فضیلۃ الشيخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ
تلخیص و ترجمہ: حافظ علیم الدین یوسف
حیض کی تعریف: عورت کے رحم سے نکلنے والا ایک فطری خون ہے جو بلوغت کے وقت عورت کو مخصوص ایام میں عادتا جاری ہوتا ہے.
علما کا اتفاق ہے کہ حیض خواتین کے بلوغت کی علامت ہوتی ہے.
پہلا مسئلہ: حیض کس عمر میں آنا شروع ہوتا ہے؟
علماء کرام کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے البتہ زیادہ درست بات یہ ہے کہ: حیض کے شروع ہونے کی کوئی ابتدائی عمر نہیں ہے، بلکہ اس کا مدار خون نکلنے پر ہے چنانچہ جس عمر میں بھی حیض کا خون نکلتا ہے تو اس پر حیض کا حکم لگے گا.
لہٰذا یہ بڑا اہم قاعدہ ہے کہ: حیض کے مسائل کا دار ومدار حیض کے خون کے نکلنے پر ہے، چنانچہ جب مخصوص نوعیت کا خون نظر آئے تو حیض کا حکم لگے گا ورنہ نہیں. (1)
دوسرا مسئلہ: اس بات پر علما کا اتفاق ہے کہ بڑی عمر کی عورتوں کو حیض نہیں آتا ہے جس کی دلیل اللہ رب العالمین کا یہ فرمان ہے: "واللائي يئسن من المحيض” [الطلاق: 4] اور وہ عورتیں جنہیں حیض آنے کی امید ختم ہوچکی ہو.
البتہ عمر کی تحدید میں اختلاف ہے لیکن یہاں بھی زیادہ درست بات یہی ہے کہ: جب تک معروف صفات کا حامل خون نکلتا رہے تب تک وہ حیض کا خون شمار کیا جائے گا خواہ عورت50، 55، 60 کسی بھی عمر کو پہنچ جائے.
تیسرا مسئلہ: حیض کے مشہور مسائل میں سے ایک مسئلہ حاملہ عورتوں کو حیض آنے کا مسئلہ ہے.
اس مسئلہ میں بھی علماء کرام کی دو رائے ہیں البتہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ: عموماً حاملہ خواتین کو حیض نہیں آتا البتہ بسا اوقات بعض عورتوں کو حالت حمل میں بھی حیض آ سکتا ہے، لہذا اگر معروف صفات کا حامل خون نکلے تو وہ حیض کا خون ہی شمار کیا جائے گا اور احکام حیض بھی لاگو ہونگے.
چونکہ مہینہ کے چند ایام خواتین حالت حیض میں ہوتی ہیں جبکہ باقی ایام پاکی کے ہوتے ہیں لہذا یہ جاننا ضروری ہے کہ: حیض کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ کتنی مدت ہے؟
حیض کی سب سے کم مدت کیا ہے؟
زیادہ درست بات یہی ہے کہ حیض کی کم سے کم کوئی مدت متعین نہیں ہے، لہذا اگر کسی کو ہر مہینہ صرف ایک گھنٹہ حیض آتا ہے پھر رک جاتا ہے تو جتنی دیر تک خون نکلتا ہے اتنی ہی دیر تک حیض کا اعتبار کیا جائے گا.
اس کی وجہ یہ ہے کہ حیض کی کم سے کم مدت کی تعیین کے سلسلے میں کوئی دلیل وارد نہیں ہوئی ہے اور اگر ایسا کچھ ہوتا تو اللہ رب العالمین اپنی کتاب میں یا اپنے رسول ﷺ کے ذریعہ اس کی خبر دے دیتا، لہذا یہ نا ممکن بات ہے کہ حیض کی اقل مدت متعین ہو نیز اسے جاننے کی اتنی شدید ضرورت بھی ہو مگر اس کے باوجود اللہ رب العالمین ہمیں اس کے بارے میں خبر نہ دیں.
اور جیسا کہ پہلے بیان آیا کہ: حیض کے احکام کا دار ومدار خون کے نکلنے پر ہے، اگر خون نکلتا ہے تو حیض کے احکام لاگو کیے جائیں گے ورنہ نہیں.
حیض زیادہ سے زیادہ کتنے دنوں تک آ سکتا ہے؟
اس مسئلہ میں بھی زیادہ درست بات یہی ہے کہ: حیض کی اکثر مدت کی کوئی تعیین شریعت میں موجود نہیں ہے، لہذا ممکن ہے کہ کسی عورت کو 15، کسی کو 16 اور کسی کو 17 دنوں تک حیض آئے.
البتہ ایک اہم قاعدہ یاد رکھیں کہ: پورا مکمل مہینہ کسی عورت کو حیض نہیں آئے گا، کیوں کہ حیض کا خون نکلتا ہے پھر رک جاتا ہے لہذا اگر کسی کو پورا مہینہ خون آ رہا ہے تو پھر وہ استحاضہ کا خون ہوگا.
اسی طرح مہینہ کے اکثر ایام حیض نہیں آ سکتا، کیوں کہ اہل علم کے نزدیک ایک قاعدہ ہے کہ: "اگر کوئی چیز کسی چیز کے بہت قریب ہے تو وہ اسی کا حکم لے لیتی ہے”.
نوٹ: عام طور سے اکثر عورتوں کو چھ یا سات دنوں تک حیض آتا ہے البتہ ہر عورت اپنے ایام حیض کے متعلق زیادہ بہتر جانتی ہے اور جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ حیض کا دار ومدار خون کے نکلنے اور رکنے پر ہے.
_________________
(1) اس قاعدے کی دلیل نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ہے: "إن دم الحيض دم أسود يعرف، فإذا كان ذلك فأمسكي عن الصلاة وإذا كان الآخر فتوضئي وصلي”. (سنن نسائي: 216).
ترجمہ: یقینا حیض کا خون سیاہ رنگت سے پہچانا جاتا ہے لہذا جب اس طرح کا خون آئے تو نماز سے رک جاؤ اور اگر دوسرا ہو تو وضو کرو اور نماز پڑھو.
وجہ استدلال: نبی اکرم ﷺ نے یہاں معروف صفات کا حامل خون نکلنے پر حکم کی بنیاد رکھی ہے. (از: مترجم).