بعض احباب نےبعض احباب نے نقدی فطرہ کے جواز کیلیے ایک دلیل یہ دی کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں غلہ بطور کرنسی دیا جاتا تھا اور بطور دلیل "حدیث مصراة” کو پیش کیا جس میں نبی اکرم ﷺ نے دودھ کے بدلے ایک صاع کھجور دینے کا حکم دیا۔
اس کے کئی جوابات ہیں :
پہلا جواب: اگر اس حدیث میں دودھ کے بدلے کھجور دینے کے حکم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ "غلہ زمانۂ نبوی میں بطور کرنسی استعمال ہوتا تھا” تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسألہ مصراۃ میں غلہ کی تمام انواع بطور کرنسی دی جا سکتی تھیں۔ کیوں کہ فقہاء کہتے ہیں “وأنواع الأجناس جنس” یعنی ہر جنس کی الگ الگ تمام انواع ایک ہی جنس سمجھی جائیں گی، لہذا ایسی صورت میں کھجور، جو، گندم یا غلہ کی کوئی بھی قسم دی جا سکتی تھی، کیونکہ معلل نے علت، غلہ کا کرنسی ہونا قرار دیا ہے۔
مذکورہ قیاس کا تقاضہ ہے کہ صورت مذکورہ میں "بطور کرنسی دیے جانے والے غلوں ” میں سے کوئی بھی غلہ دینا جائز تھا، کیونکہ سب میں ایک جامع اور مشترک علت اس کا کرنسی ہونا ہے۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص دودھ کے بدلےکھجور کی جگہ گندم دے تو کیا ایسا کرنا جائز ہوگا؟
قیاس کرنے والے کے قول کی بنیاد پر ایسا کرنا جائز ہوگا، جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔چنانچہ فرمایا کہ: اگر اسے (بکری) واپس کی تو اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی واپس کرے گا، گندم نہیں دے گا۔ [سنن ابن ماجه (2/ 753)]
بہر حال یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ کھجور دینے کی علت یہ ہر گز نہ تھی کہ اس کا استعمال بطور کرنسی ہوتا تھا، جس کا اقرار خود احناف نے بھی کیا ہے جیسا کہ جواب نمبر ۲ میں اس کا بیان آ رہا ہے۔
دوسرا جواب: مسألہ مصراۃ کے سلسلے میں اصول الشاشی کے محشی لکھتے ہیں کہ: (ہمارے اصحاب نے حدیث ابو ہریرہ کو اس لیے رد کر دیا کہ ) وہ ہر اعتبار سے قیاس کے مخالف تھی۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس بات پر اجماع ہے کہ اگر کسی نے کسی پر زیادتی کرتے ہوئے اس کی کوئی شیء تلف کی ہے تو اس کا جرمانہ دو میں سے کسی ایک طریقہ سے لیا جاتا ہے:
(أ) اگر اس شیء کى کوئی مثل ہے جو ہو بہو اسی کی طرح ہے تو زیادتی کرنے والے پر واجب ہے کہ وہ اس مثل سے اس کی بھر پائی کرے، اسے فقہی اصطلاح میں مثل صوری کہتے ہیں۔
(ب) اور اگر اس چیز کى ہو بہو مثل موجود نہ تو پھر قیمت ادا کریں گے۔ اور اسے فقہی اصطلاح میں مثل معنوی کہتے ہیں۔
اور جہاں تک اس (مسئلہ) میں کھجور دینے کی بات ہے تو وہ نہ ہی صورت میں دودھ کے مثل ہے اور نہ معنوی اعتبار سے اس کے مثل ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے اصحاب نے اس حدیث کو رد کر دیا ہے۔ (أصول الشاشي وبهامشه عمدة الحواشي: ص،١٧٥)
غور کریں کہ حنفیہ خود اقرار کر رہے ہیں کہ حدیث کو رد کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کھجور بطور کرنسی استعمال نہیں ہوتا، کیونکہ اگر وہ بطور کرنسی استعمال ہوتا تو مثل معنوی میں داخل ہوجاتا اور اگر مثل معنوی میں داخل ہوتا تو پھر حدیث کو قیاس سے رد کرنا چہ معنی دارد؟ فيا للعجب!
واضح ہو کہ بعض روایات میں "صاعا من تمر” کے بجائے "صاعا من طعام” اور "صاعا من بر” کے الفاظ بھی آئے ہیں، مگر "صاعا من تمر” والی روایت کئی ایک وجوہات کی بنا پر راجح ہے:
- "صاعا من تمر” والی روایات میں کوئی اختلاف نہیں البتہ "صاعا من طعام” والی روایت کے الفاظ میں اختلاف ہے، کہیں مطلق طعام کا لفظ وارد ہوا ہے تو کہیں"صاعا من بر” کا لفظ آیا ہے.
