لکھنے کی آزادی نے ہر قلم رکھنے والے کو صاحب قلم اور بولنے کی آزادی نے ہر شور کرنے والے کو خطیب بنا دیا ہے، جس کا سب زیادہ نقصان فنونِ شرعیہ کو ہو رہا ہے کہ ہر شخص آزادی اظہارِ رائے کے نام پر دین حنیف کی من مانی تعبیر کرتا ہے. دوسری جانب دور جدید کے قدم سے قدم ملا کر چلنے کی ہوس نے لوگوں کو اتنا اندھا کر دیا ہے کہ عروۃ الوثقی نبوی تفسیر انہیں فرسودہ خیالات کا مجموعہ لگتی ہے، مغرب کی ظاہری چمک دمک نے لوگوں کو اس قدر مرعوب کیا کہ سلف کی راہ انہیں تنگ بلکہ تاریک نظر آنے لگی، نتیجتاً بعض مدعیان اسلام یہ فرمانے لگے کہ: ہمیں اسلام کی ایک جدید شکل پیش کرنی ہوگی.
یہ در اصل اسلام کی نئی شکل نہیں بلکہ نیا دین پیش کرنے کا ایک ڈرامہ تھا جسے بعض مغرب نواز لوگوں نے اسٹیج کیا تھا، ڈھکے چھپے لفظوں میں یہ بتانا مقصود تھا کہ نبی اکرم ﷺ کا لایا ہوا دین ہمارے اس زمانے کیلیے ناکافی ہے.
پھر آسمان سے نازل شدہ عقائد کے مقابلے میں زمین میں پیدا ہونے والے عقائد کو رواج دیا گیا اور یہ باور کرایا گیا کہ یہی منزل من اللہ ہے.
اس قسم کے لوگ آئے دن، دین حنیف کی حقیقی شکل مسخ کرنے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں، وقتاً فوقتاً نئے نئے شگوفے چھوڑ کر شریعت میں تحریف کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ "انسانی افکار و خیالات” پر مشتمل ایک نیا دین سامنے آتا ہے جو قرآن کی صریح آیات اور احادیث صحیحہ کے مخالف ہوتا ہے.
چند روز قبل ایک شخص کا انتقال ہوا "عامله الله بما يستحق” (اللہ اسے اس کے عقائد واعمال کے مطابق بدلہ دے)، جس نے ایسے ایسے عقائد ایجاد کیے جو قرآن کی آیات اور احادیث صحیحہ کے صریح مخالف تھے، جس نے زندگی باطل عقائد کی ترویج میں گزاری، جس کی تحریروں نے کئی سادہ لوح مسلمانوں کے دلوں صحیح عقیدہ کو مردہ کر کے باطل عقائد کا بیج بویا، جس نے اپنے قلم کی سیاہی سے عقائد باطلہ کے شجر مسموم کی آبیاری کی اور جس کی گمراہیوں پر علماء حق نے رد لکھا آج اس کی موت پر لوگوں نے علی الإعلان ثنائیہ کلمات لکھے اور تعریف و توصیف اور توقیر و احترام میں رطب اللسان نظر آئے.
