جب کسی سے کوئی سوال کیا جائے تو وہ مطلوبہ سوال کا جواب کتاب وسنت کی روشنی میں دے، اس سوال کے جواب کو اپنی ہوائے نفس کی تسکین کا ذریعہ نہ بنائے، حافظ زبیر صاحب سے ساحل عدیم کی بیان کردہ جھوٹی روایت کے متعلق پوچھا گیا جس کے جواب میں انہوں نے بس اتنا کہنا مناسب سمجھا جس کا خلاصہ یہ ہے: قرآن کی تفسیر یا دینی مسائل میں ساحل عدیم منکر اور من گھڑت روایتیں بغیر تحقیق کے بیان کر دیتے ہیں، اس کے بعد حافظ صاحب نے ساحل عدیم کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے، یعنی حافظ صاحب کے نزدیک موضوع اور من گھڑت روایت بیان کرنا عام بات ہے، اور اس جھوٹ کا بیان کرنے والا بھی اس قدر قابل گرفت نہیں ہے جتنا علما کرام ہیں.
بہر حال، سب سے پہلے ہم من گھڑت روایت بیان کرنے والوں کے متعلق سلف کا موقف دیکھتے ہیں، پھر آگے بات کریں گے.
اگر کسی کو پتا ہے کہ یہ روایت جھوٹی ہے اس کے با وجود وہ جان بوجھ کر اسے بیان کرتا ہے تو وہ کذاب جھوٹا ہے، اس کی ایک بھی روایت قبول نہیں کی جائے گی، اور جس کا مشغلہ ہی احادیث میں جان بوجھ کر جھوٹ بولنا ہو تو بعض علما نے ایسے شخص کو کافر کہا ہے، اور بعض نے واجب القتل گردانا ہے.
مان لیا جائے کہ احادیث رسول میں جان بوجھ کر جھوٹ بولنے والے نے توبہ کا اعلان کر دیا پھر بھی علما کہتے ہیں اس کی بیان کردہ روایت قبول نہیں کی جائے گی، امام ابو المظفر السمعانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جو ایک روایت میں بھی جھوٹ بولے اس کی بیان کردہ تمام روایتیں ناقابل اعتبار ہوں گی.
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((كَفَى بالمَرْءِ أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ)).
جو ہر سنی ہوئی بات (بلا تحقیق کو تاکید) بیان کرے وہ جھوٹا ہے.
بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((من حدث عني بحديث يرى أنه كذب فهو أحد الكاذبين)).
یعنی اگر کوئی ایسی حدیث بیان کر رہا جس کے متعلق اس کا غالب گمان یہی ہے کہ وہ حدیث جھوٹی ہے تو وہ شخص جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے.
مذکورہ دلائل اور اقوال علما کو مد نظر رکھیں تو خلاصہ یہی نکلتا ہے کہ حدیث کے معاملہ میں جھوٹ بولنا نہایت سنگین امر ہے، اور جھوٹ بولنے والے کی کوئی بھی حدیث قبول نہیں کی جائے گی، اور جب اس کی کوئی بھی حدیث قبول نہیں کی جائے گی تو دین کے متعلق کوئی گفتگو قبول کیسے کی جا سکتی ہے؟
کیونکہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب جھوٹ کی نسبت میں احتیاط نہیں کر پاتا وہ شخص عوام کے سامنے جھوٹ بولنے میں کیسے احتیاط کرے گا، اگر وہ شخص سچی توبہ کرلے پھر بھی دین کے متعلق اس کی باتیں قابل قبول نہیں ہوں گی.
لیکن حافظ زبیر صاحب نے جھوٹ بولنے والے بلکہ جھوٹ پھیلانے والے (گرچہ بلا قصد ہی کیوں نہ ہو) کو یہ کہہ کر پناہ عنایت کردی کہ دوسرے موضوعات پر وہ اچھا بولتے ہیں، میں نے خود سنا ہے، جبکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حدیث رسول کے دفاع میں رگ غیرت وحمیت جوش مارتی اور حافظ صاحب اس کے دجل وکذب کا شدت سے رد کرتے جیسا کہ سلف احادیث رسول میں جھوٹ بولنے والے پر کیا کرتے تھے، لیکن جب مقصود اپنے خود ساختہ منہج اور اپنے اساتذہ کا بچاؤ ہو تو اسی قسم کی الم گلم باتیں قلم سے نکلتی ہیں.
حافظ صاحب کا کہنا ہے: "کسی بھی داعی یا موٹیویشنل اسپیکر سے موٹیویشن ضرور لیں لیکن قرآن وحدیث کی بابت اس کی تحقیقات کو کراس چیک کر لیا کریں کہ ایسے لوگ قرآن مجید کی کسی آیت کی تفسیر میں یا حدیث کے بیان میں عموما فاش غلطی بھی کر جایا کرتے ہیں۔ البتہ جب رویوں، اخلاقیات اور انسانی نفسیات پر گفتگو کرتے ہیں تو ان کی وہ گفتگو عمدہ، قابل تحسین اور سماعت کے لائق ہوتی ہے”.
