ایک شخص نے سوال کیا کہ: کیا آپ کی اہل حدیثیت یا سلفیت اتنی کمزور ہے کہ کسی کی موت پر تعزیت کرنے سے وہ ختم ہو جاتی ہے؟
در اصل یہ سوال یا طنز منہج سلف سے ناواقفیت کی دلیل ہے، اگر سوال کرنے والے نے اہل بدعت کے تعلق سے چند ایک اقوال سلف بھی پڑھا ہوتا تو وہ ایسا سوال نہیں کرتے.
امام الانبیاء خاتم النبیین، سید المرسلین اپنے سجدے میں بکثرت یہ دعا کرتے: یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک وطاعتك.
اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو تو اپنے دین وبندگی پر ثابت رکھنا.
اور یہ دعا اس خوف سے کرتے کہ کہیں رب العالمین ان کے دل کو حق سے گمراہی کی طرف نہ پھیر دے.
کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ (نعوذ باللہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایمان اتنا کمزور تھا کہ وہ دل کے پھیرے جانے سے ڈرتے تھے ؟
عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ توریت کا نسخہ ہاتھ میں لئے پڑھ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر غصہ سے لال ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ فورا سنبھل گئے.
کیا یہ کہا جا سکتا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا ایمان اتنا کمزور تھا کہ توریت پڑھ لینے سے وہ بدل جاتے؟
ایوب السختیانی رحمہ اللہ بڑے جلیل القدر امام ہیں ان سے ایک بدعتی نے کہا کہ آپ سے ایک بات پوچھنی ہے، امام ایوب السختیانی رحمہ اللہ نے کہا کہ میں تمہیں آدھی بات بھی پوچھنے کی اجازت نہیں دے سکتا.
کیا ان کا ایمان بھی اتنا کمزور تھا کہ بدعتی کے سوال پوچھنے پر ختم ہو جاتا؟
بات در اصل یہ ہے کہ شبہات دل میں کب گھر کر جائیں یہ کسی کو پتہ نہیں چلتا، اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((من اتقى الشبهات فقد استبرأ لدينه وعرضه)).
جو شبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کی حفاظت کرلی.
اگر کوئی اپنی اہل حدیثیت اور اپنی سلفیت سے بے فکر ہے کہ اسے کچھ نہیں ہوگا تو وہ خواب غفلت میں ہے، کیوں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر وقت اپنے ایمان کا خوف ستاتا تھا تو پھر ہما شما چین کی نیند کیسے سو سکتے ہیں؟
حافظ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: انسان کا دل کمزور واقع ہوا ہے وہ شبہات کے حملے کو سہنے کا متحمل نہیں.
اس لئے شبہات سے دور رہنا چاہئے نہ کہ اس کے قریب جانا چاہئے، اور اگر کوئی ان شبہات کی دعوت دے اور اسے عین حق بتلائے، اور پھر مضبوط اہل حدیثیت کے بعض دعویدار اس بدعتی کے افکار کو پڑھنے کی دعوت دیں، ان کی تعریف کرکے لوگوں کی نگاہ میں عظمت ورفعت بڑھانے کی کوشش کریں تو پھر ایسی اہل حدیثیت سے تو اللہ ہی بچائے.
محترم قارئین ذیل میں دو واقعہ ملاحظہ فرمائیں اور دیکھیں کہ ایک چھوٹی سی غلطی نے کیسے بڑے بڑوں کے منہج کو غارت کرکے رکھ دیا.
عمران بن حطان اہل سنت والجماعت کے بڑے علماء میں سے تھے، صحابہ کرام کے شاگرد تھے، انہیں ایک لڑکی پسند آئی جو خوارج کے منہج پر تھی، عمران بن حطان نے کہا کہ میں اس سے شادی کرکے اسے اہل سنت میں تبدیل کردوں گا، لیکن شادی کے بعد عمران بن حطان کو اس خارجی عورت نے غالی قسم کا خارجی بنا دیا، اور وہ ایسا خارجی بنا کہ علی رضی اللہ عنہ کے قاتل کی تعریف میں قصیدے پڑھنے لگا.
اس واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ منہج تبدیل ہونے میں وقت نہیں لگتا، ایمان، عقیدہ اور منہج کے سلسلے میں خود اعتمادی بڑی گھاتک ہو سکتی ہے.
اسی طرح امام دارقطنی ایک مرتبہ اشاعرہ کے امام باقلانی سے بازار میں ملے اور ان کے سر پر ایک بوسہ دیا، یہی ایک بوسہ پورے ملکِ مغرب میں اشعریت کے پھیلنے کا سبب بن گیا، کیوں کہ لوگوں نے یہ سمجھا کہ امام دارقطنی جیسے عالم جب باقلانی کو بوسہ دے رہے ہیں اس کا مطلب باقلانی کا عقیدہ ومنہج درست ہے، اور اس طرح حسن ظن کی بنیاد پر لوگوں نے اشعری مذہب کو گلے لگا لیا.
