شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ مدینہ کے محدث ہیں، بقیۃ السلف ہیں، سلفیوں کے مربی ہیں، جب سلفیوں کے مابین اختلاف پیدا ہوا تو شیخ نے "رفقا أهل السنہ بالسنہ” تالیف کی.
کتاب کے نام سے ہی واضح ہے کہ شیخ نے سلفیوں کے باہمی تنازع کو ختم کرنے اور آپس میں اخوت و محبت برقرار رکھنے کیلئے اس کتاب کی تالیف کی، لیکن اخوانیوں نے اور اخوانیت زدہ لوگوں نے اسے اپنے حق میں سمجھا، اور اس کتاب کے اقتباسات سلفیوں کے خلاف اور اپنے حق میں نشر کرنے لگے، جب کہ شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ اخوانیوں کو سلفی تو کجا اہل سنت ہی نہیں مانتے، جیسا کہ انہوں نے مسجد نبوی میں ایک سوال کے جواب میں کہا: "اخوان المسلمین اہل سنت میں سے نہیں ہیں”. (آڈیو میرے پاس موجود ہے، لیکن لنک نہیں ہے).
نیز شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ اپنی کتاب "رفقا أهل السنہ بالسنہ” کی تالیف کا مقصد بتاتا ہوئے فرماتے ہیں: "میں نے "مدارک النظر” نامی کتاب میں جن لوگوں کی طرف اشارہ کیا ہے، اور ان پر رد کی تائید کی ہے اس سے میں نے رجوع نہیں کیا ہے”، (شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ نے اس کتاب میں سفر الحوالی، سلمان العودہ اور محمد المسعري وغیرہ پر رد کی تائید کی ہے)، پھر شیخ عبد المحسن العباد فرماتے ہیں: میں نے "رفقا اہل السنۃ بالسنۃ” نام سے جو کتاب تالیف کی ہے اس کا تعلق ان لوگوں سے بالکل بھی نہیں جن کا ذکر میں "مدارک النظر” نامی کتاب کے مقدمہ میں کیا ہے، اور نہ ہی اس کتاب کا تعلق "اخوان المسلمین” سے ہے، نہ ہی سید قطب کے پیروکار سے ہے، نہ ہی "فقہ الواقع” کی رٹ لگانے والوں سے، نہ ہی حکام کے خلاف بولنے والوں سے، اور نہ سلفی علمائے کرام کے خلاف زبان درازی کرنے والوں سے ہے، میری کتاب "رفقا اہل السنہ بالسنہ” سے مراد مذکورہ بالا جماعت یا افراد بالکل بھی نہیں ہیں، دور دور تک اس کتاب سے ان کا واسطہ نہیں ہے، اس کتاب سے مراد صرف اور صرف اہل سنت ہیں، نہ کہ وہ جماعتیں اور فرقے جو اہل سنت والجماعت کی راہ سے منحرف ہیں”.
https://www.youtube.com/watch?v=RrYS3ROluzM
محترم قارئین: چند باتوں پر دھیان دیں:
1- شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ” اخوان المسلمین” کو اہل سنت میں شمار ہی نہیں کرتے.
2- شیخ نے” مدارک النظر” نامی کتاب پر مقدمہ لکھ کر ” سفر الحوالی” پر رد کی تائید کی ہے. 3- شیخ نے یہ وضاحت کی ہے کہ "رفقا اہل السنہ بالسنہ” سے وہ لوگ بالکل بھی مراد نہیں ہیں جن کا ذکر "مدارک النظر” نامی کتاب میں ہے، اور نہ ہی ان کا تزکیہ مقصود ہے.
4- یعنی شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ "سفر الحوالی” کو اہل سنت نہیں مانتے (یہ میرا اخذ کردہ مفہوم ہے، شیخ نے اس کی صراحت نہیں کی ہے، تاہم مندرجہ ذیل اسباب کی بنیاد پر یہی مفہوم نکل کر آتا ہے:
= شیخ نے سفر الحوالی پر رد کی تائید کی.
= بلکہ "مدارک النظر” نامی کتاب کے مقدمہ میں خصوصیت کے ساتھ "سفر الحوالی” کی طرف اشارہ کیا.
= نیز اپنی کتاب "رفقا اہل السنہ بالسنہ” سے "سفر الحوالی” وغیرہ کو خارج قرار دیا، یعنی اس کتاب سے وہ اور ان جیسے لوگ مراد نہیں ہیں)
5- اس کتاب سے مراد صرف اور صرف سلفی حضرات ہیں.
6- شیخ نے یہ بھی کہا ہے: جو لوگ سلفیوں کے مخالف ہوتے ہیں وہ سلفیوں کے مابین اختلافات کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، (بعض لوگ تو سلفیوں کے باہمی اختلافات کو ذکر کرکے اپنی حقانیت اور سلفیوں کے باطل ہونے پر دلیل پیش کرتے ہیں).
7- شیخ نے "اخوان المسلمین”، سید قطب کے پیروکار، "فقہ الواقع” کی رٹ لگانے والے، حکام کے خلاف بولنے والے، اور سلفی علمائے کرام کے خلاف زبان درازی کرنے والے کو کتاب "رفقا اہل السنہ بالسنہ” سے خارج قرار دیا ہے، یعنی اس قسم کی جماعتیں یا افراد اس کتاب سے مراد نہیں ہیں اور نہ ہی وہ اس کتاب کا مصداق ہیں.
قارئین کرام: اگر مذکورہ اقسام و اصناف کے لوگ یا جماعتیں شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ ومتعہ بالصحہ والعافیہ کی کتاب "رفقا أهل السنہ بالسنہ” کو اپنی بات کی تائید میں پیش کرتے ہیں تو یقین کرلیں کہ ان کا تعلق اس کتاب سے بالکل بھی نہیں، وہ اس کتاب کو اپنی مسموم فکر کی نشر واشاعت کیلئے ڈھال بنانا چاہتے ہیں.
حافظ خضر حیات صاحب تو حکام کے خلاف بولتے ہیں اور سلفی علمائے کرام کے خلاف زبان درازی بھی کرتے ہیں، جیسا کہ انہو نے شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ پر "تعصب اور عداوت” کا الزام لگایا تھا، اس لئے مؤلفِ کتاب یعنی شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ کی صراحت کے مطابق خضر حیات صاحب اس کتاب کا مصداق نہیں.