ہمارا سوال ہے کہ: کیا کسی سلف نے کسی ایسے شخص کی موت پر جو بدعت کا داعی ہو بلکہ اہل البدع کے بڑوں میں اس کا شمار کیا جاتا ہو، افسوس کا اظہار کیا ہے؟؟
کیا ایسے شخص کی موت پر علی الإعلان ترحم کرنا درست ہے؟؟؟
کیا ایسے شخص کے تعلق سے تعریف و توصیف کے کلمات کہنا سلف صالحین کا شیوہ رہا ہے؟
سلف صالحین کے اقوال و اعمال میں ان سوالات کے جوابات دیکھتے ہیں:
بدعتی کی موت پر خوشی کا اظہار:
امام دارمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: اس کی موت پر (بشر المریسی کی موت پر) علماء و فقہاء اور عوام الناس تمام لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا اور اللہ رب العالمین کا شکریہ ادا کیا. (نقض الإمام أبي سعيد عثمان بن سعيد على المريسي الجهمي العنيد فيما افترى على الله عز وجل من التوحيد: 1/69)
بشر بن الحارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: بشر المریسی کے موت کی خبر مجھے بازار میں ملی، اگر وہ جگہ (بازار) شہرت کی نہ ہوتی تو میں اس جگہ سجدہ شکر ادا کرتا، اس کو موت دینے پر میں اللہ رب العالمین کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں. (نقض الإمام أبي سعيد عثمان بن سعيد على المريسي الجهمي العنيد فيما افترى على الله عز وجل من التوحيد: 1/69)
بدعتی کی تعظیم:
امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے کسی بدعتی کی توقیر کی اس نے اسلام کو ڈھانے پر مدد کی.
امام شاطبى رحمہ اللہ اس اثر کی شرح میں فرماتے ہیں: بدعتی کی تعظیم و توقیر سے دو طرح کا شر پھیل سکتا ہے اور وہ دونوں اسلام کے ڈھانے کا ذریعہ بن سکتا ہے:
1. ان پڑھ عوام جب یہ تعظیم و توقیر دیکھیں گے تو مبتدع کو بہتر اور اچھے لوگوں میں شمار کریں گے، اور یہ سمجھیں گے یہ (مبتدع) دوسروں سے بہتر راستے پر ہے، لہذا ایسا کرنا انہیں اہل سنت کی اتباع سے ہٹا کر (مبتدع کی تعظیم و توقیر کرنا عوام الناس کو) اس شخص کی بدعت کی اتباع تک لے جائے گا.
2. بدعتی کی بدعت کے سبب تعظیم و توقیر اسے ہر چیز میں بدعت ایجاد کرنے پر ابھارے گی.
بہر حال؛ بدعتیں زندہ اور سنتیں مردہ ہونگیں، اور بعینہ یہی اسلام کا انہدام ہے. (الإعتصام للشاطبي: 1/ 151-152)
بدعتی کی تعریف کرنا:
رافع ابن اشرس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ومن عقوبة الفاسق المبتدع أن لا تذكر محاسنه”.
فاسق بدعتی کی سزا یہ ہے کہ اس کے محاسن اور اس کی خوبیاں بیان نہ کی جائیں. (الكفاية في علم الرواية: 117)
علامہ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ جو شخص بدعتیوں کی تعریف اور مدح بیان کرتا ہے کیا وہ ان میں سے ہی شمار کیا جائے گا؟
سماحۃ الشیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: ہاں! اس میں کوئی شک نہیں، جو کوئی بھی ان. کہ تعریف کرتا ہے وہ ان کی طرف دعوت دیتا ہے اور ان کے دعاۃ میں سے ہے، نسأل الله العافية. (https://youtu.be/uFptIAmw5RM)
علامہ صالح الفوزان حفظہ اللہ سے اس بابت سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ: بدعتی کی تعظیم و توقیر اور اس کی مدھ و ثنا نہیں کی جائے گی کیونکہ ایسا کرنے سے اس کی بدعت رواج پائے گی.