- اکثر روایات "صاعا من تمر” کے لفظ کے ساتھ وارد ہوئی ہیں جبکہ "صاعا من طعام” کے لفظ سے چند ایک روایات ہی منقول ہیں، جیسا کہ امام بخاری اور ابن اثیر رحمہما اللہ نے ذکر کیا ہے. (صحيح البخاري: 2148، جامع الأصول: 1/499)
- "صاعا من طعام” کے الفاظ صرف ابن سیرین رحمہ اللہ سے منقول ہیں، اور یہ واضح ہو کہ ابن سیرین رحمہ اللہ سے مروی روایت میں اختلاف ہے، چنانچہ بعض راویوں نے "صاعا من طعام” [(صحيح مسلم: 1524) (25)] اور بعض دوسرے راویوں نے "صاعا من تمر” [(صحيح مسلم: 1524 (26)] کے الفاظ بیان کیے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ "صاعا من تمر” کا لفظ ہی ثابت ہے. جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے . (صحيح البخاري: 2148).
نوٹ:"صاعا من بر” کا لفظ مسند البزار [9971]میں واقع ہے لیکن اس کی سند میں حماد بن الجعد الھذلی نامی راوی ضعیف ہے.
بہر حال مذکورہ بالا امور سے یہ ثابت ہوا کہ ثابت شدہ لفظ "صاعا من تمر” ہی ہے اورحدیث میں اضطراب نہیں ہے اور حدیث مصراۃ کو رد کرنے والوں کی طرف سے اضطراب کا دعویٰ بے بنیاد ہے.
نیز یہ بھی واضح ہو کہ "صاعا من تمر” کا تعلق ضمان سے ہے ہی نہیں بلکہ یہ صلح کی ایک رقم ہےجو خریدار کو ایک صاع کھجور کی شکل میں دیا جانا ہے خواہ دودھ ایک صاع سے زیادہ قیمت کا ہو یا ایک صاع سے کم.
تیسرا جواب: جب یہ واضح ہو گیا کہ زمانۂ نبوی میں غلہ بطور کرنسی استعمال نہیں ہوتا تھا تو اب ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں کسی کرنسی کا وجود تھا؟
جواب یہ ہے کہ جی ہاں! یقینا اس کا وجود تھا اور خرید و فروخت میں اسی کا اعتبار کیا جاتا تھا۔
- جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ المُخَابَرَةِ، وَالمُحَاقَلَةِ، وَعَنِ المُزَابَنَةِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا، وَأَنْ لاَ تُبَاعَ إِلَّا بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ، إِلَّا العَرَايَا». [صحيح البخاري (3/ 115)]
جابر رضی اللہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مخابرہ، محاقلہ، مزابنہ اور درخت پر لگے ہوئے پھل کو اس وقت تک فروخت کرنے سے منع کیا جب تک کہ وہ پک نہ جائے۔ اور ان چیزوں کی خرید و فروخت دینار و درہم کے علاوہ کسی اور چیز سے کرنے سے منع کیا سوائے بیع عرایا کے۔
امام ابن بطال رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں کہتے ہیں کہ:
- "بيع التمر على رءوس النخل إذا بدا صلاحه بالذهب والفضة لا خلاف بين الأمة فى جوازه، وكذلك يجوز بيعها بالعروض قياسا على الدنانير والدراهم وإنما خص عليه السلام الدنانير والدراهم فى هذا الحديث؛ لأنهما جل ما يتعامل الناس به”. [شرح صحيح البخارى لابن بطال (6/ 09-308)]
درخت پر لگے ہوئے کھجور کو پکنے کے بعد (اسی حالت میں) سونے اور چاندی کے بدلے فروخت کرنے کے سلسلے میں امت کا اجماع ہے، اسی طرح اس کو عروض (درہم و دینار کے علاوہ کسی اور چیز) کے بدلے بیچنا بھی جائز ہوگا دینار و درہم پر قیاس کرتے ہوئے۔ اور نبی اکرم ﷺ نے اس حدیث میں دینار و درہم کو اس لیے خاص کیا کیوں کہ عام طور سے لوگ انہیں دونوں کے ذریعہ خرید و فروخت کرتے تھے۔
حدیث رسول ﷺ اور امام ابن بطال رحمہ اللہ کی تشریح سے یہ ثابت ہوا کہ:
(أ) نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں دینار و درہم بطور کرنسی استعمال ہوتے تھے ۔
