بعض لوگ مولانا مودودی کے بارے میں شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا وہ خط نقل کر رہے ہیں جسے "رسالہ اخوت ومحبت” کے نام سے شئر کیا جا رہے، انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے مذکورہ "رسالہ” کے ساتھ اس رسالہ کو بھی نشر کرناچاہئے جس میں انہوں نے شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ سے وہ کتاب طلب کی تھی جس میں شیخ ربیع نے مولانا مودودی پر رد کیا تھا، نیز رسالہ اخوت 1392 ہجری کا ہے جبکہ شیخ ربیع سے کتاب کا مطالبہ 1412 ہجری کا ہے.
اسے سوائے خواہشات نفس کی اتباع کے اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ اپنے موافق باتوں کو ذکر کیا جائے اور مخالف باتوں کو چھوڑ دیا جائے.
منہج استدلال میں اہل بدعت اور اہل سنت کے درمیان یہ امتیازی فرق رہا ہے جیسا کہ عبد الرحمن بن مہدی رحمہ اللہ کا قول ہے:أهل السنة يذكرون ما لهم وما عليهم أما أهل البدع والأهواء يذكرون ما لهم ولا يذكرون ما عليهم.
اہل سنت اپنے موافق ومخالف تمام چیزوں کو ذکر کرتے ہیں جبکہ اہل بدعت صرف اور صرف اپنی موافقت میں باتیں ذکر کرتے ہیں اور جن باتوں سے ان کی مخالفت ہوتی ہے وہ اس سے صرف نظر کرتے ہیں.
اہل بدعت کے متعلق تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے لیکن جب اہل حدیث کی جانب نسبت کرنے والے افراد بھی یہی رویہ اختیار کرنے لگیں تو بڑا تعجب ہوتا ہے.
اب کوئی مفکرانہ استدلال کرکے یہ نہ کہہ دے کے میں نے فلان کو بدعتی کہا ہے، میں نے صرف اہل بدعت کا طریقہ بتایا ہے جسے آج کل بعض اہل حدیثوں نے اختیار کر رکھا ہے.
اب آتے ہیں دوستی بات کی طرف: بعض لوگ یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے مولانا مودودی، سید قطب اور مولانا ابو الحسن علی ندوی صاحبان کی کتابوں کے بارے میں کہا کہ وہ مفید ہیں، یقینا شیخ نے ایسا کہا ہے، لیکن اس فتوی کا ناقل تلبیس وتدلیس سے کام لے رہا ہے، اور وہ اس طرح کہ شیخ کی پہلے کی باتیں نقل کر رہا ہے جبکہ بعد کی باتیں چھوڑ دے رہا ہے، اور جیسا کہ میں نے اوپر کے سطور میں ذکر کیا کہ یہ اہل بدعت کا طریقہ رہا ہے.
شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ جو استواء علی العرش کی تفسیر "هيمنة” سے کرے اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ فاسد اور باطل کلام ہے، اس نے رب کے عرش پر مستوی ہونے کا انکار کیا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ ایسی تفسیر کرنے ولا مسکین اور برباد شخص ہے.
یہ بات سید قطب کے بارے میں ہے.
ایک مرتبہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے ذکر کیا گیا کہ سید قطب نے امیر معاویہ اور عمر بن العاص رضی اللہ عنہما پر جھوٹ، دھوکہ، نفاق اور رشوت کا الزام لگایا ہے، تو شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے کہا: یہ نہایت بدترین کلام ہے، معایہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما پر سب وشتم ہے،…………. جس کتاب میں ایسی باتیں ہیں ان کتابوں کو پھاڑ دینا چاہئیے.
یہاں شیخ کا کلام سنا جا سکتا ہے.
https://youtu.be/BkJeZNa6w0E
اب سوال یہ ہے کہ یہی سب باتیں اگر مولانا مودودی نے کی ہو تو کیا شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا فتوی ان پر منطبق نہیں ہوگا؟
مولانا مودودی نے استواء علی العرش کی تفسیر غلط کی ہے، صفات الہی کی تاویل کی ہے اور معتزلہ واشاعرہ کی راہ پر چلے ہیں، معاویہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے تعلق سے بد کلامی کی ہے، تو کیا شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے فتوی کے مطابق ایسی کتابوں کو پھاڑ نہیں دینا چاہئے جن میں اس قسم کی باتیں ہوں؟ کیا ایسا شخص برباد اور مسکین نہیں ہے جو ’’الرحمن علی العرش استوی‘‘ کی غلط تفسیر کرے؟
اب کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے تو سید قطب کے بارے میں ایسا کہا ہے مولانا مودودی کے بارے میں نہیں.
اس کا مطلب یہ ہوا کہ سید قطب کی غلطی غلطی ہوئی اور مولانا مودودی کی بعینہ وہی غلطیاں کتاب وسنت کے موافق ہو گئیں؟
بلکہ حقیقت یہ ہے کہ سید قطب نے مولانا مودودی کی کتابوں سے خوب استفادہ کیا ہے، جب شاگرد اور اس کی کتابوں کے بارے میں شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا یہ فتوی ہے تو پھر سید قطب کے استاذ مولانا مودودی کے بارے میں کیا فتوی ہوگا؟ اور دونوں کی غلطیاں بھی ایک ہی ہیں!!
یہ مثالیں صرف ابن باز رحمہ اللہ کے کلام سے دی گئی ہیں، اگر کسی کو حق کی جستجو ہے، اسے عدل و انصاف پسند ہے تو مولانا مودودی کے بارے سعودی عرب کے تمام سلفی علما کے فتاوے نقل کرے، ورنہ اہل بدعت کی روش اختیار کرنی ہے تو پھر اس سے کون منع کر سکتا ہے؟
جن اہل حدیثوں نے مذکورہ روش اختیار کی؛ ان کی خدمت میں آخری بات: عبد الرحمن بن ملجم خارجی تھا، اس نے علی رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تھا، اور اپنے اس بدعملی پر ناز کرتا تھا اور علی رضی اللہ عنہ کے قتل کو تقرب الہی کا ذریعہ سمجھتا تھا، ایسے شخص کا تزکیہ امیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کیا تھا، کیا عمر بن الخطاب رضی اللہ کے تزکیہ کی بنیاد پر کل سے آپ اس خارجی اور قاتل علی رضی اللہ عنہ کا دفاع کریں گے؟
جب آپ کے نزدیک ابن باز رحمہ اللہ کا وہ فتوی معتبر ہے جو مولانا مودودی کی حمایت میں ہے تو پھر آپ جیسوں کے نزدیک تو عمر رضی اللہ کا وہ تزکیہ بھی معتبر ہونا چاہئے جو عبد الرحمن بن ملجم کی حمایت میں ہے؟
اپنے مذکورہ اصول کی بنیاد پر کل سے عبد الرحمن بن ملجم کے تعلق سے پوسٹیں لگانی شروع کریں.

