریق ہے جس کا سالک گمراہی سے محفوظ ہے اور مخالف راہ ہدایت سے بھٹکا ہوا ہے۔
ماہنامہ "منہج سلف” کا اجرا اسی منہج کی ترویج واشاعت کے لئے عمل میں آیا ہے، تاکہ عوام الناس منہج سلف سے روشناس ہو، نت نئے مسائل وافکار کو سلفی تناظر میں دیکھنے کی خو پیدا ہو، معا ً شریعت کے نصوص، اس کے معانی ومطالب اور طرز استدلال کے تئیں اہل علم نے جس منہج کو اپنی زندگی میں برتا ہے، اس ماہنامے کے ذریعہ لوگوں کے قلوب و اذہان میں اس منہج کا شعور قائم ہوسکے۔


