مدینہ میں ماہ رمضان گذارنا ایک ایسی لذت کا احساس دیتا ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا، عجب سی پر نور فضا اور روحانی ماحول کا سماں ہوتا ہے، آپ اگر عصر کے بعد مسجد نبوی میں جا رہے ہوں تو مسجد سے تین سو میٹر دور سے ہی روزہ داروں کو افطار کرانے کا انتظام ہوتا ہے، کہیں "البیک” والے نے انتظام کیا ہوتا ہے، تو کہیں "راجحی” والے نے، کہیں باد شاہ کی جانب سے تو کہیں مدینہ کے کسی صاحب ثروت کی جانب سے، اور ہر دسترخوان والا یہی چاہتا ہے کہ تمام لوگ میرے دسترخوان پر آجائیں، وہ آپ کو اپنے دسترخوان پر ایسے بلائیں گے جیسے کہ آپ کے بنا ان کا دسترخوان ادھورا رہ جائے گا، آگے بڑھ گلے لگائیں گے، آپ سے گذارش کریں گے کہ آجاؤ میرے دسترخوان پر، اگر آپ اس کے اصرار کے باوجود معذرت کریں گے تو وہ افسردہ ہوکر کہے گا کہ کیا مجھے اجر وثواب حاصل کرنے کا موقع نہیں مل سکتا؟
بہر حال مدینہ میں ہمارے ایک دوست ہیں ابراہیم الرحیلی (ہمارے ایک شیخ بھی اسی نام سے مشہور ہیں جو عقیدے کے ماہرین میں سے ہیں) وہ بھی ماہ رمضان میں اپنے افطار کا دسترخوان مسجد نبوی کے داخلی حصہ میں باب رحمہ کے قریب لگاتے ہیں، جامعہ اسلامیہ کے طالب علم سے انہیں کافی لگاؤ ہے، عمومی طور پر یہ اپنے دسترخوان پر صرف طلاب علم کو ہی بیٹھنے دیتے ہیں، البتہ بعض ایسے افراد بھی بیٹھتے ہیں جو سالوں بھر ان کے ساتھ سموار وجمعرات اور ایام بیض وغیرہ کے روزے رکھتے ہیں، ان کے دسترخوان اور دوسروں کے دسترخوان میں فرق یہ ہے کہ دوسرے دسترخوان والے ہر فرد کے لیے کھجور، پانی، بن یا بریڈ، دہی، دقہ اور قہوہ وغیرہ دسترخوان پر رکھ دیتے ہیں اور پھر اپنی جگہ جاکر بیٹھ جاتے ہیں، جبکہ ابراہیم رحیلی صاحب بہت ہی چاؤ سے اپنے مہمان کی خدمت کرتے ہیں مذکورہ تمام چیز رکھنے کے بعد جیسے ہی اذان ختم ہوتی ہے پھر سے کھجور کے ڈبے اور بریڈ کی پیکٹ لے کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور جنہیں ضرورت ہوتی ہے انہیں دوبارہ سہ بارہ بھی دیتے ہیں، اگر کوئی افطار میں نہیں آپایا تو اسے کال کرکے بلاتے ہیں، اگر اسے آنے میں لیٹ ہوا تو اس کا حصہ الگ سے نکال کر رکھتے ہیں، اگر آپ کہیں گے کہ میں آج دوسری جگہ افطار کروں گا تو شدت محبت سے کہتے ہیں کہ آج کے بعد تم میرے دسترخوان پر مت آنا لیکن کل ہوکر وہ عصر کے بعد ہی آپ کو کال کرکے بلا لیں گے.
دو رمضان سے کورونا کی وجہ سے تمام نظم ونسق درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے، مسجد نبوی میں افطار کرنا ایک خواب سا ہوکر رہ گیا ہے، گھر میں افطار تو کرتے ہیں لیکن وہ روحانی فضا میسر نہیں ہو پاتی جو تاجدار مدینہ کی مسجد میں ہوتی ہے.
لیکن ابراہیم رحیلی صاحب پچھلے رمضان میں بھی اور اس رمضان میں بھی پوری پابندی کے ساتھ اپنے دسترخوان پر بیٹھنے والے طالب علموں کی خدمت کر رہے ہیں، گذشتہ رمضان میں مدینہ میں کرفیو تھا، جیسے ہی کرفیو میں ڈھیل ہوتی تو ابراہیم رحیلی صاحب اپنی پرانی کریسیڈا میں بیض (رطب کی اعلی قسم ہوتی ہے) کا ایک ڈبہ (دو کیلو)، چار پانچ دہی کے ڈبے، پانچ پانی کی بوتلیں اور آدھا درجن بن لے کر ہر طالب علم کے گھر یا جامعہ میں پہنچ جاتے ہیں اور انہیں کال کرکے ان کا حصہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ پانچ دن کا افطار ہے، میں پانچ دن بعد پھر آؤں گا، اگر بیچ میں ضرورت پڑی تو مجھے کال کرلینا.
انہیں دیکھ کر بے ساختہ زبان سے کہہ اٹھتا ہوں کہ مدینہ والے آج بھی وہی ضیافت کا جذبہ رکھتے ہیں جو پندرہ صدی قبل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں تھا، اللہ ابراہیم بھائی کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور ان کیلئے ذریعہ نجات بنائے.
ابراہیم بھائی دعوت افطار کے ساتھ ساتھ دعوت الی اللہ کا بھی جذبہ رکھتے ہیں، ان کی انگلش کافی اچھی ہے، وہ اس کا فائدہ حج وعمرہ کے موسم میں اٹھاتے ہیں اور حجاج کرام اور زائرین کے درمیان عقیدہ توحید پھیلاتے ہیں، اکثر وبیشتر ایسا ہوتا ہے کہ اگر ہند وپاک سے کوئی حاجی ہو تو اسے اپنے دسترخوان پر بلاتے ہیں اور پھر ہم میں سے کسی کو کال کر کے انہیں سمجھانے کیلئے کہتے ہیں، جزاہ اللہ خیرا.
بالخصوص ماہ رمضان میں اگر آپ کو مدینہ میں رہنے کے باوجود مسجد نبوی جانا میسر نہیں ہوتا تو حالت اسی طرح ہوتی ہے جیسے بن پانی مچھلی، اور ایسا کیوں نہ ہو؟ کیوں کہ رحمۃ للعالمین کی مسجد جاکر ایسا لگتا ہے کہ ساری تھکاوٹ دور ہو گئی، رحمت الہی نے اپنی آغوش میں لے لیا، اطمینان وسکون کا نزول ہونے لگا، انوار کی بارش ہونے لگی، جیسے کوئی منادی آواز دے رہا ہو یا باغی الخیر اقبل، ہر طرف اس منادی کی ندا پر لبیک کہنے والے نظر آتے ہیں، کوئی قرآن کی تلاوت میں مشغول ہے، تو کوئی نفلی نمازیں پڑھ رہا ہے، کوئی اپنے رب کے سامنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر گریہ وزاری کر رہا ہے تو کوئی سجدے میں رب سے سرگوشی کر رہا ہے، ہر چہار سو عباد وزہاد کی عبادت کا الگ ہی منظر ہوتا ہے.
اللہ رب العالمین پھر سے وہی رونقیں لوٹا دے کہ بغیر کسی پابندی کے اپنی جبین نیاز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں خم کر سکیں.