(ب) ابن بطال رحمہ اللہ کے قول سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ عام طور سے لوگ انہیں دو چیزوں کے بدلے خرید و فروخت کرتے تھے۔
(ت) زمانہ نبوی میں یہ دونوں کرنسیاں کافی معروف اور عام طور پر مستعمل تھیں۔
(ث) امام ابن بطال رحمہ اللہ کے قول سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بعض دوسری اشیاء کو بھی چیزوں کی خرید و فروخت کیلیے دینار و درہم پر قیاس کرتے ہوئے بطور متبادل استعمال کرنا جائز ہے۔
(ج) امام ابن بطال رحمہ اللہ کے اس قیاس سے یہ ثابت ہوا کہ زر مبادلہ کے طور پر استعمال کی جانے والی چیزیں دو قسم پر ہیں:
(1) ایک وہ جو اس قیاس کیلیے اصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور وہ دینار و درہم ہے۔
(2) دوسری وہ جسے اس اصل پر قیاس کیا گیا ہے، یعنی وہ چیزیں جن سے بعض حضرات اپنی آسانی کی خاطر دوسری چیزیں خریدتے ہیں۔ اس کی دلیل مذکورہ بالا حدیث ہے جس میں نبی اکرم ﷺ نے بیع عرایا کی صورت میں درختوں پر لگی ہوئی کھجور کو گھر میں موجود کھجور کے بدلے میں بعض شروط کے ساتھ جائز قرار دیا۔
ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی فتح الباری میں امام ابن بطال رحمہ اللہ کے اس قول کو نقل کیا ہے۔ [فتح الباري لابن حجر (4/ 387)]
(ح) امام ابن بطال رحمہ اللہ کے قول سے ایک اہم فائدہ یہ نکلا کہ اگر زمانہ نبوی میں غلہ ہی بطور کرنسی مستعمل تھا اور دینار و درہم کے ذریعہ نادرا ہی خرید و فروخت ہوتی تو پھر غلہ ہی اصل کرنسی ہوئی اور باقی دوسری کرنسیوں کو زمانہ نبوی میں موجود کرنسی یعنی غلہ پر قیاس کریں گے۔
مگر یہاں تو معاملہ بالکل بر عکس ہے۔ جو جو بقول قائل اصل کرنسی ہے، امام ابن بطال اور حافظ ابن حجر رحمہما اللہ کے نزدیک وہ فرع بن گئی اور جس کا وجود نہ کے برابر تھا بلکہ نقدی فطری کے قائلین کے مطابق جس کا استعمال بطور کرنسی نہیں ہوتا تھا ، وہ ان دونوں علماء کے نزدیک اصل بن گئی۔
جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ زمانہ نبوی میں دینار و درہم کی شکل میں کرنسی کا وجود عام تھا تو اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر نبی اکرم ﷺ نے صدقۂ فطر میں جب بعض اجناس کو مقرر کیا تو ان دونوں کرنسیوں کا ذکر کیوں نہیں کیا؟؟؟
تو جواب یہ ہے کہ چونکہ صدقۂ فطر میں دو چیزیں مطلوب ہیں:
- ایک صاع وزن.
- جنس طعام یعنی اناج.
یہی وجہ ہے کہ جب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے وزن کی مقدار کم کی تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان کی تقویم پر نکیر کی اور ایک صاع ہمیشہ نکالنے کا عزم کیا.اور معلوم ہے کہ صدقۂ فطر میں قیمت نکالنے سے ادائیگی نہ ہی وزن کی صورت میں ہوگی اور نہ جنس میں ہی موافقت ہوگی۔ اور یہ حدیث رسول ﷺ کی صریح مخالفت ہے۔
لہذا اس حدیث سے یہ استدلال بالکل بے جا ہے کہ صدقۂ فطر مذکورہ اجناس سے نکالنے کا حکم اس لیے دیا گیا، کیونکہ اس زمانے میں یہی چیزیں بطور کرنسی استعمال ہوتی تھیں، اور اس کی دو وجہ ہے:
(أ) ہم نے ادلہ کے ذریعہ یہ ثابت کیا کہ اس زمانے میں غلہ بطور کرنسی ہر گز مستعمل نہیں تھا بلکہ دینار و درہم ہی اس زمانے کی کرنسیاں تھیں ۔
(ب) نبی اکرم ﷺ نے کثیر الاستعمال کرنسی کو چھوڑ کر اناج نکالنے کا حکم دیا جو اس امر کی واضح اور یقینی دلیل ہے کہ صدقۂ فطر میں قیمت نکالنی جائز نہیں ہے۔
