قسط (۲)
میں سب سے پہلے دلائل کے ذریعہ اس مسئلے کی کو بیان کروں گا، پھر اقوال صحابہ اور اجماع امت ذکر کروں گا۔ ان شاء اللہ۔
- عن عبد الله رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وكره، ما لم يؤمر بمعصية، فإذا أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة». صحيح البخاري: (7144).
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سےبیان کرتے ہیں کہ آپ نےفرمایا: ”ایک مسلمان کے لیے امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے۔ یہ اطاعت پسندیدہ اور ناپسندیدہ دونوں باتوں میں ہے بشرطیکہ اسے گناہ کا حکم نہ دیا جائے۔اگر اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو نہ بات سنی جائے اور نہ اطاعت ہی کی جائے۔“
- عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «عليك السمع والطاعة في عسرك ويسرك، ومنشطك ومكرهك، وأثرة عليك». صحيح مسلم: (1836).
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم پر (امیر کا حکم) سننا اور ماننا واجب ہے، اپنی مشکل (کی کیفیت) میں بھی اور اپنی آسانی میں بھی، اپنی خوشی میں بھی اور اپنی ناخوشی میں بھی اور اس وقت بھی جب تک پر (کسی اور کو) ترجیح دی جا رہی ہو۔‘‘
- عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ – رضي الله عنه – قَالَ: سَأَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ – رضي الله عنه – رَسُولَ اللهِ – صلى الله عليه وسلم – فَقَالَ: يَا نَبِي اللهِ , أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ , وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا , فَمَا تَأمُرُنَا؟ , "فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ – صلى الله عليه وسلم -” , ثُمَّ سَأَلَهُ , "فَأَعْرَضَ عَنْهُ” , ثُمَّ سَأَلَهُ الثَّالِثَةَ فَجَذَبَهُ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ – رضي الله عنه – فَقَالَ رَسُولُ اللهِ – صلى الله عليه وسلم: ” اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا , فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا , وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ ".
سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اور کہا: اللہ کے نبیﷺ! آپ کیسے دیکھتے ہیں کہ اگر ہم پر ایسے لوگ حکمران بنیں جو ہم سے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں اور ہمارے حق ہمیں نہ دیں تو اس صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے اس سے اعراض فرمایا، اس نے دوبارہ سوال کیا، آپ نے پھر اعراض فرمایا، پھر جب اس نے دوسری یا تیسری بار سوال کیا تو اس کو اشعث بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ نے کھینچ لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سنو اور اطاعت کرو کیونکہ جو ذمہ داری ان کو دی گئی اس کا بار ان پر ہے اور جو ذمہ داری تمہیں دی گئی ہے، اس کا بوجھ تم پر ہے۔‘‘
- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا مَاتَ نَبِيٌّ قَامَ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي». قَالَ رَجُلٌ: فَمَا يَكُونُ بَعْدَكَ يَا رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: «تَكُونُ خُلَفَاءٌ، وَتَكْثُرُ»، قَالَ: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «أَوْفُوا بِيعَةَ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ، فَأَدُّوا إِلَيْهِمُ الَّذِي لَهُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَنِ الَّذِي لَكُمْ». السنة لابن أبي عاصم (2/ 512)، صحيح ابن حبان: (14/ 142).
أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کرم ﷺ نے فرمایا: ’’بنی اسرائیل کی حکومت حضرات انبیاء ؑ چلاتے اور ان کے امور کا انتظام کرتے تھے۔ جب ایک نبی کی وفات ہو جاتی تو اس کا جانشین دوسرا نبی ہو جا تا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی تو نہیں ہو گا، ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ، آپ کے بعد پھر کون لوگ ہوں گے۔ البتہ خلفاء ہوں گے اور وہ بھی بکثرت ہوں گے۔‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’جب کوئی خلیفہ ہو جائے۔ (اور تم نے اس سے بیعت کر لی ہو)تو اس سے کی ہوئی بیعت پوری کرو۔ پھر اس کے بعد جو پہلے ہو اس کی بیعت پوری کرو۔ انھیں ان کا حق دو۔ اور تمہارے حق کے تعلق سے اللہ رب العالمین ان سے سوال کرے گا۔
- عن ابن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «ستكون أثرة وأمور تنكرونها» قالوا: يا رسول الله فما تأمرنا؟ قال: «تؤدون الحق الذي عليكم، وتسألون الله الذي لكم». صحيح البخاري: (3603).
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’عنقریب دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی اور ایسے امور ہوں گے جنھیں تم ناپسند کروگے۔‘‘ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ ! ایسے حالات میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟آپ نے فرمایا: ’’جو فرائض تمہارے ذمے ہیں تم انھیں پوری ذمہ داری سے ادا کرتے رہو اور جو تمہارا حق ہے وہ اللہ سے مانگو۔‘‘
- عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنْ السُّلْطَانِ شِبْرًا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً. صحيح البخاري: (7053).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو صبر کرے کیونکہ اگر کوئی اپنے امیر کی اطاعت سے بالشت بھر بھی باہر نکلا وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔“

