قسط (۱)
اہل حدیثوں کے نزدیک کسی مسئلے میں جب قرآن و حدیث سے دلیل مل جائے تو اس کی مخالفت جائز نہیں ہے، اور مختلف فیہ مسائل میں ترجیح اس راے کو دی جاتی ہے جس کی صحت پر شرعی دلائل موجود ہوں، فقہی مسائل میں ہم بڑے شد و مد کے ساتھ اس قاعدے پر عمل پیرا ہیں، البتہ عقدی ومنہجی امور میں بعض اہل حدیثوں کے نزدیک دلائل کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، انہیں قطعاً اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ زیر بحث مسئلے میں کتاب و سنت کس بات پر دلالت کرتے ہیں، بلکہ کسی شاذ قول یا کسی کے عمل کو نص قرآنی کے مثل بطورِ حجت پیش کر رہے ہوتے ہیں، ان کے سامنے جب دلائل دلائل پیش کئے جاتے ہیں تو ان سے اعراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مسئلہ مختلف فیہ ہے، جبکہ اصول فقہ کا مبتدی طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ دلیل شرعی کے مخالف قول وعمل کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں ہے، بلکہ اس شخص کو اپنے ایمان کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے جو واضح اور صریح نصوص کے سامنے کسی عالم کا قول و عمل پیش کرے، اور ساتھ یہ بھی کہتا پھرے کہ: "میری بھی یہی رائے ہے”۔ نیز یہ کہ ہر اختلاف معتبر نہیں ہوتا، خصوصاً جب دوسرا قول دلائل سے عاری ہو۔ یہی وجہ ہے کہ علما نے حائضہ عورتوں کی نماز اور روزوں کی قضا سے متعلق بعض خوارج کے اختلاف کو لائق اعتنا ہی نہیں سمجھا اور نہ ہی انہیں قابل ذکر سمجھا۔
اگر مختلف فیہ مسائل میں دلائل کے ساتھ ساتھ اجماع امت بھی وارد ہوا ہو تو اس کی مخالفت گمراہی کا موجب ہوتی ہے، اجماع کے تعلق سے یہ بات بھی یاد رکھیں کہ اجماع کسی بھی زمانے میں ہو سکتا ہے، اور وہ اپنے بعد کے زمانوں کے لئے حجت ہوگا۔
ظالم اور فاسق و فاجر مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنا اور اعلانیہ طور پر ان کی غلطیاں یا ان کے گناہوں کو بیان کرنا شرعاً حرام اور ناجائز عمل ہے، کتب احادیث میں اس سے متعلق بکثرت نصوص وارد ہیں۔
صحابہ کرام نے نبی اکرم ﷺ کا لایا ہوا خالص دین مکمل امانت داری کے ساتھ امت تک پہنچایا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت تمام عقائد اسلام کا حقیقی چہرہ اور قرآن و حدیث کی درست تعبیر ہے، جس میں نصوص کتاب و سنت کا التزام اور انحراف سے نجات ہے۔
ان کے بالمقابل اہل بدعت ہیں، جنہوں نے کتاب و سنت پر اپنی ناقص وکج فہم عقل کو فوقیت دی اور دلائل سے روگردانی کرتے ہوئے دین میں نت نئی بدعات ایجاد کی، باطل تاویل وتحریف کا سہارا لے کر مختلف اقسام کی بدعات کو وجود بخشا۔
ان کے باطل افکار کی تردید کے لئے اللہ رب العالمین نے اس امت میں ایسے علما کو پیدا کیا جنہوں نے تمام منحرفانہ افکار کی خوب خوب خبر لی ہے، اور امت کو ان کے فتنوں سے باخبر کیا ہے۔
سلف صالحین کی کتابیں انحراف سے بچاؤ اور جادہ حق کی صحیح راہنما ہیں، اہل بدعت کے خلاف کاٹ دار تلوار اور برق آسمانی کے مثل ہیں۔ انہوں نے اہل سنت کے عقائد کی بھی توضیح کی ہے اور اہل بدعت کے فاسد عقائد کی تردید بھی، اہل حق کی نشانیاں بھی بتائی ہیں اور منحرفین کا پردہ بھی فاش کیا۔ وللہ الحمد والمنہ۔
حاکم کے خلاف خروج کا مسئلہ ان اہم مسائل میں سے ایک ہے جسے سلف صالحین نے اہل سنت کے خصوصی اعتقاد میں ذکر کیا ہے، اور جسے اہل سنت و اہل بدعت کے درمیان حد فاصل بھی بتایا ہے۔

