لفظ "دعوت الی اللہ” کا مطلب ہی ہے کہ آپ لوگوں کو رب کی طرف بلا رہے ہیں، اس لئے بحیثیت داعی آپ کو رب کی "دعوت” کا خیال رکھنا ہے نہ کہ مدعوین کا، مطلب یہ کہ آپ دعوت کا آغاز کیسے کریں، کن چیزوں کے ذریعہ کریں، کس بنیاد پر کریں اور کن لوگوں کے سامنے کریں؟ ان تمام اسالیبِ دعوت کی پوری تفصیل کتاب وسنت میں اللہ رب العالمین نے اور اس کے آخری رسول نے بیان کر دی ہے، بڑے علما و مشایخ کے سانے زانو تلمذ تہہ کریں اور ان چیزوں کو سیکھیں، علم کو وقت دیں، راہِ علم کی صعوبتوں کو برداشت کریں، کتابوں کو علما سے پڑھیں، سمجھیں اور اس کے مطابق عمل کریں، اپنے اندر داعیانہ اسلوب پیدا کریں، دعوت الی اللہ کے ضوابط کو سمجھیں، مصالح و مفاسد کا فہم حاصل کریں، پھر میدان دعوت میں قدم رکھیں.
اور صحیح بات یہ ہے کہ اسالیب دعوت توقیفی ہیں، اس میں نت نئی چیزیں ایجاد نہ کریں اور نہ ہی ایجاد بندہ رسومات پر عمل کریں.
جسے دعوت دی جارہی ہے وہ امیر ہو یا فقیر، کالا ہو یا گورا، آزاد ہو یا غلام، ان پڑھ ہو یا علم کا سمندر، مرد ہو یا خواتین سب سے پہلے انہیں رب کی وحدانیت کی دعوت دی جائے گی، شرک سے ڈرایا جائے گا، ایسا نہیں کہ فقیروں اور غریبوں کو توحید کی دعوت دی جائے گی اور مالداروں کے مزاج کے مطابق ان کیلئے الگ سے دعوت کا اسلوب تیار کیا جائے گا کہ یہ لوگ فلم، ڈرامے، اسٹائل، گانے، ٹپ ٹاپ اور ہپ ہاپ کی دنیا میں رہتے ہیں اس لئے ان کیلئے لگژری دعوت الی اللہ کا اہتمام کیا جائے، اور توحید کی دعوت مزدور، فقیر، مساکین، غرباء وغیرہ کیلئے خاص ہوگی جیسا کہ آج کل ماحول بن گیا ہے.
فرعون بادشاہ وقت تھا، اس کا اپنا ملک تھا، فوج تھی، لاؤ لشکر تھا، اللہ رب العالمین نے موسی اور ہارون علیہما الصلاۃ والسلام کو یہ نہیں کہا کہ بادشاہ وقت کے پاس جا رہے ہو اس کے مزاج کو مد نظر رکھتے ہوئے دعوت دینا، بلکہ اللہ رب العزت نے فرمایا: "إذهب إلى فرعون إنه طغى”، یعنی اے موسی (دعوتِ توحید لے کر) سرکش ومتمرد فرعون کے پاس جائیں.
اسی طرح جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طائف گئے تو وہاں کے سرداروں کیلئے الگ سے بن ٹھن کر نہیں گئے، اور نہ ہی ان کے مزاج کا خیال رکھا، بلکہ انہیں سیدھے طور پر دعوت توحید پیش کی.
دعوت دین کیلئے رئیسوں اور مالداروں کے مزاج کا خیال رکھنا شریعت کے منافی امر ہے، ایک مرتبہ کفار قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ ہمارے لئے علاحدہ مجلس رکھیں جس میں ہر کسی کو آنے کی اجازت نہ ہو، اللہ رب العالمین نے مکہ کے مالداروں کے اس مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے اپنے نبی کو مساکین صحابہ کرام کے ساتھ رہنے کا حکم دیا.
اسی طرح امام مالک رحمہ اللہ سے خلیفہ وقت ہارون رشید رحمہ اللہ نے کہا: ہمارے یہاں تشریف لائیں اور ہمارے بچے کو اپنی کتاب موطأ پڑھا دیں، امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: اللہ رب العالمین امیر المؤمنین کا اقبال بلند کرے، آپ کے یہاں سے ہی علم نکلا ہے، اگر آپ علم کو عزت دیں گے تو اس کے ذریعہ عزت بھی پائیں گے، اور اگر علم کو ذلیل کریں گے تو ذلت و رسوائی ہی ہاتھ لگے گی، اور امیر المؤمنین علم کسی کے پاس چل کر نہیں جاتا بلکہ علم کے طلب گار کو خود چل کر جانا پڑتا ہے، ہارون رشید نے کہا: امام صاحب آپ نے سچ فرمایا، ھر اپنے بچوں کو حکم دیا کہ مسجد جاؤ اور لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر علم حاصل کرو. (البدایہ والنہایہ).
خلاصہ یہ کہ دعوت کا اسلوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم والا اور سلف صالحین والا ہونا چاہیے، دعوت الی اللہ کو امیر و غریب کے درمیان تقسیم نہ کیا جائے کہ امیروں کو دعوت دینے کا انداز الگ ہوتا ہے اور غریبوں کو دعوت دینے کا الگ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کو بھی اسلام کی دعوت دی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی معرفت انہیں توحید کا پیغام بھیجا، لیکن کسی بھی صحابی کو یہ نہیں کہا کہ بادشاہ کے پاس دعوت لے کر جانے کیلئے بادشاہ کے مزاج کے مطابق ڈریسنگ کرلو، ان لائف اسٹائل کے مطابق انٹری مارنا، اور جس طرح وہ دعوت الی اللہ کو سمجھنا چاہیں ویسے سمجھانا، بلکہ سیدھا سیدھا توحید کی دعوت.
ایسا نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور سلف صالحین کے زمانے میں امیروں کو دعوت نہیں دی گئی، سب کو یکساں دعوت دی گئی.
اب خدا حافظ متاع دین و دانش کا حفیظ
واعظ کج فہم بھی تقریر فرمانے اٹھے.
اللہ المستعان