کیا یہاں پر بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں کی سلفیت اور اہل حدیثیت اتنی کمزور تھی کہ ایک بوسہ بھی نہیں سہہ سکی؟
سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ کس کی اہل حدیثیت اور سلفیت مضبوط ہے اور کس کی کمزور یہ رب کے سوا کوئی نہیں جانتا، خود اپنا تزکیہ کرنا فرمان الہی کے مخالف ہے: لا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقی.
دوسری بات: بعض اہل حدیث علماء اور طلاب علم مولانا وحید الدین خان کی وفات پر ان کی تعریف میں رطب اللسان رہے، خال خال ہی کسی نے ان کے گمراہ کن نظریات کی طرف اشارہ کرکے امت کو یہ پیغام دیا کہ ان کی وفات پر تعزیت کے چند کلمات کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حق پر تھے، بلکہ وہ باطل عقائد ونظریات کے حامل تھے، بعض نظریات تو ایسے تھے جو نواقض اسلام کے زمرے میں آتے ہیں.
لیکن اس کے برعکس بعض اہل حدیث طلاب علم اور بعض علماء انہیں مجدد اور مفکر ملت باور کرانے میں لگے رہے، اور ان کے افکار کو پڑھنے کی دعوت بھی دیتے نظر آئے.
قارئین کرام: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان پر خوف کھاتے ہوں، عمران بن حطان کی سلفیت صرف خارجی عورت سے شادی کی وجہ سے داؤ پر لگ جاتی ہو، ایوب السختیانی رحمہ اللہ بدعتی کے شبہات سے اپنی سلفیت پر خوف کھاتے ہوں اور اس کا سوال سننے کو بھی تیار نہ ہوتے ہوں، اور امام دار قطنی رحمہ اللہ کا صرف ایک بوسہ لوگوں کی سلفیت کیلئے قاتل بن جاتا ہو تو ایسے میں بعض اہل حدیث علماء وطلاب علن کا مولانا وحید الدین خان کی تعریف کرنا کیا اہل حدیث عوام کی اہل حدیثیت کیلئے خطر ناک نہیں؟
اہل حدیث علماء کرام اور طلبہ علم سے ادبا سوال ہے کہ: جب عوام مولانا وحید الدین خان کے افکار مسمومہ کو "رسالہ” میں پڑھے گی تو کیا آپ ہر عام آدمی کے پاس جاکر انہیں کہیں گے کہ فلاں مہینے کے فلاں شمارے میں مولانا وحید الدین خان نے فلاں عقدی یا منہجی غلطی کی ہے اس لئے آپ لوگ ہوشیار رہیں؟
اور بفرض محال مان بھی لیا جائے کہ آپ فردا فردا ہر شخص کو منع کریں گے تو کیا ضروری ہے کہ وہ آپ کے منع کرنے سے باز ہی آجائیں، یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ مولانا کی باطل فکر انہیں آپ کی بات سے زیادہ اچھی لگے اور پھر وہ اسی میں بہہ جائیں، کیوں کہ عوام تو یہ دیکھے گی کہ مولانا وحید الدین خان کے مقابلے میں تو یہ کچھ بھی نہیں، اور یہ خود مولانا کی تعریف کرتا ہے، آج کے اس کے من کے خلاف کوئی بات ہوئی تو مولانا جیسی ہستی پر یہ انگشت نمائی کر رہا ہے!!!
اب یہ بتائیں کہ کس کی اہل حدیثیت کمزور ہے اور کس کی مضبوط ہے؟
معزز قارئین: یہاں صرف تعزیت کرنے کی بات نہیں ہے، یہاں آپ ایک ایسے شخص کی تعریف میں رطب اللسان ہیں جس نے بعض اسلامی مسلمات کا انکار کیا ہے، جس نے دینِ نصاری کے بعض اجزاء کو دینِ اسلام کے مقابلے بہتر سمجھا ہے، اس نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لائق ہی نہیں سمجھا کہ عالم انسانیت کیلئے کامل اسوہ ہوں، جب آپ ایسے شخص کی تعریف فرمائیں گے تو آپ کے سامعین، ناظرین، مشاہدین، معقتدین اور متبعین آپ کے اس عمل کو ملاحظہ بھی کریں گے، اور وہاں سے یہی پیغام لے کر جائیں گے کہ اگر مولانا وحید الدین خان غلط ہوتے تو فلاں اہل حدیث عالم ان کی تعریف نہیں کر رہے ہوتے؟؟
اور پھر آپ کی اگلی نسل شاتم رسول کے دفاع میں کھڑی نظر آئے گی، اور مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کی پیٹھ تھپتھپاتی نظر آئے گی.


