آج پھر ایک بد طینت ماہ مبارک کی حرمت کو پامال کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے فیصلے پر اعتراض کرتا ہوا نظر آیا، اس خبیث القلب نے قرآن کی ان آیات پر کبھی گفتگو نہ کی جن میں نبی اکرم ﷺ کے حکموں کی خلاف ورزی -خواہ دینی امور میں ہو یا دنیوی- پر سخت سزائیں سنائی ہیں.
ملاحظہ فرمائیں یہ آیت:
((وما كان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى الله ورسوله أمرا أن يكون لهم الخيرة من أمرهم، ومن يعص الله ورسوله فقد ضل ضلالا مبينا)) {سورة الأحزاب: ٣٦}
ترجمہ: جب اللہ اور اس کے رسول کسی بھی معاملہ میں کوئی فیصلہ سنا دیں پھر کسی مومن مرد وعورت کیلیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی رائے پر عمل کرے اور جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول کی نا فرمانی کرے گا یقینی طور پر وہ کھلی ہوئی گمراہی کا شکار ہوگا.
حجیت سنت پر کئی ایک ناحیے سے استدلال:
1. اللہ رب العالمین نے خود کے اور اپنے نبی ﷺ کے فیصلے کو ایک ساتھ جمع کیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ جس طرح اللہ کے فیصلوں کو ماننا لازم ہے اسی طرح نبی اکرم ﷺ کے فیصلوں کو بھی ماننا لازم ہے.
2. اللہ رب العالمین نے "أمرا” نکرہ لفظ استعمال کیا ہے اور نکرہ عموم پر دلالت کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ معاملہ دین کا ہو یا دنیا کا سب میں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کو یکساں طور سے ماننا ہے.
غور طلب امر ہے کہ جب دنیوی معاملے میں بھی نبی اکرم ﷺ کے فیصلے سے انحراف کے گنجائش نہیں ہے تو دینی معاملات میں کیسے ممکن ہے؟
3. اللہ رب العالمین نے دونوں (اپنے اور اپنے نبی) کے قول کی حجیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کے حکموں پر عمل کرنا یکساں طور پر واجب ہے لہذا دونوں میں سے کسی ایک کا فیصلہ آجانے کے بعد کسی مسلمان کیلیے کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ وہ اس میں اپنی رائے نکالے.
4. آیت کے پہلے حصے میں غور کریں! اللہ رب العالمین نے مومنوں کو مخاطب کیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ آگے بیان شدہ امر کی مخالفت ایمان پر سوال کھڑا کرے گا.
5. اور آیت کے آخری حصے میں اللہ رب العالمین نے دو ذات کی نافرمانی کا تذکرہ کیا ہے اور دونوں کی نافرمانی کا حکم بھی یکساں رکھا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ جس طرح اللہ کے حکموں کی خلاف ورزی نافرمانی میں داخل ہوگی اسی طرح اللہ کے رسول کے حکموں کی خلاف ورزی بھی نافرمانی میں داخل ہوگی.
6. اللہ رب العالمین نے دونوں اپنے یا اپنے رسول کے حکموں کی مخالفت کرنے والوں پر گمراہ ہونے کا حکم لگایا ہے.
لہذا جو کوئی بھی اس جمع شدہ امر کو الگ الگ کرنے کوشش کرے گا اور رسول ﷺ کی بات بات کو قبول کرنے میں تامل کرے گا یا نبی اکرم ﷺ کے فیصلے پر معترض ہوگا یا ان کے فیصلے کو ٹھکراتے ہوئے اپنی رائے بیان کرے گا ایسا شخص قرآن کی رو سے گمراہ ٹھہرے گا.
اور حالت حیض میں روزہ نہ رکھنے کا حکم اور فتویٰ نبی اکرم ﷺ کا ہے جیسا کہ صحیح مسلم (ج: 1، ص: 265) اور دیگر کتب احادیث میں ہے.
لہذا اس فیصلے کا معترض بحکم قرآن گمراہ ٹھہرے گا.
رہا احتلام کا مسئلہ تو یہ سوال کم علمی کی دلیل ہے کیونکہ جس طرح مردوں کو احتلام آتا ہے اسی طرح عورتوں کو بھی آتا ہے اور جس طرح خود سے احتلام آجانے سے مردوں کا روزہ نہیں ٹوٹے گا اسی طرح عورتوں کا بھی نہیں ٹوٹے گا.