شاید حافظ صاحب کے نزدیک اخلاقیات اور انسانی نفسیات کے متعلق گفتگو کتاب وسنت میں نہیں ملتی، اس لئے قرآن و حدیث اور اخلاقیات ونفسیات کے درمیان حافظ صاحب فرق کے قائل ہیں.
حافظ صاحب! اخلاقیات کا وہ کون سا باب ہے جو کتاب وسنت میں موجود نہیں ہے، اگر اخلاقیات کی تمام باتیں کتاب وسنت میں موجود ہیں تو پھر ساحل عدیم جیسے لوگ اس میں بھی غلطی کریں گے اور جھوٹ کا سہارا لیں گے؟
تو پھر آپ کی یہ تفریق کیسے درست ہوئی کہ عوام ان سے کتاب وسنت کی بات نہ لے البتہ اخلاقیات وغیرہ کی بات سنے؟
اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اخلاقیات کے بعض ان پہلوؤں پر کتاب وسنت میں دلائل موجود نہیں ہیں جن پر ساحل عدیم جیسے لوگ گفتگو کرتے ہیں تو اس کا مطلب آپ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ اخلاقیات کے باب میں کتاب وسنت مکمل نہیں ہے؟
اور آپ نے داعی الی اللہ اور عالم دین میں بھی تفریق کی، آخر کس دلیل کی بنیاد پر؟
کیا داعی کیلئے کتاب وسنت کا علم ضروری نہیں؟ یا آپ کے نزدیک ایک داعی کا عالم ہونا ضروری نہیں؟ اگر معاملہ ایسا ہی ہے تب تو آپ کے فتوے کے مطابق ہر جاہل داعی ہو سکتا ہے، لیکن ہر عالم داعی نہیں ہو سکتا.
آپ نے کہا: علما پر تنقید کو زندقہ سے سے تعبیر کرنا انتہا ہے، نیز نہ علما کی مطلق تعریف کی جا سکتی ہے اور نہ ہی مطلقا ان کی تنقید درست ہے.
حافظ صاحب جب پورے علما کو نقد کا نشانہ بنایا جائے تو یقیناً یہ زندیقیت ہے، یوتھ کلب کی وائرل ویڈیو میں ایسا ہی کچھ پیغام دیا گیا تھا، نیز وہاں اسلامی شعائر کا تمسخر بھی اڑا گیا تھا، ہاں اگر کسی ایک یا دو عالم کو کوئی نشانہ بناتا ہے اور دیگر علما کی توقیر کرتا ہے تو اسے زندیقیت سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا، لیکن جب سارے کے سارے علما ہی ہدفِ تنقید بنائے جائیں تو یقیناً یہ زندیقیت ہوگی، کیونکہ حق موٹویشنل اسپیکر، سو کالڈ داعی اور کلب والوں کے پاس نہیں ہوگا، حق صرف اور صرف ان کے پاس ہوگا جو کتاب وسنت کا علم رکھتے ہیں، اور کتاب وسنت کا علم انہی کے پاس ہوگا جنہوں نے ان علوم کو باضابطہ طور پر علما سے سیکھا ہوگا، اس کیلئے وقت لگایا ہوگا، مختصر یہ کہ حق کتاب وسنت میں محصور ہے، اس لئے جو جس قدر کتاب وسنت کا علم رکھے گا وہ اسی قدر حق کے قریب ہوگا، اور حق کے قریب رہنے والے کو کالعدم قرار دینا زندیقیت نہیں تو اور کیا ہے؟
حافظ صاحب عجیب پیمانہ ہے آپ کا!! نبی پر جھوٹ بولنے والے کی تعریف کتنے کھل کر رہے ہیں، اور تمام علما پر نقد کرنے والوں پر جنہوں نے نقد کیا آپ انہیں انتہاپسند کہہ رہے ہیں.
حافظ زبیر صاحب نے کہا: "لہذا اب اس بات پر زور لگانے کا فائدہ نہیں کہ اس حدیث کی سند کمزور ہے۔ سند کمزور ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ بات بھی غلط ہو”.
حافظ صاحب! کسی حدیث کا معنی صحیح ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ نبی کی بات ہو گئی، یا اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف درست ٹھہری، اس لئے سند کی کمزوری پر زور دینے کا فائدہ یہ ہے کہ لوگ یہ سمجھ سکیں کہ ہر صحیح معنی والی بات نبی کی نہیں ہوتی، کاش کہ یہ نکتہ آپ سمجھ پاتے، لیکن بین السطور آپ نے بھی ضعیف حدیث کی نشر واشاعت کہ وکالت کر ہی دی.