رہا یہ سوال کہ ان کے پاس حسنات بھی ہوتے ہیں تو یہ ان کی مدح کے جواز کا سبب نہیں بن سکتا، کیونکہ قاعدہ ہے: شر کو دور کرنا بھلائی کے حصول کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے، نیز ایسا کرنے سے تو پھر کوئی گمراہ یا بدعتی باقی ہی نہیں رہے گا. (ظاهرة التبديع والتفسيق والتكفير وضوابطها: 54-55-56، ترجمہ مع تلخیص)
شیخ صالح آل الشیخ حفظہ اللہ نے بدعتی كى خوبیوں اور اچھائیوں کے بیان کرنے کے مسئلہ پر مفصل گفتگو فرمائی ہے جس کا خلاصہ ذيل میں پیش کیا جا رہا ہے:
اہل بدعت کے تعلق سے سلف کا طریقہ یہی ہے کہ: ان کی ہم نشینی سے اجتناب کیا جائے گا، ان سے ان کے مقالات اور ان کے اعمال سے تحذیر کی جائے گی، ان کی تعریف نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ رد کرنے کا مقام ہے اور چونکہ عوام الناس کے درمیان بدعتی کی تعریف کرنا اس کے متبعین کو اسکی اتباع پر ابھارنا ہے لہذا بدعتی کی تعریف کرنا اس کی بدعت کی طرف لوگوں کی راہنمائی کرنا ہے.
اہل بدعت کے تعلق سے علماء کی گفتگو دو صورتوں پر مشتمل ہوتی ہیں:
1. یا تو ان پر رد کرنا اور ان سے تحذیر کرنا مقصود ہوتا ہے لہذا ایسی صورت میں ان کی تعریف کرنا مناسب نہیں، اور اصل تو یہی ہے کہ مبتدع تعریف کا مستحق نہیں ہے، لہذا جب اس پر رد اور اس سے تحذير کرنا مقصود ہو تو اس کی اور اس کے ہم مثل اشخاص کی تعریف نہیں کی جائے گی.
2. اس کے عقیدہ و اعمال کا موازنہ کرنا مقصود ہو تو اچھائی اور برائی دونوں پہلو اجمالاً ذکر کریں گے.
(واضح ہو کہ) موازنہ والی صورت میں اجمال و اختصار سے کام لیں گے، اور عامۃ الناس کے سامنے ان پر رد کرنا اور ان سے تحذیر کرنا ہی نفع بخش ہے.(https://www.saleh.af.org.sa/ar/node/1468)
رؤساء اہل بدعت کی موت پر "رحمہ اللہ” کہنا:
اہل بدعت کے ائمہ و رؤساء کی موت پر علی الإعلان "رحمہ اللہ” کہنا مناسب نہیں ہے.
ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کسی کیلیے یہ جائز نہیں کہ کسی ایسے شخص کیلیے رحمت کی دعا کرے جس کی حالت کفر میں موت ہوئی اور نہ ہی علانیہ طور پر فسق و فجور کے مرتکب شخص کیلیے گرچہ اس کے اندر ایمان پایا جائے، جیسے کبیرہ گناہ کے مرتکب حضرات اور اگر کوئی ان جیسے لوگوں کی نماز جنازہ اس لیے نہیں پڑھتا ہے تا کہ دوسرے لوگ اس جیسے عمل سے بچیں تو یہ ایک بہتر کام ہے، اور اگر بدعتی پر نماز جنازہ ترک کر دی مگر سری طور پر اس کیلیے دعا کرتا رہا تا کہ دو مصلحتوں کو جمع کر سکے تو یہ صرف ایک مصلحت پر عمل کرنے کے مقابلے میں بہتر ہے. (الفتاوى الكبرى لابن تيمية: 5/ 360-361).
اس موضوع پر فضیلۃ الشیخ ازھر سینقرہ حفظہ اللہ کا تفصیلی جواب سماعت فرمائیں: (https://youtu.be/STJruyguY4k)
اور فضیلۃ الشیخ دکتور عبد العزيز الریس حفظہ اللہ کا جواب مندرجہ ذیل لنک پر ملاحظہ فرمائیں:
https://www.islamancient.com/%d9%85%d8%a7-%d8%ad%d9%83%d9%85-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b1%d8%ad%d9%85-%d8%b9%d9%84%d9%89-%d8%a3%d9%87%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%af%d8%b9-%d8%a7%d9%84%d9%85%d9%88%d8%aa%d9%89%d8%9f-%d9%88%d9%87%d9%84/


