ماہِ رمضان کے چھوٹے ہوئے روزے کی قضا کو شوال کے روزے پر مقدم کیا جائے یا پھر پہلے شوال کے روزے رکھے جائیں؟
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ)) (1).
ترجمہ: جو ماہ رمضان کا روزہ رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے اسے پوری زندگی روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا.
قارئین کرام: شریعت نے شوال کے روزے کی فضیلت کو ماہ رمضان کے روزے سے جوڑا ہے وہ بایں طور کہ ماہ رمضان کے بعد ان چھ روزوں کے رکھنے سے پورے سال روزہ رکھنے کا ثواب ملتا ہے، اس فضیلت کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب ماہ رمضان کے روزے کی تکمیل کے بعد شوال کے روزے رکھے جائیں، کیوں کہ ماہ رمضان کے روزے دس مہینے کے روزے کے برابر ہیں، اور شوال کے چھ روزے دو مہینے کے برابر ہوئے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ فَشَهْرٌ بِعَشَرَةِ أَشْهُرٍ، وَصِيَامُ سِتَّةِ أَيَّامٍ بَعْدَ الفِطْرِ فَذَلِكَ تَمَامُ صِيَامِ السَّنَةِ)) (2).
ترجمہ: جو ماہ رمضان کا روزہ رکھے تو ایک مہینہ دس ماہ کے برابر ہوتا ہے، اور عید الفطر کے بعد شوال کے چھ روزے (دو ماہ کے برابر ہوتے ہیں) اس طرح سے پورے ایک سام مکمل ہو جاتے ہیں.
اگر کسی کے ماہ رمضان کے بعض روزے فوت ہوجاتے ہیں تو گویا کہ ان کا ماہ رمضان دس مہینے کے برابر نہیں ہوا چنانچہ جب تک وہ چھوٹے ہوئے روزوں کو مکمل نہ کرلیں اس وقت تک شوال کے روزے کی فضیلت ممکن نہیں.
اور یہ بات بھی جاننا بہت اہم ہے کہ انسان سے فرائض کے بارے میں باز پرس ہوگی نوافل کے بارے میں نہیں، اس لئے اللہ رب العالمین کا حق پہلے ادا کیا جانا چاہئے پھر اس کے بعد نوافل وغیرہ کا اہتمام ہونا چاہئے،
حدیث قدسی میں اللہ رب العالمین فرماتا ہے کہ: ((وما تقرب إلي عبدي بشيء أحب إلي مما افترضته عليه))(3).
ترجمہ: جن چیزوں کے ذریعہ بندہ میرا تقرب حاصل کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ محبوب شی میرے نزدیک فرائض ہیں.
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ فرائض نوافل پر مقدم ہیں، اور جس قدر جلدی ہو پہلے فرائض کی ادائیگی کرنی چاہیے.
اس سلسلے میں سلف صالحین کی رائے بھی یہی ہے کہ پہلے فرض روزوں کی قضا کی جائے پھر نوافل کا اہتمام کیا جائے، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ میرے ذمے رمضان کے کچھ روزے باقی ہیں اور میں عشرہ ذی الحجہ کے روزے رکھنا چاہتا ہوں (کیا ایسا کرنا میرے لئے درست ہے؟)، تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: نہیں، بلکہ پہلے اللہ کا حق ادا کرو یعنی ماہ رمضان میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرو پھر اس کے بعد جتنے نفلی روزے رکھنا چاہو رکھو(4).
اسی طرح سعید بن جبیر (5)، اور عطاء بن ابی رباح (6) رحمہما اللہ کا بھی فتوی موجود ہے کہ پہلے فرض روزے کی قضا کی جائے پھر نفلی روزے رکھے جائیں.
قارئین کرام: مذکورہ آثار سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سلف کرام فرض روزے کی قضا کو نفلی روزے پر مقدم سمجھتے تھے، جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا فتویٰ گذرا جس میں انہوں نے پہلے فرض روزے کی قضا کا حکم دیا اور بعد میں نوافل کا اہتمام کرنے کیلئے کہا، یہاں پر غور کرنے کا مقام ہے کہ عشرہ ذی الحجہ کے روزوں کا ماہ رمضان کے روزے سے کچھ بھی تعلق نہیں ہے، پھر بھی سلف نے پہلے فرض روزوں کی قضا کا حکم دیا تو پھر شوال کے روزے کا تو ماہ رمضان سے براہ راست تعلق ہے، اور شوال کے چھ روزوں کا ثواب ماہ رمضان کے روزوں کی تکمیل پر ہی منحصر ہے تو یہاں نفلی روزے کو فرض روزے پر مقدم کیسے کیا جا سکتا ہے؟
اگر کوئی یہ کہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کو تو ماہ شعبان میں قضا کرتی تھیں، جس پتا چلتا ہے کہ چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا میں تاخیر کی جا سکتی ہے.
یہ بات بالکل صحیح ہے کہ وہ رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کو تاخیر سے ماہ شعبان میں رکھا کرتی تھیں، لیکن انہوں نے اس کی وجہ بھی بتائی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی وجہ کر نہیں رکھ پاتی تھیں، البتہ ان کے اس عمل سے یہ استدلال کرنا بالکل درست نہیں کہ وہ نفلی روزے کو رمضان کی قضا پر مقدم کرتی تھیں.
اور یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہوگا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ نوافل روزے رکھتی رہی ہوں اور رمضان کی قضا کو مؤخر کرتی رہی ہوں کیوں کہ ایسی کوئی دلیل ان کے متعلق نہیں ملتی، جبکہ اس کے برعکس بعض صحابی کا اور تابعین کا موقف ہے کہ فرض کی ادائیگی نوافل سے پہلے کی جائے.
اس لئے کم از کم احتیاط کا یہی تقاضا ہے کہ پہلے رمضان المبارک میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کی جائے، اور پھر شوال کے چھ روزے رکھے جائیں.
_______________________________________________________________
(1) صحيح مسلم(١١٦٤).
(2) مسند أحمد (٢٢٤١٢)، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے «صحيح الترغيب» (١٠٠٧).
(3) صحيح البخاری (6137).
(4) سنن الکبری للبیہقی (8178).
(5) مصنف عبد الرزاق (7713).
(6) مصنف عبد الرازق (7716).