حافظ زبیر صاحب نے کہا: "علماء کو اب علماء کی عزت واحترام پر وعظ جھاڑنے کی بجائے خود سے اپنا عمل اور کردار ایسا پیش کرنا ہو گا کہ لوگ خود سے ان کی عزت واحترام کرنا شروع کر دیں”۔
حافظ صاحب کیسی بے تکی اور سطحی باتیں کی ہے آپ نے؟
علما کی عزت واحترام پر وعظ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے، عوام کو علما کی عزت کرنے کی تلقین کی ہے، اگر آج علما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی سنت کو زندہ کر رہے ہیں تو آپ کو ان کا یہ عمل "وعظ جھاڑنا” لگتا ہے؟
واقعی جس کا تعلق احادیث رسول سے اور منہج سلف سے مضبوط نہ ہو وہ ایسی ہی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے.
حافظ زبیر صاحب نے کہا: "تو ہماری نظر میں معتدل رویہ یہی ہے کہ…….”
حافظ صاحب ہم اہل حدیثوں کے نزدیک کسی کی تعریف مسلکی بنیاد پر نہیں بلکہ کتاب وسنت کی بنیاد پر ہوتی ہے، اور ہمارے نزدیک حق پر وہی ہے جو کتاب وسنت کو منہج سلف کے مطابق سمجھتا ہو، عقائد صحیحہ کا حامل ہو، باطل اور اہل باطل پر رد کرتا ہو، بدعت اور اہل بدعت سے دوری اختیار کرتا ہو، البتہ آپ کے نزدیک حق مختلف مسالک میں بٹا ہوا ہے، ہر مسلک میں حق ہو سکتا ہے، جبکہ یہ بات کتاب وسنت اور اجماع امت کے خلاف ہے، کیونکہ حق تو صرف کتاب وسنت بفہم سلف امت میں محصور ہے، نیز حق کی پہچان کتاب وسنت کے دلائل سے ہوتی ہے نہ کہ فلاں مسلک کے علما سے؟؟
حافظ زبیر صاحب نے کہا: "ایک روایت کے مطابق جس میں تقفہ فی الدین یعنی دین کی گہری سوجھ بوجھ اور اچھے اخلاق جمع ہو جائیں تو اس میں نفاق نہیں ہو سکتا۔ تو علمائے حق وہ ہیں کہ جن میں یہ دونوں خلصتیں بیک وقت موجود ہوں”.
جس حدیث کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے وہ سنن ترمذی کی ہے، نیز اس حدیث سے اس شخص سے نفاق کی نفی ہوتی ہے جس میں یہ دو خصلتیں موجود ہوں، لیکن اس حدیث میں یہ کہاں موجود ہے کہ یہ دو خصلتیں علماء حق ہونے کی نشانی ہیں؟
بے محل استدلال اسی کو کہتے ہیں، ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ علما حق کی کئی نشانیاں ہیں ان میں سے یہ دونوں بھی ہے، لیکن علما کی حقانیت کو صرف انہی دونوں خصلت میں محصور کرنا کج فہمی کی دلیل ہے.
حافظ صاحب اگر کسی کے اندر مذکورہ دونوں صفتیں موجود ہوں لیکن وہ پکا بدعتی ہو تو کیا وہ بھی علما حق کی صف میں شامل ہوگا؟
علما حق علما ربانیین کو کہتے ہیں، جو کتاب وسنت میں درک رکھتے ہیں، عقائد صحیحہ کے ترجمان ہوتے ہیں، منہج سلف کے مطابق قرآن و حدیث کو سمجھتے اور سمجھاتے ہیں، خود بھی کتاب وسنت پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے ہیں، تقوی اور خشیت الہی سے ان کا قلب معمور ہوتا ہے.
حافظ زبیر صاحب کا کہنا ہے: "جو دین ہمیں سمجھ میں آرہا ہے ہم اسے بیان کر رہے ہیں، اور جو آپ کی سمجھ ہے آپ اسے بیان کرتے رہیں”.
ارے حافظ صاحب آپ اتنے بڑے بھی علامہ نہیں ہیں کہ دین کی سمجھ آپ سے لی جائے، آپ کی سمجھ بے لگام ہے اسے کتاب وسنت اور فہم سلف کی لگام لگائیں تب جاکر آپ کی سمجھ کا اعتبار ہوگا بصورت دیگر اس فہم کی کوئی اہمیت نہیں.
اور یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین اور ان کے بعد کے علما خوارج معتزلہ وغیرہ کے دین کی سمجھ کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے کیونکہ وہ اپنی سمجھ میں مطلق العنان تھے، جو ان کی سمجھ میں آتا تھا بیان کرتے تھے، اپنی سمجھ کو فہم سلف سے مقید نہیں کرتے تھے اس لئے وہ لوگ اور ان کی فہم نا قابل اعتبار ٹھہری.
اور رہی بات ہماری تو ہم ہر چیز میں کتاب وسنت اور فہم سلف کو مقدم کرتے ہیں، اپنی حسن فکر کا دعویٰ نہیں کرتے، اہل حدیث ہر مسئلے میں کتاب وسنت اور منہج سلف کو تلاشتے ہیں جبکہ آپ اور آپ جیسے لوگ ہر مسئلہ میں مولانا مودودی، ڈاکٹر اسرار اور ان کے ہم مسلک ومشرب سے آگے نہیں بڑھتے.