پہلی قسط
اہل حدیثوں کا راستہ بڑا کٹھن ہے، یہاں قدم قدم پر مخالفت، عداوت، نفرت اور طعنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے. اگر آپ شرک کے خلاف بات کریں گے تو بر صغیر کے مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ آپ کے خلاف اٹھ کھڑا ہوگا، اگر آپ نے تقلید کے خلاف لب کشائی کی تو ایک بڑا طوفان آپ کے سامنے کھڑا ہوگا، اگر آپ نے تصوف کے خلاف گفتگو کی تو مذکورہ دونوں جماعتیں آپ کے خلاف مورچہ لگائے کھڑی ہوں گے، اگر آپ نے صحابہ کے خلاف زبان درازی کرنے والوں کی پکڑ کی تو خود کو "معتدل” باور کرانے والا ایک طبقہ آپ کو امت میں اختلاف پھیلانے کا طعنہ دے گا، اور اگر آپ نے سلفی منہج پر گفتگو کی تو سارا زمانہ آپ کا دشمن بن جائے گا.
لہذا سلفیت قبول کر لینا اور اس پر ثابت قدم رہنا بڑا مشکل امر ہے.
اگر آپ شرک کے خلاف گفتگو کرنا مناسب نہیں سمجھتے تو خود کو سلفی کیوں کہتے ہیں؟
اگر آپ کو تصوف اور تقلید کی حقیقت واضح کرنے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے تو خود کو سلفی کیوں کہلاتے ہیں؟
اگر آپ کو صحابہ کرام جیسی مقدس ہستیوں پر زبان درازی کرنے والوں سے محبت ہے تو آپ کس ناحیے سے سلفی کہلانے کے حقدار ہیں؟
اگر آپ خود کو سلفی اور اہل حدیث کہلانے میں شرم محسوس کرتے ہیں یا دوسروں کی نفرت کا ڈر ہے تو یہ راستہ اختیار ہی کیوں کیا تھا، صرف سلفیوں کے ساتھ سلفی کہلانے کا کیا فائدہ؟
اتنا ڈرتے ہو تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہو؟
انہیں سلفی بھی کہلانا ہے، اور سلفی منہج کی بیخ کنی کرنے والوں کی اقتدا بھی کرنی ہے، ان سے محبت بھی جتانا ہے، ان کی تائید بھی کرنی ہے.
انہیں اہل حدیث کی صف میں شامل بھی ہونا ہے، مگر اہل حدیثوں کی بنیادی دعوت – دعوت توحید اور رد شرک- انہیں پسند نہیں.
انہیں اہل حدیث ہونے کا دعویٰ بھی ہے، اور صحابہ کے خلاف طعن وتشنیع کرنے والوں سے محبت بھی.
انہیں اہل حدیث ہونے کا دعویٰ بھی ہے، اور دفاع صحابہ کرنے والوں پر بھونکنے کا بھی شوق ہے.
اس قسم کے حضرات کے سامنے آپ ذرا صحابہ کرام کے خلاف طعن وتشنیع کرنے کی نقاب کشائی کر کے دیکھیں، فوراً آپے سے باہر ہو جائیں گے، انہیں مودودی صاحب اور ان کے ہم مثل لوگوں کی عزت پر ایک حرف گوارا نہیں، مگر صحابہ کرام کی توہین پر پوری کتاب پسند آجاتی ہے.
دو رنگی چھوڑ دے، یک رنگ ہو جا
سراسر موم، پا پھر سنگ ہو جا


